ٹیگنگ۔۔۔۔۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Sunday، 22 June 2008

ٹیگنگ کا جو سلسلہ جہانزیب نے شروع کیا بہت اچھا ہے۔۔۔مجھے ساجد اقبال نے ٹیگ کیا ہے اور میں اگے کچھ لوگوں کو دعوت دوں گی کو وہ بھی اس سلسلے میں شامل ہو کے جہانزیب کی ایک اچھی کاوش کو کامیاب کرنے میں مدد کریں۔۔۔۔

1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟

کسی بھی رنگ کی نہیں میں سخت سردی میں بھی جرابیں نہیں پہنتی

2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہنے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟

کچھ بھی نہیں سن رہی۔

3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟

ابھی صبح کے ناشتے میں ایگ سینڈوچ اور چائے پی۔۔۔

4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟

“جب وی میٹ” دیکھی تھی ٹی وی پے ہے لگی تھی

5) آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟

معاف کر دینا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے جو سزا دینے پر قادر ہو۔۔۔(حضرت علی)

6) کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟

کمپیوٹر پے تھی اخبار پڑھ رہی تھی

7) کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟

حضرت عمر فاروق سے مجھے ان سے انتہائی عقیدت ہے۔۔

غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟

ٹی وی دیکھتی ہوں

9) فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟

بھائی سے کچھ دیر پہلے۔۔۔10)

آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟

عید۔۔۔۔ عید پے بہت مزہ اتا ہے اور ہمارا مسلمانوں کا یہی بڑا تہوار ہے

اب میں فلحال دو لوگوں کو ٹیگ کر رہی ہوں پھر اپڈیت کر دوں گی۔ خرم شہزاد کو اور عمار کو

رم جھم برسا پانی

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 7 January 2008

آہا آخر کو ہم نے بھی پورے ایک سال بعد بارش کے درشن کر ہی لیے۔۔۔گلف کے گرما گرم موسم کا کس نے نہیں سنا ہو گا۔جو کوئی مئی سے نومبر کے بیچ دبئی لینڈ کرتا ہے اسے تو یہی لگتا ہے دبئی والے تندور دھکا کے لوگوں کا استقبال کرتے ہیں مگر انہیں کیا پتا دبئی کے رہائشی خود گرمی کے ہاتھوں پریشان رہتے ہیں۔۔یہاں کی گرمی اف اللہ اچھا بھلا انسان ہر وقت تیوری چڑھاے رہتا ہے۔۔کبھی کبھی مجھے خود بھی لگتا ہے کہ وقت سے پہلے میرے ماتھے پر لکیریں پڑتی جا رہی ہیں ارے یہ لکیرین وہ سوچ والی لکیریں نہیں ہیں یہ تو گرمی سے ہر وقت اصاب تنے رہتے ہیں وہ لکیریں ہیں۔۔۔۔۔۔چلیں چھوڑین لکیروں کو کل کچھ ہوا یوں کہ۔۔۔۔۔۔صبح سے ہی دھوپ نہیں نکلی ٹھنڈی ٹھار ہوا چل رہی تھی آسمان بادلوں سے بھرا پڑا تھا۔۔اور جو 10 بجے کے قریب بادل اپنی موج میں آئے تو ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی۔۔ہم بھی سب کام چھوڑ چھاڑ بالکونی میں جا لٹکے۔کہ یہاں بارش بھی کسی عجوبے سے کم نہیں۔۔۔مگر ہماری خوشی زیادہ دیر کی نہیں تھی کیوں کہ بارش تو بس درشن دے کے ہی رخصت ہو گئی تھی ہم پھر سے اپنی ناکام حسرتوں پے آنسو بہائے بغیر واپس کمرے میں آکے کمپیوٹر کے سامنے آ بیٹھے۔۔۔۔۔

رات تک اچھی خاصی سردی ہو چکی تھی صبح نماز کے لیے آٹھے تو دیکھ کے خوشگوار حیرت ہوئی کہ چھما چھم بارش برس رہی تھی ۔اف اتنی تیز بارش۔ ہمارے گھر میں سبھی ایک دوسرے کو اطلاع دے رہے تھے ‘ارے دیکھو تو کتنی بارش ہو رہی ہے” وہ تو صبح صادق تھی ورنہ یہاں متحدہ عرب امارات میں لوگ جتنے فون بارش ہونے پر ایک دوسرے کو بارش کی اطلاع دینے کے لیے کرتے ہیں اتنے تو میرا خیال ہے عید پے بھی نہیں کرتے ہوں گے۔۔ ۔پورے ایک سال بعد دیکھی تھی۔ ویسے بھی ہمیں تو بارش بھی تب جا کے نصیب ہوتی ہے جب ہم اچھی طرح بارش کے لیے ترس چکے ہوتے ہیں۔موسم سرما کی پہلی پہلی بارش خوب جی لگا کے برسی ہر طرف پانی ہی پانی نظر آنے لگا۔۔۔۔نیچے سڑک پر سے گذرتی گاڑیاںاور ان سے اٹھتے پانی کے چھینٹے بہت دل فریب لگ رہے تھے ہم نے وہاں بالکونی میں ہی کھڑے کھڑے گرما گرم چائے کا لطف اٹھایا۔۔اور سردی کے مارے پہلی بار کمبل میں دبک جانے کو جی چاہا۔۔آج تو جی خوش ہو گیا ۔۔۔رم جھم رم جھم رُم جُھم رُم جُھم بھگی بھگی رت میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس اب دعا ہے اگلی بارش جلدی آئے

خوش آمدید

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Wednesday، 7 November 2007

آب سب کو میرے بلاگ پر خوش آمدید۔۔۔مجھے لکھنا نہیں آتا بس ایک دوست کی دوستی کے تقاضے پورے کرنے کو بنا لیا۔۔۔۔اپنے بارے میں کیا لکھوں۔۔۔۔۔؟بس اتنا ہی کہ میں زینب ہوں اپنے نام کی ایک ہی ۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا


جملہ حقوق بحق منفرد محفوظ ہيں.