تم میری آنکھ کے تیور نا بھلا پاؤ گے۔۔۔
تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 14 February 2008وصی شاہ کی یہ غزل میری پسندیدہ ترین غزل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
تم مری آنکھ کے تیور نا بھلا پاؤ گے
ان کہی بات کو سمجھو گے تو یاد آؤں گا
ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
صفحہء زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا
اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے
خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آوں گا
میرے خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح
تم اگر خود سے نا بولو گے تو یاد آؤں گا
آج تو محفل یاراں پے ہو مغرور بہت
جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آوں گا
شال پہنائے گا کوں دسمبر میں تمہیں
بارشوں میںکبھی بھیگو گے تو یاد آوں گا
حادثے آیئں گے جیون میں تو تم ہو کے نڈھال
کسی دیوار کو تھامو گے تو یاد آؤں گا
اس میں شامل ہے میرے بخت کی سیاہی بھی
تم سیاہ رنگ جو پہنو گے تو یاد آؤں گا
ہی ہی ہی ہی یعنی پچھا نہیں چھوڑنا کبھی بھی ۔۔۔۔!!!
حاليہ آراء