پاکستان میں جمہوریت۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 10 April 2008

پاکستان میں جمہوریت بہت زوروں پر ہے آجکل۔۔۔۔۔۔۔۔خاص کر پچھلے ایک ہفتے سے تو کیا شاندار مہذب نظارے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔۔۔۔سندھ اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں جو طوفان بدتمیزی اٹھا اس کی روک تھام کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔جیلے اقتدار کے نشے میں دھت لوگوں کی عزتوں کو یوں اچھالتے پھر رہے ہیں جیسے ہمیشہ ان کا اقتدار رہنے والا ہے۔۔۔

اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ارباب رحیم پر جس طرح کھڑکیوں‌کے شیشے توڑ کر حملہ کرنے کی کوشیش کی گئی اگلے دن نا تو ایکسٹرا پاسز کینسل کیے گئے نا ہی پہلے دن والے مجرموں کو پکڑا گیا ایک بندا اپ کے سامنے ہی پھر اپ کو کن زمہ داروں کی تلاش ہے۔۔؟اگلے دن پھر جیسے ارباب رحیم کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔مانا ان کے دور میں بہت کچھ غلط ہوا لیکن ایسا تو ان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔۔۔۔جو پی پی کے دور میں شروع کیا گیا ہے۔۔پھر لاہور میں شیر افغن کے ساتھ بھی ایسے ہی وکیلوں‌کے نام پے تشدد کیا گیا حالنکہ فوٹیجز میں‌نشاندہی کی گئی ہے کہ جو لوگ ڈاکٹر صاحب پے تشدد کر رہے تھے وہ نا تو وکیل تھے نا پولیس والے۔۔۔ان واقعات کی زمہ داری کوئی بھ قبول کرنے کو تیار نہیں۔۔۔۔ہر کسی کی طرف سے مزمتی بیانات آئے پر کام کی بات کسی نے بھی نہیں کی۔۔کیا سندھ اسمبلی مین پہلے دن کے بعد دوسرے دن غیر مطلقہ لوگوں کا داخلہ بند نہیں کیا جا سکتا تھا۔کیا لاہور میں 5 گھنٹے تک ایک کمرے میں بند رکھا گیا شیر افغن کو تو پولیس کی بھاری نفری نہیں بلائی جا سکتی تھی ۔۔۔۔سب کچھ ہو سکتا تھا اگر کوئی کچھ کرنا چاہتا تو۔۔۔۔۔انتظامیہ نے سب ہونے دیا کیوں کہ آڈر ایسے ہی تھے۔۔وکیلوں کی منزل تک پہنچی ہوئی جدوجہد کو ناصرف بدنام کیا گیا بلکے ایک طرح سے ان کا کردار بھی مشکوک کر دیا گیا ہے رہی سہی کسر ایم کیو ایم نے کراچی میں ہنگامے کروا کر پوری کر دی ہے۔۔۔۔۔پاکستانی قوم جن میں میں بھی شامل ہوں۔۔۔لگتا ہے ڈنڈے کی مار سے ہی قابو اتی ہے۔۔۔۔فوجی جب باھری بوٹوں تلے رندتے ہوئے گزر جاتے ہیں تو یہ تشدد پسند لوگ ڈھونڈنےس ے بھی نظر نہیں اتے۔کیا ایسی ہی جمہوریت کے لیے اسی آذادی رائے کے لیے پچھلے 9 سالوں سے شور کیا جا رہا تھا۔۔۔۔۔کیا اسی آزادی کے لیے 2 سال سے پاکستان میدان جنگ بنا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔ان حالات کا زمہ دار کون ہے۔پی پی ،ن لیگ یا ایوان صدر؟؟؟میرے اپنے ذاتی خیال میں زرداری نے مشرف سے مل کے یہ سب کیا کیوں کہ ان دونوں کو ججز کی بحالی پے تحفطات ہیں۔۔۔۔۔ تکہ عوام کی توجہ ججز کے مسئلے سے ہٹائی جا سکے۔۔خیر۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی تو بڑے نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔۔۔۔۔۔کہ ہم پاکستانی قوم کو کبھی بھی جمہوریت ہضم نہیں ہوتی۔لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔جہ اج اپوزیشن میں ہیں وہ کل اقتدار میں تھے اور جو اج اقتدار کے نشے میں چور لوگوں پے جوتے برسا کر اپنی خوشی ۔قومی مفاہمت کا بھر پور مظاہرہ کر رہے ہین وہ لوگ کل اپوزیشن میں بھی بیٹھیں گے کسی کا اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو انصاف کرتے ہیں انہیں کا نام رہتا ہے۔ ابھی فل حال جمہوریت نیئ نیئ آئی ہے سو سر چہڑ کے بول بھی رہی ہے لیکن اس سے پاکستان کی بہت بہت بدنامی ہو رہی ہے۔۔۔کوئی اس پے سوچتا ہی نہیں۔۔۔۔ایسے واقعات مزید نا ہی ہوں تو اچھا ہے۔۔۔

اچاری کوفتے

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 10 April 2008

قیمے میں‌ملانے کے لیے

قیمہ آدھا کلو۔۔۔۔

لہسن۔ایک چمچ

ادرک ایک چمچ
تکہ مسالہ ایک پیکیٹ

کارچ فلور 3 چمچ

تیل۔حسب ضرورت

مسالا بنانے کے لیے۔۔۔

پسی ہوئی پیاز۔۔ آدھا کپ

پسا ہوا لہسن۔۔۔ادھا چمچ

ادرک ادھا چمچ

کٹے ہوئے ٹماٹر 3 عدد

دہی۔آدھا کپ

زیرہ ایک چمچ

اچار مسالہ 3 چمچ

لال مرچ ایک چمچ

نمک حسب جرورت

تیل ادھا کپ

ہرا دھنیا

قیمہ دھو لیں پھر ا سمیں تمام اجزا ملا کر آدھے گھنٹے کے لیے رکھ دیں اور گول کوفتے بنا لیں

اب تیل گرم کریں۔۔اس میں پسی ہوئی پیاز،لہسن ادرک ڈال کر تھوڑی دیر بھونیں اب اس میں ٹماٹر بھی کاٹ کر مکس کریں اچار مسالا اور دہی ملا کر مزید کچھ دیر بھونیں پانی خشک ہو جائے تو تیار کوفتے ڈال کر دھیمی آنچ پر دس منٹ کے لیے دم پر رکھیں ڈش میں نکال کر ہرا دھنیا ڈال دیں۔۔۔۔۔

مٹر گشت

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Tuesday، 8 April 2008

اس ہفتے یونہی خیال آیا کہ گرمی کی آمد آمد ہے تو کیوں نا گرمی شروع ہونے سے پہلے ایک چکر باہر کا لگا لیا جائے کہ پھر تو کسی گارڈن میں جانا اور جا کر دن گزارنا تو دور کی بات گھر سے قدم باہر نکالنے کو جی نہیں چاہتا۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعہ کی شام کو ہی کزن کی فیملی کی تشریف آوری ہو چکی تھی۔اور رات کو ہی طے پا چکا تھا کہ کھانے میں‌کیا بنایا جائے ۔۔۔۔۔سو صبح ہی ہم نے اٹھ کر کھانے کی تیاری شروع کی کہ 10 بجے تک نکلنے کا ارادہ تھا۔۔۔۔۔۔رات کا طے کیا ہوا کھنا بنانے میں ڈیڑھ گھنٹا لگا اور ہم نے مصالحے دار بریانی۔۔۔ چنے چاٹ سویاں۔رائتہ بنا لیا۔۔۔۔باسکٹ سیٹ کی تو کچھ پھل بھی رکھ لیے کہ باہر جا کے معمول سے زیادہ بھوک لگتی ہے۔۔۔۔۔ ہلکا پھلکا ناشتہ کر کے نکل پڑے۔ طے ہوا کہ سیدھا گارڈن نہیں جایا جائے گا، اس سے پہلے کچھ مٹر گشت کی جائے گی۔ہم جو 2 گاڑیوں میں سوار تھے شیخ زید روڈ پر جا نکلے کہ ہمارا ارادہ لانگ ڈرائیونگ کے ساتھ ساتھ نیو دبئی بھی دیکھنے کا تھا۔۔۔گھومتے گھومتے ہم بج العرب بھی جا نکلے وہاں کچھ فوٹو گرافی بھی کی پھر کسی نے آئیڈیا دیا کہ ایمریٹس ہلز جایا جائے۔۔۔۔۔۔تو ہم وہاں بھی گئے۔۔۔۔ دیکھ کے حیرانی بھی ہوئی اور افسوس بھی۔۔۔ حیرانی اس لیے کہ عام انسان کی سوچ سے بھی پرے کی جگہ تھی رہنے کے لیے اور افسوس اس لیے کہ بے نظیر کا گھر بھی وہاں ‌ایمریٹس ہلز میں ہے کہ کس طرح پاکستانی کی لوٹی ہوئی دولت سے عیاشیاں کی جاتی ہیں، خیر اس پر بعد میں‌بات ہو گی۔۔۔۔ہمیں 2 گھنٹے گزر چکے تھے گھومتے ہوئے تو واپسی کی راہ لی۔۔۔۔۔۔ واپسی پر ہم ایل فلنگ اسٹیشن پر رکے کچھ پیٹ پوجا کے لیے۔۔۔تو ایسے میں بزرگوں والی گاڑی کہیں آگے نکل گئی اور ہم نے انہیں کافی دیر کے بعد بتایا کہ ہم تو یہاں رکے ہوئے ہیں ۔۔۔خیر ہمیں‌ممظار پارک کا پتا تھا کہ وہاں جانا ہے تو ہم بھی کچھ ہی دیر بعد پہنچ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ بزرگوں کے پاس بس چٹائی ہی تھی باقی سامان ہمارے پاس تھا۔۔۔۔۔۔۔۔وہاں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں بہت مزہ آیا۔۔۔۔۔۔چاٹ کھا کے ہم نے کرکٹ‌کھیلی ۔۔۔۔۔۔سایئکلنگ کی۔۔اور بیڈ منٹن بھی کھیلی۔۔۔ ۔پاکستان سے چھٹیوں‌کے لیے آیا ہوا میرا بھتیجا انتہائی چیٹر ثابت ہوا۔ کتنی بار صاف درخت کو بال لگی پر اس نے آؤٹ نہیں‌منا تو ہم واک اؤٹ کرتے ہوئے سمندر کے پانی میں چلے گئے۔ وہ بھی پیچھے بھگا بھاگا آ پہنچا پھر جو ادھم مچایا گیا پانی میں‌کہ سمندر بھی ہمارے وہاں سے جانے کی راہ دیکھتا ہوگا۔۔۔ہاہاہا

ممظار پارک بہت خوبصورت صاف ستھرا سمندر کے کنارے بنا ہوا ہے جس میں سائکلز بھی لی جا سکتی ہیں کرائے پر اور ٹرین میں‌بیٹھ کے بھی پارک کا چکر لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بار بی۔کیو کے لیے بھی جگہ جگہ پوائنٹ بنے ہوئے ہیں۔ ہر لحاظ سے پکنک کے لیے بہترین ہے۔

3 بجے کھانا کھایا۔۔۔۔ بیٹھ کے پرچیوں والی گیم کھیلی۔۔۔۔ چائے پی، بہت سی اوٹ پٹانگ باتیں کیں۔۔ ٹرین پر بیٹھ کے پورے پارک کا چکر لگایا کہ پیدل اتنا نہیں چلا جاتا تھا۔۔۔ شام 6 بجے گھر کی راہ لی۔۔۔۔۔۔ سب بہت تھکے ہارے تھے ہم سمیت۔۔۔ اور مجھے یاد نہیں کہ کتنے لمبے عرصے بعد تھکاوٹ سے مجھے رات 10 بجے ہی نیند آگئی۔ یوں انجوائے منٹ سے بھر پور دن پوری تھکاوٹ کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ اب یہ دن بہت مہینوں بعد آئے گا یہاں گرمی شروع ہوا ہی چاہتی ہے۔ پھر کس کی ہمت کہ باہر نکلے۔
001

002

003

004

کھٹے آلو۔۔۔۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Wednesday، 2 April 2008

آلو (کیوب ابال لیں)۔۔۔۔۔۔۔آدھا کلو

املی کا پیسٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ آدھی پیالی

رائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑی سی

کڑی پتا۔۔۔۔۔۔3/4

ثابت گول مرچ۔۔۔۔۔۔۔۔5/6

پیاز۔۔۔۔باریک کٹی ہوئی2عدد

ہلدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑی سی

دھنیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک چمچ

لال مرچ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک چمچ

سفید زیرہ پیس لیں۔۔۔۔ایک چمچنمک حسب ذائقہ

ترکیب۔۔۔۔۔
تیل میں پیاز فرائی کر لیں۔۔۔پھر اس میں گول مرچ،کڑی پتا،رائی ڈال کر تھوڑا سا بھونیں۔۔۔۔پھر تمام مسالے ڈال کر تیل الگ ہو جانے تک بھونیں۔۔۔۔۔پھر ابلے ہوئے آلو اور املی کا پیسٹ ڈال کر 5 منٹ دم پے رکھیں ۔۔ہرا دھنیا ،گرم مسالہ ڈال کر پراٹھوں یا نان کے ساتھ سرو کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک سانحہ جو زندگی میں‌آیا اور ٹہر گیا۔۔۔۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 31 March 2008

31 مارچ:: جاتی ہوئی سردیوں کی ایک ٹھنڈی صبح۔جب میں صبح ایکبار آٹھ کے دوبارہ سونے کی کوشیش میں تھی کہ پچھلے بہت دن سے پتا نہیں‌کیوں‌رات میں نیند بار بار کھل جاتی تھی کچھ تو ایسا تھا جو برا ہونے والا تھا ،،،ایسا کیا تھا جو میری سمجھ میں‌نہیں‌آرہا تھا۔۔۔۔۔۔۔3 دن پہلے بھی امی سے زکر کیا کہ رات کو نیند بار بار کھل جاتی ہے۔۔۔۔خیر صبح میں سونے کے لیے لیٹی ہی تھی کہ دبیئی سے کزن کا فون آیا۔۔۔۔۔میںنے معمول کی کال سمجھ کے لیٹے لیٹے ہی اٹینڈ کی۔پوچھا “کیا کر رہی ہو،میں نے کہا سونے لگی ہوں۔۔۔۔۔میرے چچا زاد نے دھیمی آواز میں کہا اس کا مطلب تمہیں نہیں پتا”۔۔۔۔۔اس کی اواز میں ایسا کچھ تھا کہ میں‌جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔۔۔میں نے کہا کیا نہیں پتا؟ اس کے بعد میرے چچا زاد نے جو کچھ بتایا وہ ہوش اڑانے کے لیے کافی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

“چچا کا انتقال ہو گیا”۔۔۔۔۔۔۔میرا پہلا سوال تھا کس کے چچا؟میرے یا آپ کے۔۔۔۔۔۔۔۔تب اس کا جواب سن کے حقیقتنا پیروں کے نیچے سے ناصرف زمین نکل گئی بلکہ سر سے اسمان بھی اٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔کہ میرے والد کا چند لمحے پہلے انتقال ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی رات کو ہی تو بات ہوئی تھی گاؤں گئے ہوےتھے چند دن کے لیے ابو نے کہا تھا کہ 2 دن بعد آیئں‌گے۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔میں نے سب سے پہلے اپنے ابو کا ہی نمبر ڈائل کیا۔۔۔تب موبائل ابو کی پاکٹ میں تھا بیل بجتی رہی فون اٹینڈ نہیں ہو رہا تھا ہوتا بھی کیسے۔۔۔۔کہ فوں‌اٹھانے والے ہاتھ سکن ہو چکے تھے ہیلو کہنے والی اواز خاموش ہو چکی تھی۔۔۔پھر ایک کے باد ایک انے والی کال نے میرے شک کو شک نہیں رہنے دیا لمحہ بہ لمحہ یقین ہوتا گیا اپنے کانوں پے کہ جو کچھ سنا میں نے وہ غلط نہیں سنا۔۔۔۔پھر بھی دل سے 100 دلیلیں آیئں پر سب بے کار۔۔۔۔۔۔ اج سے 4 سال پہلے اج ہی کے دن میرے ابو ہمارا ساتھ ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے تھے۔۔۔۔۔مجھے اور میری بھابی کو اسلام آباد سے ہمارے گاؤں پہنچنے کے بیچ کا رستہ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ راستوں‌پے دھول اڑتی محسوس ہو رہی تھی۔یوں لگتا تھا ہنستے بستے شہر ویران ہو گئے ہوں۔۔۔کچھ بھی نا بچا ہو۔۔۔۔۔اچانک کوئی اپ کی سب سے عزیز ہستی آب سے دور بہت دور چلی جائے تو سمجھ میں نہیں اتا رویئں اس پر یقین کریں یا خود کو فریب دیں‌کہ نہیں ایسا نہیں ہوا۔۔۔۔ابو کے پاس پہنچنے تک میرا ایک انسو نہیں گرا۔۔۔۔۔۔۔خود فریبی سی تھی کہ نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔پر سامنے پڑی ابو کی ڈیڈ باڈی نے ایک ہی لمحے ًمیں سارے میرے سارے شکوک پر یقین کی مہر لگا دی۔۔۔۔۔مٰن نے کبھی اپنے اپ کو اتنا بے بس محسوس نہیں کیا جتنا اس دن کیا تھا۔۔۔۔۔تقدیر مجھ سے راتوں کی نیند چھین کے کسی انہونی کا اشارہ دے رہی تھی میں ہی نادان سمجھ نا سکی ۔۔۔۔تقدیر مجھ سے کہہ رہی تھی کہ سومت اٹھ کہ کوئی تم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑنے والا ہے اور میں غفلت کی نیند سوتی رہی۔۔۔۔۔آج 4 سال بعد بھی مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ واقعہ ابھی رونما ہوا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی بھی دل کا درد ویسے کا ویسا تازہ ہی لگتا ہے بیٹیاں والد کیے بعد کتنا اپنے اپ کو بے سائبان محسوس کرتی ہیں میں بھی ویسا ہی محسوس کرتی ہوں کہ لڑکی کی پہلی محفوظ پناہ گاہ اس کے والدین ہوتے ہیںکبھی کبھی خیال اتا ہے کہ ہماری زندگیوں میں کتنے ہی ایسے لمحے اتے ہیں گزر جاتے ہیں کتنے سانحے رونما ہوتے ہیں اور وقت کی دھول انہیں ہمارے زہنوں میں سے محو کر دیتی ہے پر کچھ سانحے اتے ہیں اور آ کے ٹھر جاتے ہیں کبھی محو نہیں ہوتے حتٰی کہ وقت کی دھول سے دھندلاتے بھی نہیں روز اول کی طرح تازے رہتے ہیں یہ ایسا ہی ایک سانحہ تھا جو اج بھی ہمیشہ کی طرح نیا ہی لگتا ہے جیسا ابھی ہوا ہو۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔بس خیال اتا ہے کہ۔۔۔

عمر بھر آپ کی آغوش میں ہم پلتے رہے
ہوئے جب خدمت کے قابل تو آپ چل دیے۔۔۔۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ میرے والد کو جنت کی ٹھنڈی چھاؤں میں جگہ دے۔۔۔۔اللہ انہیں جنت کے محلوں میں سے ایک محل عطا کریں۔۔آمین۔۔۔۔۔۔۔

افغانی پلاؤ

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 24 March 2008

چاول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک کلو

بکرے کا گوشت ۔۔۔۔ایک کلو

ادرک ،لہسن پیسٹ ۔۔۔۔۔2 چمچ

پیاز۔۔2کٹی ہوئی

ٹماٹر۔۔۔۔2 عدد

ہری مرچ۔۔۔۔۔۔4 کٹی ہوئی

نمک۔۔۔۔حسب ذائقہ

لونگ 4 عدد

بادام 10/15

کشمش۔۔۔۔چند دانے

تیل ۔پکانے کے لیے۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ترکیب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاول بھگو دیں اور گوشت کو 4 کپ پانی ڈال کر گلا لیںگوشت الگ رکھ لیں۔۔۔۔۔۔اب تیل میں پیاز ڈال کر برؤاں کر لیں پھر اس میں‌لہسن ادرک ڈال کر بھونیں۔۔۔ٹماٹر،نمک،ہری مرچ،لونگ،لال مرچ بھی شامل کر دیں۔پھر اس میں گوشت یخنی سمیت ڈالیں اورایک ابال انے تک ڈال کر پکایئں۔۔۔پانی خشک ہو جائے تو۔دم پے رکھنے سے پہلے۔۔بادام چھلکے اتار کے،اور کشمش ڈال دیں اور 10/15 منٹ کے لیے دم پے رکھیں ۔۔رائتے کے ساتھ سرو کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بادامی قورمہ

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Sunday، 23 March 2008

بکرے کا گوشت بنا ہڈی کے۔۔۔۔۔۔۔ایک کلو

دہی ۔۔ایک کپ

لال مرچ ثابت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔4 عدد

خشک دھنیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2 چمچ

زیرہ۔چائے کا ایک چمچ

الائچی۔6 عدد

ادرک لہسن۔2 چمچ

تیل ۔ایک کپ

پیاز باریک کٹی ہوئی۔۔۔3 عدد

نمک۔۔۔حسب زائقہ۔۔

بادام۔۔۔10/15 چھلکہ اتار کے 2 ٹکرے کر لیں۔۔۔۔۔۔۔

ترکیب۔۔۔۔۔۔۔

سب سے پہلے تیل میں پیاز براؤن کریں اور کاغذ پر نکال لیں۔۔۔اب گوشت دھو کر پیالے میں ڈالیں اس میں دہی،ادرک لہسن،گرم مسالہ،لال مرچ ڈالیںاب مسالہ میلا ہوا گوشت تیل میں ڈال کرساتھ ہی پیاز ڈال کر ہلکی آنچ پر پکنے دیں۔۔جب گوشت کا پانی خشک ہو جائے تواتنا پانی ڈالیں جس میں‌گوشت گل جائے۔۔اس کے بعد الائچی۔زیرہ پیس کر ڈالیں اور بادام ڈال کر 10 منٹ کے لیے دم پر رکھ دیں۔۔۔چولہ بند کرنے سے پہلے براؤن کی ہوئی پیاز چورا کر کے ہرے دحنیا کے ساتھ ڈالیں ۔۔۔۔لیں جی بادامی قورمہ تیار ہے بنایئں تو مجھے بھی بھجیں۔۔۔۔

سیخ کے بالائی دار کباب

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Saturday، 8 March 2008

قیمہ باریک پسہ ہوا۔۔۔۔2/1 کلو

گرم مسالہ ۔۔۔ایک چمچ

ادرک ایک چمچ

پیاز 2 درمیانی

ہری مرچ۔۔3 عدد

ہرا دھنیا/پودینا۔۔۔

گھی آدھا پاؤ

نمک لال مرچ حسب زائقہ

سب سے پہلے قیمہ باریک پیس لیں پھر اس میں سارے مصالے ملا لیں۔۔۔ساتھ ہی بالائی اور آدھا گھی بھی شامل کر لیں۔۔۔۔کچھ دیر کے لیے رکھ دیں

اب سیخوں پر چڑھایئں اور دہکتے ہوئے کوئلوں پر پکا لیں ساتھ تھوڑا تھوڑا گھی بھی ٹپکاتے جایئں۔۔۔دہی کی ہری چٹنی کے ساتھ سرو کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انڈین گانے اور ہم۔۔۔۔۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Wednesday، 5 March 2008

بہت دن سے سوچ رہی تھی اس موضوع پر کچھ لکھنے کے لیے لیکن پھر کسی نا کسی وجہ سے رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔

میں بلاگ کے سارے ممبران کی توجہ اس اس بہت اہم مسئلے کی طرف دلانا چاتی ہوں۔۔جیسے کہ اج کل گانے آرہے ہیں ہم نا صرف سنتے ہیں بلکے بعض اوقات گنگناتے بھی ہیں۔۔۔۔ہم انجانے میں ایک بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔۔۔۔

اب جیسے کہ ایک بہت بڑی ہٹ فلم “ام شانتی “کی بات کی جائے یا پھراس کا یہ ٹایٹل گانا۔پھر بھول بھلیاں کا۔ہرے رام۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہمیں صرف اسلام کی ہی نہین دوسرے مزاہب کے بارے میں بھی ضروری معلومات ہونی چاہیں۔ہرے رام کی اہمیت ہندو مذہب میں ایسی ہی ہے جیسی اہمیت ہمارے مذہب میں ہمارے نزدیک کلمہ ہے۔۔۔۔۔۔۔جب کہی ہرے رام گنگناتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہو گا کہ وہ رام یعنی بھگوان کو ماننے کا اس پے یقین رکھنے کی بات کہ رہا ہے۔استغفراللہ۔۔

اس کے علاوہ بھی اگر ہم دوسرے گانوں کی بات کریں۔تو بہت سے الفاظ ،گانوں کے بول ایسے آرہے ہیں کہ سن کر ہی ہم کفار کے ساتھ اس گناہ کبیرہ میں برابر کے شریک ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔ان اینڈین گانوں کے بول ہمارے اعتقاد کے مطابق ہتک آمیز ہیں جب ہم ڈنمارک کے ملعونون کی بات کرتے ہیں تو ایسے گانے لکھنے اور گانےو الوں‌کے بارے میں بھی ہمیں کم از کم اپنا طرز عمل بدلنا چاہیے۔۔۔۔۔۔ جیسے کہ یہ گانا “سانوریا “فلم کا اکثر و بیشتر سنائی دیتا ہے۔۔۔
جب سے تیرے نینا
میرے نینوں سے
لگے رے
تب سے دیوانہ ہوا
سب سے بے گانہ ہوا
رب بھی دیوانہ لگے رے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب اس گانے کو سن کے کیا ہم گناہ نہیں کر رہے۔۔۔۔۔۔نعوزباللہ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی اب ایک لڑکی سے انکھیں ملا کے اللہ بھی دیوانہ ہونے لگا۔۔۔استغفراللہ۔۔

ایسے گانوں کے لکھنے والے گانے والے غیر مسلم ہیں لیکن ہمیں ایسے گانے سننا تو دور اپنے آس پاس بجنے سے بھی حد درجہ اخیتاط کرنی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور بھی بہت سے ایسے گانے مختلف وقتوں میں اتے رہے لیکن ہم میں سے کسی نے اس بارے میں‌بات نہیں کی نا ہی کسی قسم کی ناگواری کا اظہار کیا۔۔۔۔۔بہت پہلے یہ گانا آیا تھا۔۔۔۔

۔حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے
خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانے (نعوذ باللہ)۔۔۔۔۔۔۔بعض اوقات ہم ایسی باتوں‌پے ہنگاما کھڑا کر دیتے ہیں جو بظاہر ہنگامہ کرنے لائق ہوتی نیں اور ہم اپنے آس پاس نظر ڈالنے کی فرصت نہیں‌رکھتے۔۔۔کسی گیت میں خدا کے نام واہیات باتیں منسوب کی جاتی ہیں اور کہیں عام انسانوں کو خدا کا رتبہ دیا جاتا ہے۔۔۔۔ایسے بہت سے گیت ہمیں کفر سے قریب تر کرتے جاتے ہیں۔۔۔۔۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں شرک جیسے ظلم سے بچائے اور گناہ کبیرہ کرنے سے اپنی پناہ میں‌رکھے۔آمیں۔۔

چمن کڑاہی۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 3 March 2008

میری پہلی آزمودہ ڈش۔۔۔۔۔۔۔

“”"”اجزا”"”

گوشت ران کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک کلو

ٹماٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک کلو

ہری مرچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔8 عدد

لال مرچ۔۔۔۔۔۔۔چائے کا ایک چمچ

نمک۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسب ضرورت

ادرک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک چمچ

مکھن۔۔۔۔۔۔آدھا پاؤ

ترکیب

گوشت ابال لیں ٹماٹروں کا پیسٹ بنا کر گوشت میں ڈالیں ساتھ نمک لال مرچ بھی ڈال دیں جب پانی خشک ہو جائے تو مکھن،ہری مرچ اورادرک بھی ڈال دیں اور 10 منٹ کے لیے دم لگا دیں۔پھر ہرا دھنیا ڈال دیں

گرما گرم کڑاہی تیار ہے


جملہ حقوق بحق منفرد محفوظ ہيں.