تم میری آنکھ کے تیور نا بھلا پاؤ گے۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 14 February 2008

وصی شاہ کی یہ غزل میری پسندیدہ ترین غزل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

تم مری آنکھ کے تیور نا بھلا پاؤ گے

ان کہی بات کو سمجھو گے تو یاد آؤں گا

ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے

صفحہء زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا

اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے

خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آوں گا

میرے خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح

تم اگر خود سے نا بولو گے تو یاد آؤں گا

آج تو محفل یاراں پے ہو مغرور بہت

جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آوں گا

شال پہنائے گا کوں دسمبر میں تمہیں

بارشوں میں‌کبھی بھیگو گے تو یاد آوں گا

حادثے آیئں گے جیون میں تو تم ہو کے نڈھال

کسی دیوار کو تھامو گے تو یاد آؤں گا

اس میں شامل ہے میرے بخت کی سیاہی بھی

تم سیاہ رنگ جو پہنو گے تو یاد آؤں گا

ہی ہی ہی ہی یعنی پچھا نہیں چھوڑنا کبھی بھی ۔۔۔۔!!!

ایک لڑکی۔۔۔!

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 14 February 2008

اپنے سرد کمرے میں

میں اداس بیٹھی ہوں

نیم وا دریچوں سے

نم ہوائیں آتی ہیں

میرے جسم کو چھو کر

آگ سی لگاتی ہیں

تیرا نام لے لے کر

مجھ کو گد گداتی ہیں

کاش میرے پر ہوتے

تیرے پاس اڑ آتی

تجھ کو چھو کر لوٹ آتی

میں نہیں مگر کچھ بھی

سنگ دل رواجوں کے

آہنی حصاروں میں

عمر و زید کی ملزم

صرف ایک لڑکی ہوں۔۔۔۔۔۔۔!

اک ایسا روز بھی آئے گا!

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Sunday، 10 February 2008

اک ایسا روز بھی آئے گا

جب یاد میری دہراؤ گے

تب کچھ بھول نا پاؤ گے

تم لاکھ بھلانا چاہو گے

اک ایسا روز بھی آئے گا

جب راہ ہماری دیکھو گے

پھر گزرا وقت نا آئے گا

تم لاکھ بھلانا چاہو‌گے

اک ایسا روز بھی آئے گا

تمہیں نئے ساتھی مل جایئں گے

پر ہم تو مل نا پایئں گے

تم جب بھی آیئنہ دیکھو گے

تو عکس میرا ہی پاؤ گے

اک روز پھر ایسا آئے گا

تم صحرا صحرا بھٹکو گے

وہ گلشن ہو یا ویرانہ

پر ہم کو ڈھونڈ نا پاؤ گے

اک روز پھر ایسا آئے گا

فرض کرو!

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Saturday، 9 February 2008

فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں،فرض کرودیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں

فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی ،آدھی ہم نے چھپائی ہو

فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں

فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا،جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پے بھاری ہو

فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت ،باقی سب کچھ مایا ہو

ڈر۔۔۔!

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Saturday، 9 February 2008

محبت کی زنجیر سے ڈر لگتا ہے

کچھ اپنی تقدیر سے ڈر لگتا ہے

جو مجھے آپ سے جدا کرتی ہے

ہاتھ کی آس لکیر سے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

دکھ بولتے ہیں

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Saturday، 9 February 2008

جب سینے اندر سانس کے دریا ڈولتے ہیں

جب موسم سرد ہوا میں

چپ سی گھولتےہیں۔۔۔۔۔

جب آنسو

پلکیں رولتے ہیں

جب سب آوازیں اپنے اپنے بستر پے سو جاتی ہیں۔۔۔

تب آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتے ہیں

دکھ بولتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

میرے نام سے پہلے

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 7 February 2008

اب کے اس کی آنکھوں میں

بے سبب اداسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھی

اب کے اس کے چہرے پر

دکھ تھا۔۔۔۔۔۔۔بےحواسی تھی!

اب کے یوں ملا۔۔۔۔مجھ سے

یوں غزل سنی ۔۔۔۔۔جیسے

میں بھی ناشناسا۔۔۔۔ہوں

وہ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اجنبی جیسے

زرد خال وخد اس کے

سوگوار دامن۔۔۔۔۔۔۔۔تھا

اب کے اس کے لہجے میں

کتنا کھردرا پن تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

وہ کہ عمر بھر جس نے

شہر بھر کے لوگوں میں

مجھ کو ہم سخن ۔۔۔۔۔جانا

دل سے آشنا ۔۔۔لکھا

خود سے مہرباں سمجھا

مجھ کو دلربا لکھا

سرخ روشنائی سے

اس نے تلخ لہجے میں

میرے نام سے پہلے

صرف بےوفا لکھا

اک شخص

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 7 February 2008

پتھر تھا مگر روئی کے گالوں کی طرح تھا
اک شخص اندھیروں میں اجالوں کی طرح تھا

نہ خوابوں می طرح تھا نہ خیالوں کی طرح تھا

وہ علم ریاضی کے سوالوں کی طرح تھا

الجھا ہوا ایسا کہ کبھی کُھل نا پایا

سلجھا ہوا ایسا کہمثالوں کی طرح تھا

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Tuesday، 27 November 2007

محسن نقوئ کی یہ نطم مجھے سالون پہلے کسی نے بھیجی تھی تب یہ میری سمجھ میں نہیں ائی تھی اور جب اس کی سمجھ ائی تو وقت بہت اگے بڑھ چکا تھا۔۔۔۔۔۔
پاگل آنکھوں والی لڑکی

اتنے مہنگے خواب نا دیکھو

تھک جاو گی

کانچ سے نازک خواب تمہارے

ٹوٹ گئے تو پچھتاؤ گی

تم کیا جانو    !!!!!!

خواب ۔۔۔۔۔۔سفر کی دھوپ کے تیشے
خواب۔۔۔۔۔۔۔۔ادھوری رات کا دوزخ

خواب۔۔۔۔۔ خیالوں کا پچھتاوا

خوابوں کا حاصل تنہائی

مہنگے خواب خریدنا ہوں تو

آنکھیں بیچنا پڑتی ہیں

رشتے بھولنا پڑتے ہیں
اندیشوں کی ریت نا پھانکو

خوابوں کی اوٹ سراب نا دیکھو

پیاس نا دیکھو

اتنے مہنگے خواب نا دیکھو
تھک جاؤ گی

غزل

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Tuesday، 13 November 2007

شاعری سے سبھی کو لگاو ہوتا ہے کچھ نا کچھ مجھے بھی ہے۔۔۔۔۔۔بچپن سے ہر گز نہین کہ بچپن میں تو قومی ترانہ بھی پلے نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلی غزل “ساغر صدیقی کی۔۔۔

آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا
اپنے آجڑے ہوئے گلشن کو بہت یاد کیا

جب کبھی گردش تقدیر نے گھیرا ہے ہمیں
گیسو یار کی ایجھن کو بہت یاد کیا

شمع کی جوت پہ جلتے ہوئے پروانوں نے
اک تیرے شعلہ دامن کو بہت یاد کیا

جس کے ماتھے پے  نئی صبح کا جھومر ہو گا
ہم نے اس وقت کی دلہن کو بہت یاد کیا

آج ٹوٹے ہوئے سپنوں کی بہت یاد ائی
آج بیتے ہوئے ساون کو بہت یاد کیا

ہم سر طور بھی مایوس تجلی ہی رہے
اس در یار کی چلمن کو بہت یاد کیا

مطمئن ہو ہی گئے دام و قفس میں ساغر
ہم اسیروں نے نشیمن کو بہت یاد کیا۔۔۔۔۔۔۔


جملہ حقوق بحق منفرد محفوظ ہيں.