تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 6 November 2008
18 فروری کے انتخابات کے بعد عوام کو امید ہو چلی تھی کہ اب تبدیلی کو آنےس ے کوئی روک نہیں سکتا۔۔پہلے سو دن کی کارکاردگی کے دیکھنےکے انتظار میں عوام کی امیدیں آہستہ آہستہ خت ہوتی چلی گیئں۔۔۔ اپنی کہی باتوں کو ابے کیے وعدوں کہ لفظوں کے جال میں الجھا دینے کا ماہر حکمران ٹولہ یہ کہہ کر جان چھڑوانے لگا کہ 100 دن میں کیا ہو سکتا ہے پھر مشرف کے برطرف کیئگے چیف جسٹس کو وعدوں کے مطابق بھی زرداری اینڈ کمپنی بحال نا کر سکی۔۔۔۔۔۔۔افتخار چوہدری جیسے مشرف کے حلق میں آٹکا کانٹا تھے ویسے ہی پیپلز پارٹی کی آنکھ میںبھی کھٹک تھی۔۔۔۔انہیں بحال نا کرنا مقصود تھا سو نا کیے گئے۔۔۔فاٹا کے حالات پہلے مشرف امیریکہ کی دی گئی دھمکی کہ پتھر کے زمانے میںبھیج دیے جایئں گے سنا سنا کے عوام کے سمانے دفاع کرتے رہے پھر زیادہ میڈیا میں شور ہوا تو مزائل حملوں کا الزام اپنے سر لے کے عوام کی تسلی کرواتے رہے بندا پوچھے کہ امریکہ کا ساتھ نا دینے پے ہم پتھر کے زمانے میں دھکیل دیے جاتے ساتھ دے کے کیا ہم نے چاند فتح کر لیا ہے وہی آٹے اک بحران ،وہی بجلی کی کمی،وہی مہنگائی۔۔وہی چوریاں ڈاکے وہی قتل و غارتاور اغوا،عوام تو تبدیلی چاہتے تھے تو سوال یہ ہے کہ کیا تبدیلی آئی پاکستان میں پہلے فاٹا میں صرف زمینی کاروائی تھی اب تو لڑاکا طیاروں سے اپنے ہی لوگوں پے شدید بمباری کی جا ری ہے 100 مار کے 2 بتائے جاتے ہیں۔۔اپنوںکو مار کے غیر ملکیوں کے نام لیے جاتے ہیں۔۔۔زرداری نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ حملے ہماری مرضی سے ہو رہے ہیں۔۔۔ویر دفاع نے کہا کہ۔۔۔کسی کو کچھ نظر اتا ہے تو حملے ہوتے ہیں ایک اور موقعے پے بیان کیا کہ اتنے وسائل نہیں کہ امریکہ کا مقابلہ کیا جا سکے لعنت ہے ایسے حکمرانوںپے جو صرف لفظوں سے بھی دفاع نا کر سکیئں۔۔۔
پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی نوبت آئی تو امریکہ نے صاف کہہ دیا کہ پاکستان کو فوری کوئی امداد نہین دی جائے گی اور یہ بیان پاکستان میںبیٹھ کے جاری کیا گیا۔۔۔۔کشمیر کے مسئلے پے کبھی امریکہ نے کھل کے پاکستان کا ساتھ نہیں دیا۔۔۔۔۔۔۔پھر ہمارے حکمران امریکہ کو”ناں” کیوں نہیں کہ سکتے۔۔کل ہیہمارے وزیر خذانی شوکت ترین کا بیان آیا کہ اگر عوام اپنا پیسہ باہر کے ملکوں سے پاکستان لے آیئں تو پاکستان کو قرض کی ضرورت نہیں پڑے گی بندہ پوچھے کی یہ کام زرداری کیوں نہیں کرتا بجائے ساری عوام یہ کام کرے ایک زرداری اپنا پیسہ جو کہ اس کی محنت کی کمائی نہیں بلکہ پاکستانی کی لوٹی ہوئی دولت ہی ہے واپس پاکستانی بینکوں میںلے آئے تو پاکستان کو کسی کی مدد کی ضرارت نہٰن ۔۔۔۔اب کل پہی کی خبر ہے کہ 93 سے 98 کے درمیان میں فارغ کیے جانے والے پیپلز پارٹی کے بھرتی کردہ ورکرز کو نا صرف بحال کیا جائے گا بلکے ان کو اب تک کے سارے وجبات بھی ادا کیے جایئں گے۔ایک طرف جہاںپاکستان میں اتنا شدید معاشی بحران ہے وہاںکیا ایسے فیصلوںکیضرورت ہے۔۔۔۔۔۔مشرف اور زرداری میں اتنا ہی فرق ہے کہ وہ جھوٹ بول کے اپنا اقتدار بچاتا رہا اور زرداری جھوٹ بول کے اسی اقتدار کے پانے کے لیے کوشیشیں کرتا رہا۔۔۔نواز شریف اور بے نظیر کے درمیاں ہونے والے معاہدے پکی دستاویزات ہیں جن سے پی پی اپنی ہر بات کی طرح آسانی سے مکر گئی ایسے لیڈرز جو عوام کے سمانے عدیلہ کی بحالی کا وعدہ کر کے مکر گئے وہ کیا پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے اہل ہیں۔۔۔سچ بات کہی جائے تو عوام ہی ہیئں اس سب کے قصور وار کل پھر سے اسی عوام کو چند روپے دے دیے گئے تو اپنا ووٹ خشی خشی بیچ کے قومی فرض سے فارغ ہو جایئں گے پھر رونا کس بات کا جو عوام اپنا ووٹ چند روپوں میں بیچتی ہے ان کو ایسے ہی حکمران ملتے ہیں۔۔۔
جیس تبدیلی کی امید تھی وہ تو آئی نہیں بس چہرے بدل گئے۔۔۔وعدے بھی وہی رہے حالات بھی۔۔۔وہی آٹے کے لیے لمبی لمبی لایئنیں وہی دھماکے وہی افتخار چوہدری انصاف کی تلاش میں گلیوں گلیوں گھومنے والے۔۔۔۔۔۔۔بدلاو تب آئے گا جب ہم خود کو بدلیں گے جب ہم خود کے ساتھ مخلص ہو جایئں گے پاکستان کے حالات خود بخود بدل جایئں گے۔۔۔اگر ہم یونہی ہر بار نااہل لوگوں کے لیڈر بناتے رہے نااہل لوگوں کے نام کے نعرے لاگاتے رہے تو وہ دن دور نہین جب دشمن ہمیں نست نابود کر دے گا۔۔۔اللہ پاکستان کی حفاظت کرے اور ہم پاکستانیوںکو عقل عطا کرے کے ہم اچھے برے میں تمیز کر سکیئں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 10 April 2008
پاکستان میں جمہوریت بہت زوروں پر ہے آجکل۔۔۔۔۔۔۔۔خاص کر پچھلے ایک ہفتے سے تو کیا شاندار مہذب نظارے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔۔۔۔سندھ اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں جو طوفان بدتمیزی اٹھا اس کی روک تھام کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔جیلے اقتدار کے نشے میں دھت لوگوں کی عزتوں کو یوں اچھالتے پھر رہے ہیں جیسے ہمیشہ ان کا اقتدار رہنے والا ہے۔۔۔
اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ارباب رحیم پر جس طرح کھڑکیوںکے شیشے توڑ کر حملہ کرنے کی کوشیش کی گئی اگلے دن نا تو ایکسٹرا پاسز کینسل کیے گئے نا ہی پہلے دن والے مجرموں کو پکڑا گیا ایک بندا اپ کے سامنے ہی پھر اپ کو کن زمہ داروں کی تلاش ہے۔۔؟اگلے دن پھر جیسے ارباب رحیم کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔مانا ان کے دور میں بہت کچھ غلط ہوا لیکن ایسا تو ان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔۔۔۔جو پی پی کے دور میں شروع کیا گیا ہے۔۔پھر لاہور میں شیر افغن کے ساتھ بھی ایسے ہی وکیلوںکے نام پے تشدد کیا گیا حالنکہ فوٹیجز میںنشاندہی کی گئی ہے کہ جو لوگ ڈاکٹر صاحب پے تشدد کر رہے تھے وہ نا تو وکیل تھے نا پولیس والے۔۔۔ان واقعات کی زمہ داری کوئی بھ قبول کرنے کو تیار نہیں۔۔۔۔ہر کسی کی طرف سے مزمتی بیانات آئے پر کام کی بات کسی نے بھی نہیں کی۔۔کیا سندھ اسمبلی مین پہلے دن کے بعد دوسرے دن غیر مطلقہ لوگوں کا داخلہ بند نہیں کیا جا سکتا تھا۔کیا لاہور میں 5 گھنٹے تک ایک کمرے میں بند رکھا گیا شیر افغن کو تو پولیس کی بھاری نفری نہیں بلائی جا سکتی تھی ۔۔۔۔سب کچھ ہو سکتا تھا اگر کوئی کچھ کرنا چاہتا تو۔۔۔۔۔انتظامیہ نے سب ہونے دیا کیوں کہ آڈر ایسے ہی تھے۔۔وکیلوں کی منزل تک پہنچی ہوئی جدوجہد کو ناصرف بدنام کیا گیا بلکے ایک طرح سے ان کا کردار بھی مشکوک کر دیا گیا ہے رہی سہی کسر ایم کیو ایم نے کراچی میں ہنگامے کروا کر پوری کر دی ہے۔۔۔۔۔پاکستانی قوم جن میں میں بھی شامل ہوں۔۔۔لگتا ہے ڈنڈے کی مار سے ہی قابو اتی ہے۔۔۔۔فوجی جب باھری بوٹوں تلے رندتے ہوئے گزر جاتے ہیں تو یہ تشدد پسند لوگ ڈھونڈنےس ے بھی نظر نہیں اتے۔کیا ایسی ہی جمہوریت کے لیے اسی آذادی رائے کے لیے پچھلے 9 سالوں سے شور کیا جا رہا تھا۔۔۔۔۔کیا اسی آزادی کے لیے 2 سال سے پاکستان میدان جنگ بنا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔ان حالات کا زمہ دار کون ہے۔پی پی ،ن لیگ یا ایوان صدر؟؟؟میرے اپنے ذاتی خیال میں زرداری نے مشرف سے مل کے یہ سب کیا کیوں کہ ان دونوں کو ججز کی بحالی پے تحفطات ہیں۔۔۔۔۔ تکہ عوام کی توجہ ججز کے مسئلے سے ہٹائی جا سکے۔۔خیر۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی تو بڑے نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔۔۔۔۔۔کہ ہم پاکستانی قوم کو کبھی بھی جمہوریت ہضم نہیں ہوتی۔لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔جہ اج اپوزیشن میں ہیں وہ کل اقتدار میں تھے اور جو اج اقتدار کے نشے میں چور لوگوں پے جوتے برسا کر اپنی خوشی ۔قومی مفاہمت کا بھر پور مظاہرہ کر رہے ہین وہ لوگ کل اپوزیشن میں بھی بیٹھیں گے کسی کا اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو انصاف کرتے ہیں انہیں کا نام رہتا ہے۔ ابھی فل حال جمہوریت نیئ نیئ آئی ہے سو سر چہڑ کے بول بھی رہی ہے لیکن اس سے پاکستان کی بہت بہت بدنامی ہو رہی ہے۔۔۔کوئی اس پے سوچتا ہی نہیں۔۔۔۔ایسے واقعات مزید نا ہی ہوں تو اچھا ہے۔۔۔
تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Saturday، 23 February 2008
انتخابات کے بعد اسلام آباد میں سیاسی پنڈتوں کا میلہ سا لگا ہوا ہے سیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر ہے۔۔کوئی آرہا ہے کوئی جا رہا ہے کہیں فون پے مفاحمت کی کوشیشیں کی جا رہی ہیں۔۔۔۔ایوان صدر کی حتیٰ الامکان کوشیش ہے کہ کسی طرح نواز شریف کو حکومت سازی کے عمل سے باہر رکھا جائے۔۔۔انکل مشرف جی بھر کے یہاںکی وہاںملانے میںمصروف ہیں۔۔۔۔۔کیوں کہ اسے پتا ہے زارداری کے ساتھ مشرف کی پھر بھی کچھ سال چال جائے گی جب کہ نواز شریف کے ساتھ ناممکن ہے۔۔۔اب مشرف چاچو کے پاس دو تیں آپشن ہیں۔۔۔پہلا۔۔۔پی پی ،ق لیگ۔اے این پی اور ایم کیو ایم کو ملا کے مرکز میں حکومت بنائی جائے۔۔۔ ایوان صدر کا خیال ہے کہ۔۔۔۔موکز اور چاروں صوبوں میں ایم کیو ایم،ق لیگ، اے این پی،ازاد امیدوار اور پی پی کو ملا کے مسحکم حکومتیں بنائی جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔مشرف کے پاس ایک اور آپشن بھی زیر غور ہے وہ ہے کہ نواز لیگ کو توڑ کے میاں نواز شریف کو تنہا کر دیا جائے۔۔۔۔۔پھر نواز لیگ کے ارکان کو ملا کے حکومت بنائی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔صدر کا یہ بھی خیلا ہے کہ پینجاب میں ق لیگ پی پی اور آزاد سیٹوں کو ملا کر حکومت بنائی جائے اگر ایسا ہوتا ہے توپنجاب میں اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی حکومت سازی سے محروم رہ جائے گی۔۔ اس کے علاوہ نواز اور زرداری پر امریکہ بہادر کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے تاکہ دونوں مشرف کو قبول کر لیں جو کہ اب تک کے میاں جی کے بیانات سے لگتا نہیں۔ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نواز شریف کو ایک اور آپشن بھی دیےو جانے کا امکان ہے کہ۔۔وہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے علاوہ باقی ججز کی بحالی پر آمادہ جایئں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاںتک میرا خیال ہے میاں جی کو ووٹ ہی چیف جسٹس کی بحالی کے لیے دیے گئے اب اگر ججز والے معاملے سے ایک انچ بھی ادھر ادھر ہوتے ہیں تو اگلے الیکشن میں عین ممکن ہے نواز لیگ کا حال بھی ق لیگ جیسا ہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت سب سے زیادہ عوامی دباؤ نواز لیگ پر ہے۔۔۔جہاں تک میرا خیال ہے میاں کی زرداری کے ساتھ بھی مشکل ہے چلنا۔۔۔۔۔ میرے آپشن کے مطابق۔نواز شریف کو مرکز میں کمزور وزارتیں لے کر پی پی سے پاور شیئرنگ نہیں کرنی چاہیے۔۔۔۔تعاون کرے پر بنا وزارتوں کے۔۔۔۔۔۔اور اسی طرح پنجاب میں اکیلی نواز لیگ کی حکومت ہو یہاں وہ پی پی سے تعاون لے حکومت سازی کے لیے مگر وزارتیں شیئر نا کرے تو ہو سکتا ہے ن لیگ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کمیاب ہو جائے ورنہ تو ججز والے معاملے میں ناکامی کی صورت میں ن لیگ کا مستبل بھی تاریک نظر اتا ہے۔۔۔۔۔ایسی شیئرنگ کرنے سے زرداری کے گھپلوں کی شیئرنگ سے بھی ن لیگ کی جان چھوٹے گی۔
جو اب کی بار ن لیگ ٹوٹنے سے بچ جاتی ہے جسیے کہ ٹوٹنے کی کوئی خاص وجہ نظر بھی نہیں اتی اور ججز والا معاملہ حل ہو جاتا ہے تو ن لیگ پھر کبھی الیکشن میں مار نہیں کھائے گی۔۔۔۔۔۔بہر حال جو ہتا ہے اچھے کے لیے ہی ہوتا ہے اور میری دعا ہے کہ جو ہو پاکستان کے لیے اچھا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ایک اور غصے والے تبصرے کا انتظار ہے جو کہ راہبر کرے گا اور کہے گا۔۔۔”"”۔۔تم نے پھر سے سیاست پے لکھا” ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Wednesday، 20 February 2008
18 فروری کا تاریخی دن جس دن پاکستانی قوم بہت بڑے بڑے مغرورں کا غرور خاک میں ملا دیا اور یہ ثابت کیا کہ اب وہ وقتی جذباتی تقریروں سے بہلنے والے نہیں ہیں۔۔۔ مسلم لیگ ق کی ساری کابینہ کو ان کے آبائی حلقوں میں وہ شکست ملی کہ سالوں تک یاد رکھیں گے۔۔۔۔۔یہ ہارنے والے سارے وہ لوگ ہیں جو یہ سمجھتے تھے کہ پاکستانی قوم تو ان پڑھ جاہل ہے، چند جذباتی باتیں اور چند روپے ان کے آگے پھینکے تو نعرے ہمارے ہی نام کے لگایئں گے۔۔۔ شاید یہ بھول گئے تھے کہ اب عوام باشعور ہو گئی ہے۔۔۔ اب وہ حقائق دیکھتی ہے، نہ کہ چکنی چپڑی باتوں میں آئے گی۔۔۔۔۔۔۔۔
جب شیخ رشید کے مقابلے میں جاوید ہاشمی آیا تو شیخ رشید نے بڑے غرور سے کہا ۔۔ “دیکھیں جی پنڈی کی عوام بڑی غیرت مند ہے یہ کسی باہر والے کو گھر کے اندر نہیں انے دے گی۔۔۔۔۔” اسی عوام نے وہ مار دی اسے کہ ضمانت بھی ضبط کروا دی۔۔۔
کتنا عوام کو ذلیل کیا انہوں نے۔۔۔ وقت کے فرعون تھے یہ لوگ۔۔۔ پاکستانی کی غریب عوم کسی نا کسی مصیبت کا ہی شکار رہی۔۔۔ کبھی چینی کا بحران کبھی گھی کا، کبھی آٹے کا کبھی گیس، بجلی کا۔۔۔ آسان لفظوں میں کہا جائے تو ان کے دور حکومت میں پاکستانی قوم رل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ لوگ بھول گئے تھے کہ واپس اسی قوم کے قدموں میں گریں گے جا کر۔۔۔
دھاندلی ہوئی یا نہیں الگ بات ہے اگر ہم حالات و اقعات پے غور کریں تو یہ الیکشن کم، قدرت کا انتقام زیادہ لگے گا۔۔۔
کیسے نواز شریف کے ساتھ ہونے کے باوجود وقت پڑنے پر چوہدریویں نے اسے اکیلا چھوڑا تھا۔ کیسے جی ایچ کیو میں ق لیگ کا قیام عمل میں آیا۔۔۔۔۔۔۔ جب نواز شریف اٹک قلعے میں قید تھا تب یہی چوہدری وزارتوں کی بندر بانٹ میں مصروف تھے۔۔۔۔
یہ قدرت کا انتقام ہی ہے کہ وہی مشرف پھر سے نواز شریف کے رحم وکرم پر ہے جسے اس نے اسی کے ملک سے نکال باہر کیا تھا۔۔۔۔۔آج وہی مشرف اسی نواز شریف کے ساتھ اپنی صدارت بچانے کے لیے مل کر بیٹھنے کو بھی تیار ہے۔۔۔۔۔ ہر موقعے پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے والا مشرف، عوام کو اپنے فوجی جوتے کی نوک پے رکھنے والا اسی نواز شریف کے ساتھ چلنے کی بات کر رہا ہے۔۔۔۔
مشرف نے تو بغاوت کی تھی حکومت پر قبضہ کرنے کے لیے پر نواز شریف کو ایسا کچھ نہیں کرنا پڑا۔۔۔۔۔عوام کی ایک مہر نے اس کے سارے راستے آسان کیے ہیں۔۔۔۔۔عوام کی ایک شیر پر مہر نے مشرف کو بتادیا کہ عوام کتنی بھی پسی ہوئی کیوں نہ ہو جب کچھ کرنے کا ٹھان لے تو کر گزرتی ہے۔ اب کی بار چوہدریوں کو کچھ کر دکھانے کا وقت تھا جو آیا اور سب کو حیران کرتا ہوا گزر گیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مشرف عوام کے اس فیصلے کو سممجھ پاتا ہے یا نہیں۔ اگر اور بھی دھاندلی سے پاک الیکشن ہوتے تو مسلم لیگ ق کو وہ چند سیٹیں بھی نا ملتیں جو کہ نئے چہروں کو سامنے لا کے لی گئی ہیں۔۔۔ مشرف کی اب بھی کوشش ہے کہ کسی طرح نواز شریف کو اپوزیشن میں بٹھایا جائے ۔۔۔۔۔ پر ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آتا۔۔۔
میری ذاتی رائے میں سب سے زیادہ خوشی شیخ رشید اور شیرافگن کی ہار کی ہوئی۔ بڑا گھمنڈ تھا انہیں ہر بار جائز ناجائز جیت کا تو اس بار منہ کی کھانی پڑی ہے تو اب سالوں یاد رکھیں گے۔۔۔
یہ لوگ طاقت کے نشے میں شاید بھول گئے تھے کہ اصل طاقت تو عوام کے پاس ہے مہر کی طاقت۔۔۔ووٹ کی طاقت۔۔۔۔۔۔۔کیا کمال کیا عوام کی ایک مہر نے کیسے کیسے سیاست کے میدان کے شہسواروں کو مات دی کہ مزہ آگیا الیکشن کا۔۔۔۔۔۔۔۔
تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 7 January 2008
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ میں قتل کر دیا گیا۔۔ پورا پاکستان اور پاکستان سے باہر پاکستانی سوگ میں ڈوب گئے۔ جو کچھ ہوا جیسے بھی ہوا افسوس ناک تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے لیاقت باغ سانحہ کے علاوہ اگلے دو دنوں میں 58 افراد ہلاک ہوگئے اور اربوں کی املاک کو جلا دیا گیا۔ بےنظیر کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے بارے میں بہت سے سوالات ۔ بہت سی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام واقعے کے بارے میں اصل حقائق جان پایئں گے۔۔۔۔۔۔؟
اس واقعے میں بہت سے لوگوں کی کوتاہی شامل ہے۔۔۔ حکومت جہاں فول پروف سیکیورٹی کی دعویدار ہے وہاں پیپلز پارٹی کی اپنی بھی بہت سخت سیکیورٹی تھی۔۔۔ سینکڑوں جانثاروں کو تیار کیا گیا تھا۔۔۔ پھر سب کی سب سیکیورٹی دھری کی دھری رہ گئی اچانک۔۔۔۔۔۔۔اب بہت سے لوگ شک کے دائرے میں آرہے ہیں۔۔۔ زرداری کا پر اسرار رویہ بھی اس پر شک کرنے پر مجبور کرتا ہے۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا جب زرداری نے بی بی کی لاش دیکھی ہی نہیں تھی پھر اس نے پوسٹ مارٹم سے انکار کیوں کیا۔۔۔ فون ہی پر اس نے کہا کہ پوسٹ مارٹم نہیں کروانا چاہتے۔۔۔ پھر ابھی تک وصیت بھی سامنے نہیں لائی گئی۔۔۔ بس بتا دیا کہ بی بی مرحومہ نے کیا لکھا تھا۔ جو لوگ اس وقت گاڑی میں جائے حادثہ پر ساتھ تھے وہ لوگ کھل کے بات کیوں نہیں کر رہے۔۔۔۔۔۔ حکومت کے پل پل بدلتے بیانات۔۔۔۔۔۔۔لیور لگنے سے موت ہوئی جیسے بیانات کو مختلف چینلز پر آنے والی ویڈیوز جس میں حملہ آور کو گولی چلاتے دیکھا جا سکتا ہے نے حکومت کو اپنے بیان پر معافی مانگنے پر مجبور کیا۔۔۔۔ پھر اگلے 15 گھنٹوں میں ہی حکومت ایک بیان ریکارڈ کر کے یہ یقین دلانا چاہتی ہے کہ اس کے پیچھے القائدہ کا ہاتھ ہے۔ پھر جائے حادثہ کو فورا دھو کر تمام شواہد مٹا دینا حکومت کے کردار کو بھی مشکوک کرتا ہے۔۔۔
اس واقعے سے پہلے بھی پاکستانی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے مگر آج تک پاکستان قوم کسی بھی حادثے کے اصل حقائق سے آگاہ نہیں ہو سکی۔۔۔
اس سے پہلے لیاقت علی خان سے لے کر اب تک ہزاروں واقعات ہوئے۔۔۔ سیکڑوں کمیشن بنے۔۔۔ انکوائریاں ہوئیں مگر سب کچھ بے سود ہی رہا۔ سارے واقعات عوام کے لیے اب بھی ایک معمہ ہی بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔
تحقیقات کا شور تو ہمیشہ اٹھتا ہے۔ لیاقت علی خان کے قتل کی بھی تحقیات ہوئیں۔۔۔۔ ضیاء الحق کی بھی۔۔۔ سانحہ نشتر پارک کی بھی جہاں 50 علمائے دین کو ایک مبارک دن بم دھماکے میں شہید کیا گیا۔ کبھی کوئی مجرم نہیں پکڑا گیا۔ پھر آج کل تو حکومت کے لیے بہت آسان کام ہے۔ ہر دھماکے کو خودکش حملہ قرار دے کر فائل میں بند کر دینا۔۔۔۔
ضیاءالحق کے طیارے کے حادثے میں جان بحق ہونے کے بعد کئی بار ان کے بیٹے اعجازالحق حکومت میں بھی رہے۔ پھر بھی وہ اپنے والد کے قاتلوں کی نشاندہی نہیں کر سکے۔۔۔ بے نظیر خود حکومت میں تھیں جب مرتضٰی بھٹو کو کراچی میں قتل کیا گیا، بہن کے وزیر اعظم ہونے کے باوجود حقائق سے پردہ نا اٹھ سکا۔۔۔ پھر اب بھی ایسا ہی ہو گا۔۔۔۔ ہماری یہ روایت رہی ہے کہ ہم ہر اس ثبوت کو مٹانے کے ماہر ہیں جس سے اصل چہرے بے نقاب ہونے کا خدشہ ہو۔۔۔۔ بے نظیر کے جائے حادثہ کو دھو دینا ہو یا ضیاء الحق کے ثبوت لانے والے طیارے کو حادثہ ہو۔۔۔ مجھے یاد ہے بچپن میں سارے بچوں کی طرح ہمارے بھی عادت تھی جہاز کے آواز سنتے ہی آسمان کی طرف نظریں کیے جہاز کو دور تک دیکھنے کی۔۔۔۔جو طیارہ ضیاءالحق کے حادثے کے بارے میں ثبوت لا رہا تھا اسے میں نے اپنی آنکھوں سے پہاڑوں سے ٹکرا کر جلتے دیکھا۔۔۔ جہلم میں کھیوڑہ کے پہاڑوں سے ٹکرا کے گرا تھا۔ پیچھے سے ٹھیک آیا، پتا نہیں کیسے اچانک نیچی پرواز ہوئی اور کھیوڑہ کے پہاڑوں سے ٹکرا کر گرا اور اس میں آگ لگ گئی۔ بعد میں جب بڑے ہوئے، کتابوں وغیرہ میں پڑھا تو پتا چلا کہ اس جہاز میں کیا تھا۔۔۔ اس جہاز کا بھی آج تک پتہ نہیں چلا کیوں کیسے حادثہ ہوا۔
اب چاہے تو سکاٹ لینڈ یارڈ یا اقوام متحدہ تحقیق کرے حقائق کبھی سامنے نہیں آئیںگے۔۔۔ چاہے کمیشن بنے چاہے کچھ بھی کیا جائے، بس چند ہفتوں میں ہی کیس فائلوں میں بند ہو جائے گا، سکاٹ لینڈ والے واپس لینڈ ہو جاہیں گے۔۔۔ پھر تو اس واقعے کا ذکر جلسے جلوسوں میں مخالفین پر الزام لگانے کے لیے ہی کیا جائے گا۔۔۔ عوام کبھی جان نہیں پائیں گے، سب کیسے ہوا۔۔ کیوں ہوا۔۔۔ مگر میرے خیا ل میں یہ سب یونہی ہونا لکھا تھا۔ تقدیر سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔۔۔ بی بی کی موت کا وقت مقرر ہو چکا تھا، موت کا بہانہ چاہے کچھ بھی بنتا۔ کہتے ہیں جو رات بر میں لکھی ہے وہ دنیا پر آ ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔اللہ سب مر حومین کو جنت میں جگہ دے اور ان کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا کرے آمین
تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Tuesday، 27 November 2007
الیکشن کی امد آمد ہے اور ہر طرف گہما گہمی شروع ہونے ہی والی ہے کہ تمام امیدواران اپنے اپنے کاغذات جمع کروا کے بھولی بھالی عوام سے نئے وعدے کرنے کے لیے کمر کس چکے ہیں۔۔۔ایسے میں میں سوچ رہی ہوں کہ ووٹ کسے دوں۔۔۔۔۔؟
پاکستان میں اول تو عوام کی اکثریت ووٹ کی اہمیت سے ہی ناواقف ہے پارٹی منشور کس بلا کا نام ہے کسی کو پتا ہی نہیں۔۔۔۔ہمارے ہاں اکثر ووٹ زات برادری اور رشتہ داری کے تحت دیے جاتے ہیں۔ اپنے محلے کی کسی ملک۔۔مرزا صاحب یا نمبردار صاحب جہاں کہیں گے مہر لگا کے اپنا فرض پورا کر آیئں گے۔۔ ۔جہاں ووٹ ڈالنے میں ہمارے برادری سسٹم ک ہاتھ ہے وہاں ہی پیسے لے کے بھی لوگ ووٹ ڈالتے ہیں ۔۔۔۔باقی سب کی چھوڑیں میں خود اس بات کی گواہ ہوں چشم دید۔۔بلدیاتی الیکشن میں باقائدہ محلے کے ملک صاحب شام کو سب کے شناختی کارڈ لے جاتے تھے صبح پولنگ اسٹیشن جا کے کون ووٹ ڈالتا اور کیسے یہ میری چھوٹی عقل سمجھنے سے قا صر ہی رہی۔۔۔بلکل ویسے ہی جیسے شناختی کارڈ کے” مالکوں” کو نہیں پروا ہوتی کہ کس کو ووٹ ڈالا گیا۔۔۔۔۔۔پروا ہو بھی کیوں ملک صاحب ہر ووٹ کے بدلے “رقم”جو تھما دیتے تھے لوگ سمجھتے ہیں الیکشن جیت کے انہوںنے بھی اگے جا کے کڑوڑون کمانے ہیں تو 5 دس ہزار ان کے ووٹ کا حق بنتا ہے۔۔۔۔۔۔۔باقی سب کو چھوڑیں۔۔
ہمارے گھر میں بھی عجیب حال رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔والد صاحب(اللہ بخشے) میرے پکے مسلم لیگی تھے جب تک زندا رہے مسلم لیگ پے ہی مہریں ثبت کر کے پاکستان سے اپنی محبت کا ثبوٹ دیتے رہے کہ مسلم لیگ نے ہی پاکستان بنایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب اگر زیندہ ہوتے تو خود بڑے پریشان ہوتے کہ کس مسلم لیگ کو ووٹ دیں کس کو نا دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔امی میری ہر سیاسی پارٹی کی مخالف رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے نظیر کا تو نام سنتے ہی اللہ کی پناہ جو پینجابی سٹائل میں تعریف کریں گی کہ سننے والا قصہ چھیڑ کے پچھتائے۔۔۔قصہ مختصربی بی تو امی کو ایک انکھ نہیں بہاتی۔۔
بھائی میرے نواز شریف کے حامی کیوں یہ تو مجھے بھی نہیں پتا۔باقائدہ نواز شریف کی فوٹو بھی فریم کروا کے اپنے کمرے میں لگا رکھی ہے۔۔بھلا کوئی گستاکی کرے تو سہی میاں جی کی شان میں۔۔۔۔۔۔۔۔
باقی سب کو چھوڑیں میں تو کافی کنفیوژ ن کا شکار ہوں کہ اخر میرے قیمتی اکلوتے ووٹ کا حقدار ہے کون اور مجھے کہاں ملے گا۔۔۔۔؟
اگر پہلے بات کروں بے نظیر کی تو کیسے 2 بار حکومت کر کے عوام کو بےوقوف بنایاکیسے لوٹ کھسوٹ کی کہ اس کے دور حکومت کو اتنے سال گزر گے پھر بھی لوگ ہیں کہ ہوئی باتیں بھولنے کو تیار ہی نہیں۔۔۔ اس پے بھی کوئی کمی رہ گئی تھی جو محترمہ قومی مفاہمتی آرڈینس( جس کا نام میرے خیال میں قوم پے مٹی پاؤ آرڈینس ہونا چاہیے۔) کر کے سارے گناہ ایک ہی جھٹکے میں بخشوا کے چلی آیئں ایک بار پھر سے نئے وعدے لے کر۔ ۔کم از کم میرا ضمیر تو امادہ نہیں کہ میں تیر پے مہر لگا کے ملک لوٹنے والوں کے ہاتھ مضبوط کروں۔۔۔نواز شریف کہ اس لیے ووٹ نہیں دینا کہ وہ بھی نام کی طرح شریف ہر گز نہیں مانا کہ اس کے سینے پے ایٹم بم کے ساتھ ساتھ موٹر وے(چاہے اپنی زات کے لیے بنائی پر استعمال میں تو عوام کے ہی ائی نا۔۔) جیسے بڑے کاموں کے تمغے سجے ہیں میرا دل امادہ نہیں کہ اس نے بھی 2 بار کی حکمرانی میں غریبوں کو غریب تر اور امیروں کو امیر ترین ہی کیا ہے۔۔۔۔اب باری ائی حکمرانوں کی ۔۔۔جی ہاننمیرا مطلب “ق”لیگ سے ہے۔۔۔۔چوھدریوں نے ڈٹ کے پانچ سال حکومت کی عوام کے ہاتھ پاؤں منہ باندھ کے کی اصل میں تو یہ جماعت ہی لوٹون کی ہے سارے یہاں وہاں کے بھگوڑے اسی پارٹی کے پناہ گزین ہیں۔۔۔۔۔ویسے بھی میرے خیال میں مسلم لیگ ق کو ووٹ دینا نا دینا ایک ہی برابر ہے ووٹ نا ڈالیں پھر بھی جیت تو جانا ہے اس نے نا بھی جیتی تو ادھر ادھر سے لوٹے نہیں تو آزاد حیثت سے کامیاب امیدوار یہاں اکے ہی بکیں گے اور جتنی امریکہ کی مداخلت ان کے دور میں ہوئی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی اس لیے یہ بھی آوٹ۔۔۔
باقی رہی ایم ایم اے۔۔۔تو ان کا تو اپنا کوئی ایک فیصلہ ہی نہیں ہے۔جس بات پے قاضی صاحب مانتے ہیں مولانا فضل الرحمان اکڑ جاتے ہیں ۔مشرف کی در پردہ حمایت کر کے۔۔اندر ہی اندر پیسے کھاتے ہیں دینا اور آخرت راضی رکھتے ہیں۔۔۔مولانا صاحب تو مشرف کے ایک اشارے پے تن من دھن لوٹانے کو تیار نظر اتے ہیں اسی لیے انہیں بھی میں اپنا ووٹ ڈال کے ضائع نہیں کروں گی۔۔۔
اب باری ائی الطاف بھائی کی۔۔۔۔۔۔۔تو اس چون چوں کے مربے کوووٹ ڈالنے سے اچھا ہےمیں ڈالوں ہی نا۔۔ویسے بھی ان کی غنڈا گردی کے قصے میں کافی سن چکی ہوں اور الطاف بھائی جیسے خود بیرون ملک چھپے بیٹھے ہیں ویسے ہی اس کی پارٹی بھی سندھ تک ہی محدود ہے کہ پنجاب میں ان ا نام لیوا ویسے ہی کوئی نہیں۔۔اس لیے ان پے بھی مٹی پاؤ۔۔۔۔
اب اتے ہیں عمران کی طرف۔۔۔۔اب ایک ہی تو پارٹی بچی ہے تحریک انصاف جس سے مجھے انصاف کی پوری پوری امید بھی ہے۔۔ویسے عمران میں ایک اچھے ایمان دار لیڈرز والے سارے ہی گن موجود ہین پھر بھی پتہ نہیں کیوں عمران کی پارٹی عوام میں جڑ نہیں پکڑ سکی۔میں نے خود ابھی تک عمران کے علاوہ تحریک انصاف کا کوئی اور ممبر دیکھا ہی نہیں۔۔میں سوچ رہی تھی۔۔۔نہیں بلکے فیصلہ کر چکی تھی کہ میں تحریک انصاف کو ہی ووٹ دے کر اپنے ملک اور قوم سے انصاف کروں گی مگر کیا کریں کہ عمران نے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا ہے یہی نہیں عمران خان نے تو کاغذات نامزدگی پھاڑ کے میرے ووٹ پے بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔۔۔۔۔؟اب سب نے ہی پاکستان کا ستیاناس مار دیا ہے لوٹ کھسوٹ کی سب کی ایک سے ایک اپنی ہی اعلیٰ مثالیں بھر ی پڑی ہیں تو ایسے میں میں ووٹ کسے دوں۔۔۔۔۔۔کوئی ایسا جو ملک سے اس بھولی اللہ میاں کی گائے قوم سے مخلص ہو۔۔۔جو پاکستان کی تقدیر بدلنے کا وعدہ ہی نا کرے بلکے سچ میں تقدیر بدل بھی دے۔۔۔۔۔ایسا کوئی ہے اپ کی نظر میں تو مجھے ضرور آگاہ کریں کہ واقعی میں اپنا ووٹ ضائع نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔امید ہے اپ سب میرے ووٹ کو ضائع ہونے سے بچایئں گے۔۔۔۔۔۔
تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Sunday، 18 November 2007
ملک میں ایمرجنسی کا شور،جلسے جلوس اور احتجاج ابھی کم بھی نہیں ہوا کہ عزت ماب جناب جنرل پرویز مشرف صاحب نےآرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے ایک نئا قانون عوام کے ہاتھ تھما دیا۔۔آرمی ایکٹ میں صدر نے جو ترمیم کی اس کے مطابق اب عام شہریوں پے بھی مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے۔۔یہ ترمیم صدر نے لاپتہ افراد کے قصے کو ختم کرنے کے لیے کی تاکہ کوئی نا کہ سکے کہ ایجنسیوں نے عام شہریوں کو آٹھا کے غایب کر دیا ہے بہت سے پاکستانی ایسے ہیں جن کا سالوں گزر جانے کے باوجود علم نہیں ان کے گھر والوں کو کہ وہ کہاں ہیں اور انہیں کس جرم کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔۔۔۔۔گرفتار نہیں غائب کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔۔۔۔۔۔یہ تو ایک طرح سے کالا قانون ہوا اب ارمی کسی بھی شہری کو ارمی ایکٹ کے تحت پکڑ سکتی ہے۔۔۔۔۔سارے لیڈرز بمعہ قوم کے ایمرجنسی میں اتنے گوڈے گوڈے غرق ہیں کہ اس طرف کسی نے کوئی دھیان ہی نہیں دیا کہ کس طرح مشرف نے اپنے ہاتھ اور مضبوط کر لیےہیں۔اور کیسے عام شہریوں کا استحسال کیا جائے گا اس قانون کے زریعے۔۔۔ اب کسی عدالت سے اپ رجوع نہیں کر سکتے کسی بھی لاپتہ انسان کے بارے میں سیدھا سیدھا سا جواب ہو گا ارمی ایکٹ کے تحت گرفتار ہے۔۔۔مشرف نے بھی بہت مناسب وقت پے یہ بل پاس کروایا کہ کسی بھی لیڈر کا اس طرف دھیان ہی نہیں ہونے دیا۔۔۔
چلیں یہ بھی چھوڑیں۔۔۔۔۔۔
صدر نے تب ایک اور کمال کر دیا جب ایمرجنسی آٹھانے کا اختیار چیف آف ارمی سٹاف سے لے کر صدر کو منتقل کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ایمرجنسی جو ایک چیف آف ارمی سٹاف نے لگائی تھی وہ اب صدر صاحب اٹھئیں گے۔۔۔۔۔۔۔بھلا کس قانون کے تحت۔۔؟پاکیستان کا آیئن تو3 نومبر سے معطل ہے۔۔۔۔۔پھر صدر کس قانونی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ایمرجنسی آٹھاے گا۔۔۔۔۔۔ آیئن معطل ہے تو کس ایئن کے تحت ارمی چیف نے یہ اخیتار صدر کو دیا۔۔۔۔۔؟کیا پاکستانی آیئن کو صرف عوام کے لیے معطل کیا گیا۔۔۔۔اسی غریب عوام کے لیے جو 60 سالوں سے پستے چلے آرہے ہیں۔۔۔۔۔جو 60 سالوں سے ترقی کے نام پے بےوقوف بنتے آرہے ہیں۔۔۔۔۔جنہیں وڈیرے اور،جاگیردار،اپنی ترقی کے لیے سیڑھی کی طرح استعمال کرتے ائے ہیں اور نا جانے کب تک پاکستانی عوام غریب سے غریب تر اور امیر امیر سے امیر تر ہوتے چلے جاہیں گے۔پاکستانی قوم صرف جان کے نظرانے دینے کے لیے ہے اور وڈیرے عیش کرنے کے لیے۔۔۔۔
مشرف جس طرح پاکستانی آیئن کو اپنی وردی اور کرسی بچانے کے لیے پچھلے 8 سالوں سے استعمال کر رہا ہے اس سے تو لگتا ہے پاکستانی پاکستانی نہیں مشرفستان ہو گیا ہے۔۔۔۔۔صدر کی حرکتیں دیکھ کے مجھے ایک گانا یاد آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیا رکھاں۔۔۔۔۔اب اللہ ہی مشرف سے دو دو ہاتھ کرے۔۔۔۔۔۔۔
تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 12 November 2007
2007 کا سورج نکلتے ہی پاکستان اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور میں چلا گیا۔۔۔جہاں مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے گئے۔جو بات لال مسجد اور چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی معطلی سے ہوتی ہوئی ایمرجنسی جیسے انتہائی مقام پے ارکی۔۔۔3 نومبر کی شام چیف آف آرمی سٹاف نے اپنے قانونی وغیر قانونی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا علان کر دیا۔اور 16 کروڑ پاکستانیوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا ۔جنرل مشرف کی قلم کی ایک جنبش سے پاکستانیوں کے وہ حقوق معطل ہو گئے جو ہمیں خیرات میں نہیں ملے تھے بلکہ ہمارے آباواجداد نے ہزاروں قربانیاں دے کے حاصل کیے تھے۔۔ملکی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفاد کی جنگ لڑنے والوں کو تو ایک موقعہ میسر آگیا کہ وہ اپنی رہی سہی کسر بھی پوری کر لیں۔۔۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جو کچھ بھی کیا جا رہا ہے ذاتی مفاد کے لیے ہی کیا جا رہا ہے اور اس بات سے کسی کو کوئی غرض نہیں کہ چند لوگوں کے مفاد کے لیے پاکستان اور پاکستانیوں کو کیا قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔۔
سوال یہ ہے کہ ایمرجنسی لگانے کی ضرورت پیش ہی کیوں آئی ؟ہر ذی شعور اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کے ایمرجنسی کے پیچھے کیا محرکات تھے۔۔
عدلیہ کی آزادی کرپٹ حکمرانوں کی انکھوں میں کچھ زیادہ ہی کھٹکنے لگی تھی۔۔۔۔۔دہشت گردی کا جو جواز پیش کیا گیا وہ کچھ ہضم نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔کیا دھشت گردی ابھی شروع ہوئی ۔۔۔ویسے بھی ایمرجنسی میں ایسا کون سا جادو ہے جو دہشت گردی پر قابو پا یا جا سکتا ۔۔۔۔نئے قانون کے تحت جن ججز نے حلف لیے وہ انصاف کے علمردار کم حکمرانوں کے ذاتی ملازم زیادہ ہیں۔۔۔اس سلسلے میں ایک واقعہ ذہن میں آرہا ہے۔کسی فوج کا سپہ سالار تھا دشمن سے جنگ میں اس کی فوج دوست احباب سب ختم ہو گئے تو ماں کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہاِ۔۔۔اگر میں ہتھیار ڈال دوں تو زندہ بچ جاوں گا اگر لڑوں تو مارا جاوں گا۔۔۔۔۔ماں نے جواب دیا بیٹا”اگر تو آج مارا گیا تو تاریخ میں زندہ رہے گا جو آج بچ گیا تو تاریخ میں مارا جائے گا”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ججز جنہوں نے کرپٹ حکمرانوں کے اگے سر نہیں جھکایا تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔۔۔۔۔۔ اب یہی کھٹ پتلی عدالتیں مشرف کے وردی مٰن انتخاب کو قانونی قرار دیں گی ،ایمرجنسی کو تو پہلے ہی مان چکی ہیں۔۔۔یہی عدالتیں صدر کے قومی مفاہمتی آردینیس کو درست کہیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔مشرف کی خیر ہو پاکستان کے بارے میں بعد میں سوچیں گے۔۔۔۔۔۔
ہزاروں سیاسی ورکرز،وکیل اور عام شہری گرفتار کیے جا چکے ہیں انتہائی بے دردی سے پاکستا نیوں کو فوجی بوٹوں تلے روندہ جا رہا ہے۔۔۔ مشرف تو قوم کے ہاتھ پاوں باندھ کے بھی اقتدار میں آکے رہے گا۔۔۔۔جہاں۔پاکستان کے لیے لابنگ کرنے والی سب سے بڑی کمپنی پاکستان سے معاہدہ ختم کر چکی ہے ،وہاں ہی دولت مشترکہ سے 22 جون تک پاکیستان کی رکنیت بھی ختم کر دی جائے گی اتنے بڑے بڑے نقصانات کے باوجود ایمرجنسی کو پاکستان کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔اور مشرف کہتے ہیں کہ پاکستان کو نقصان ہو تو ان کا دل روتا ہے۔
بلا آخر امریکہ بہادر کے دباو میں آکے مشرف نے 9 جنوری سے پہلے انتخابات کا علان تو کر دیا ہے مگر کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ وہ اس پر قائم بھی رہے گا۔کیوں کہ اس سے پہلے بھی 15 فروری اور 15 جنوری کی تاریخین بدلی جا چکی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ نہ ہو صدرکی وردی کی طرح الیکشن میں بھی بار بار توسیع پاکستانی عوام کا مقدر بن جائے، ابھی تک کسی سیاسی پارٹی نے معطل ججز کی واپسی کے لیے کوئی خاص سخت بیان نہیں دیا نا ہی اقتدار میں آکے 3نومبر سے پہلے والی عدلیہ کو بحال کرنے کے وعدے کیے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔ججز کو نطر بند کر کے تمام ٹی وی چینلز کو بند کر کے مشرف پتہ نہیں کس قانون کی پاسداری کی بات کرتے ہیں۔۔ جب مشرف نے 3 نومبر کو 1973 کا آیئن معطل کر دیا تو کس آیئن کے تحت پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا۔۔۔۔۔۔۔۔؟اسمبلیاں کسی آیئن کے تحت کام کر رہی ہیں۔۔۔۔؟ایمرجنسی میں کس قانون کے تحت الیکشن کروائے جایئں گے یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب مشرف کے پاس بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Saturday، 10 November 2007
عمران خان نے مشرف کو الیکشن میں مقابلے کا چینلج کر دیا ہے۔۔۔۔۔
حاليہ آراء