ہم نے کیا کمال۔۔۔۔۔۔!

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Tuesday، 15 April 2008

جی ہاں آج کے دن ہم نے بہت بڑا کمال کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ لوگ سوچ میں پڑ گئے نا ۔۔۔ابھی بتاتی ہوں ‌کہ ہم نے آج کے دن کیا تیر مارا تھا۔۔۔۔۔تو پڑھیں اور سمجھیں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہماری دادی حضور اکلوتی ہی تھیں۔ مطلب ان کا کوئی بھائی بھی نہیں تھا اور بہن بھی۔۔۔ دادا جی کی صرف ایک بہن تھیں جوعین جوانی میں‌انتقال کر گئیں۔۔۔۔۔

پھر آئے ہمارے ابا جی۔۔۔۔۔۔ ابا جی صرف دو بھائی تھے کوئی بہن نہیں‌ تھی۔۔۔۔۔ میرے تایا کی شادی میرے ابو سے بہت پہلے ہوئی کہ عمروں میں 10 سال کا فرق تھا۔۔۔۔۔ میرے تایا کے 3 بیٹے تھے (جو ہم سے بہت بڑے ہیں)

پھر ہوئی ہمارے ابا جی کی شادی ہماری امی سے۔۔۔۔۔۔۔۔

لیں ہمارے ابا جی کے بھی 3 بیٹے ہوئے۔۔۔ ہماری دادی کو بہت حسرت تھی کہ ان کی گود میں بھی کوئی لڑکی پوتی کے نام پے کھیلے کہ وہ بیٹی سے بھی محروم رہیں ۔۔۔ ایسے میں آج ہی کے دن یعنی 15 اپریل کو ہم نے قدم رنجہ فرمایا۔۔۔۔۔ دیکھیں کیا نا کمال ہم نے۔۔۔ ہاہاہاہا جی ہاں آج ہمارا یوم پیدائش ہے وہ قائد اعظم والا یوم پیدائش تو نہیں ہے پر کیا ہے کہ کم کم بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں اپنی دادی سے بہت بہت پیار ملا۔۔۔۔۔ بھائی کزنز۔۔۔۔ سب سے ۔۔۔۔ کیسے نہ ملتا؟ ہم نے کمال جو کیا تھا لڑکوں والے گھر میں پیدا ہو کے۔

یوں آج سے سالوں پہلے ہم نے اپنے گھر کو اور اس دنیا کو رونق بخشی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک سانحہ جو زندگی میں‌آیا اور ٹہر گیا۔۔۔۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 31 March 2008

31 مارچ:: جاتی ہوئی سردیوں کی ایک ٹھنڈی صبح۔جب میں صبح ایکبار آٹھ کے دوبارہ سونے کی کوشیش میں تھی کہ پچھلے بہت دن سے پتا نہیں‌کیوں‌رات میں نیند بار بار کھل جاتی تھی کچھ تو ایسا تھا جو برا ہونے والا تھا ،،،ایسا کیا تھا جو میری سمجھ میں‌نہیں‌آرہا تھا۔۔۔۔۔۔۔3 دن پہلے بھی امی سے زکر کیا کہ رات کو نیند بار بار کھل جاتی ہے۔۔۔۔خیر صبح میں سونے کے لیے لیٹی ہی تھی کہ دبیئی سے کزن کا فون آیا۔۔۔۔۔میںنے معمول کی کال سمجھ کے لیٹے لیٹے ہی اٹینڈ کی۔پوچھا “کیا کر رہی ہو،میں نے کہا سونے لگی ہوں۔۔۔۔۔میرے چچا زاد نے دھیمی آواز میں کہا اس کا مطلب تمہیں نہیں پتا”۔۔۔۔۔اس کی اواز میں ایسا کچھ تھا کہ میں‌جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔۔۔میں نے کہا کیا نہیں پتا؟ اس کے بعد میرے چچا زاد نے جو کچھ بتایا وہ ہوش اڑانے کے لیے کافی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

“چچا کا انتقال ہو گیا”۔۔۔۔۔۔۔میرا پہلا سوال تھا کس کے چچا؟میرے یا آپ کے۔۔۔۔۔۔۔۔تب اس کا جواب سن کے حقیقتنا پیروں کے نیچے سے ناصرف زمین نکل گئی بلکہ سر سے اسمان بھی اٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔کہ میرے والد کا چند لمحے پہلے انتقال ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی رات کو ہی تو بات ہوئی تھی گاؤں گئے ہوےتھے چند دن کے لیے ابو نے کہا تھا کہ 2 دن بعد آیئں‌گے۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔میں نے سب سے پہلے اپنے ابو کا ہی نمبر ڈائل کیا۔۔۔تب موبائل ابو کی پاکٹ میں تھا بیل بجتی رہی فون اٹینڈ نہیں ہو رہا تھا ہوتا بھی کیسے۔۔۔۔کہ فوں‌اٹھانے والے ہاتھ سکن ہو چکے تھے ہیلو کہنے والی اواز خاموش ہو چکی تھی۔۔۔پھر ایک کے باد ایک انے والی کال نے میرے شک کو شک نہیں رہنے دیا لمحہ بہ لمحہ یقین ہوتا گیا اپنے کانوں پے کہ جو کچھ سنا میں نے وہ غلط نہیں سنا۔۔۔۔پھر بھی دل سے 100 دلیلیں آیئں پر سب بے کار۔۔۔۔۔۔ اج سے 4 سال پہلے اج ہی کے دن میرے ابو ہمارا ساتھ ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے تھے۔۔۔۔۔مجھے اور میری بھابی کو اسلام آباد سے ہمارے گاؤں پہنچنے کے بیچ کا رستہ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ راستوں‌پے دھول اڑتی محسوس ہو رہی تھی۔یوں لگتا تھا ہنستے بستے شہر ویران ہو گئے ہوں۔۔۔کچھ بھی نا بچا ہو۔۔۔۔۔اچانک کوئی اپ کی سب سے عزیز ہستی آب سے دور بہت دور چلی جائے تو سمجھ میں نہیں اتا رویئں اس پر یقین کریں یا خود کو فریب دیں‌کہ نہیں ایسا نہیں ہوا۔۔۔۔ابو کے پاس پہنچنے تک میرا ایک انسو نہیں گرا۔۔۔۔۔۔۔خود فریبی سی تھی کہ نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔پر سامنے پڑی ابو کی ڈیڈ باڈی نے ایک ہی لمحے ًمیں سارے میرے سارے شکوک پر یقین کی مہر لگا دی۔۔۔۔۔مٰن نے کبھی اپنے اپ کو اتنا بے بس محسوس نہیں کیا جتنا اس دن کیا تھا۔۔۔۔۔تقدیر مجھ سے راتوں کی نیند چھین کے کسی انہونی کا اشارہ دے رہی تھی میں ہی نادان سمجھ نا سکی ۔۔۔۔تقدیر مجھ سے کہہ رہی تھی کہ سومت اٹھ کہ کوئی تم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑنے والا ہے اور میں غفلت کی نیند سوتی رہی۔۔۔۔۔آج 4 سال بعد بھی مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ واقعہ ابھی رونما ہوا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی بھی دل کا درد ویسے کا ویسا تازہ ہی لگتا ہے بیٹیاں والد کیے بعد کتنا اپنے اپ کو بے سائبان محسوس کرتی ہیں میں بھی ویسا ہی محسوس کرتی ہوں کہ لڑکی کی پہلی محفوظ پناہ گاہ اس کے والدین ہوتے ہیںکبھی کبھی خیال اتا ہے کہ ہماری زندگیوں میں کتنے ہی ایسے لمحے اتے ہیں گزر جاتے ہیں کتنے سانحے رونما ہوتے ہیں اور وقت کی دھول انہیں ہمارے زہنوں میں سے محو کر دیتی ہے پر کچھ سانحے اتے ہیں اور آ کے ٹھر جاتے ہیں کبھی محو نہیں ہوتے حتٰی کہ وقت کی دھول سے دھندلاتے بھی نہیں روز اول کی طرح تازے رہتے ہیں یہ ایسا ہی ایک سانحہ تھا جو اج بھی ہمیشہ کی طرح نیا ہی لگتا ہے جیسا ابھی ہوا ہو۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔بس خیال اتا ہے کہ۔۔۔

عمر بھر آپ کی آغوش میں ہم پلتے رہے
ہوئے جب خدمت کے قابل تو آپ چل دیے۔۔۔۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ میرے والد کو جنت کی ٹھنڈی چھاؤں میں جگہ دے۔۔۔۔اللہ انہیں جنت کے محلوں میں سے ایک محل عطا کریں۔۔آمین۔۔۔۔۔۔۔


جملہ حقوق بحق منفرد محفوظ ہيں.