۔۔۔میرے مطابق۔۔۔۔۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Tuesday، 4 November 2008

بہت دنوں‌کے بعد لکھ رہی ہوں۔ اصل میں میں سارے حالات جو بھی پاکستان کے ہیں فریسٹریشن کا شکار ہوں۔ جی بھر سا گیا ہے لوگوں کی مکاریوں سے، جھوٹ سے ۔۔۔کوئی بھی ایسا نہیں جو مخلص ہو۔۔۔۔شاہد مسعود سے کون واقف نہیں ہو گا۔۔۔جب اس نے اے آر وائی ٹی وی چینل سے خصوصی پروگرام شروع کیا تو عوام میں‌ خاصی شہرت ملی اسے۔ پھر یکایک اس نے اے آر وائی کو چھوڑ کے جیو ٹی وی جوائن کر لیا۔۔۔۔جیو سے اس کا پروگروم “میرے مطابق” خاصا مقبول تھا۔۔ میں خود ذاتی طور پر اس کے تجزیے اور تحقیقاتی رپورٹ شوق سے دیکھا کرتی تھی۔ بظاہر یوں لگتا تھا کہ مشرف، پی پی اور باقی کی سیاسی پارٹیوں سے اس کے ہماری ہی طرح کے نظریاتی اختلافات ہیں۔۔ چیف جسٹس کی معطلی، جیو ٹی وی کی بندش، تمام معملات میں اس نے مشرف کی دھجیاں اڑا کے رکھ دیں تھیں۔۔۔ یہ اور بات کہ یو ٹیوب پر مشرف، شاہد مسعود دوستی کی ویڈیوز حیران کرنے کے لیے موجود ہیں۔۔۔ پی پی کی‌حکومت کے آتے ہی جیسے شاہد مسعود غائب ہوا تو بعد میں‌ پتا چلاکہ جناب بک گئے ہیں پی پی کے ہاتھ اور پی ٹی وی کے ایم ڈی جا بنے ہیں۔ اب جو مراعات دی گئی تھیں اس میں تو بکنا ہپی تھا نا وہ کچھ یوں‌ تھیں۔۔۔۔

۔ ڈاکٹر شاہد مسعود ساڑھے آٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ وہ سولہ سو سی سی کی ایک گاڑی، ڈرائیور اور اس کے ایندھن کی لامحدود مقدار، بزنس کلاس میں مقامی اور بین الاقوامی سفر، ایک وقت شفٹنگ کے لیے دو لاکھ روپے، تفریح اور علاج معالجے کے لیے تمام اخراجات، لامحدود کالز کی سہولت کے ساتھ ایک موبائل فون، گھر پر فون کے لیے دس ہزار روپے کی کالز، گھر پر سکیورٹی گارڈز، ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر کی سالانہ گریجوٹی، پچاس ہزار روپے کا سالانہ انکریمنٹ اور پی ٹی وی کے دیگر ملازمین کی طرح بونس کے وہ بھی حقدار ہوں گے۔

ملک دیوالیہ کیسے نا ہو۔۔۔۔۔۔۔اب کل ہی کی نیوز ہے کہ شاہد مسعود نے استعفیٰ دے دیا ہے۔۔۔استعفیٰ کی وجہ اس کے شیریں رحمان سے اختلافات ہیں جن سے فل حال وہ انکاری ہے۔۔۔۔خیر استعفیٰ کے ساتھ ہی اگلی خبر تھی کہ شاہد مسعود کو وزیر اعظم کا خصوصی مشیر بنا دیا گیا ہے جس کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔چلو جی اب یہاں تک سیل پہنچی ہےا س سے اگے پتا نہیں کہاں‌ جاتی ہے۔۔۔۔۔

اطلاع عام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 3 July 2008

السلام علیکم دوستو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے بلاگ پے آنے والے تمام دوستوں کو یہی بتانا چاہتی ہوں‌کہ میں ایک مہینے کے لیے غائب ہونے لگی ہوں آپ لوگ یہ نا سمجھنا کہ زینب کہیں مرور تو نہیں گئی میں‌کوئی مر نہیں گئی میں ایک مہینے کے لیے پاکستان جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔یاہووووووووووووووووووووووووووووووووووووو

تو اس وجہ سے بلاگ خاموش رہے گا ویسے بھی میں بلاگ کی دنیا میں اتنی مشہور تو نہیں ہوں پر پھر بھی جو دوست ہمیشہ اتے ہیں یہاں۔۔۔۔۔۔انہیں بتانا ضروری تھا۔۔۔۔خیر میں آج ہی جا رہی ہوں انشاللہ ایک ماہ بعد بات ہوگی تمام دوست اپنا خیال رکھیے گا اللہ سب کو اپنی خفاظت میں رکھے دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔۔۔

اللہ حافظ

مبارک سفر کا احوال۔۔۔(اگلی قسط)

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 19 June 2008

اگلی صبح یعنی منگل 10 جون کو ہم مدینہ کے سفر پے روانہ ہوئے۔۔۔۔مکہ سے 506 کلومیٹر۔۔۔۔میں نے کتابوں میں تو 570 پڑھا تھا پر وہاں جو پورڈ لگا تھا اس پے 506 کلو میٹر لکھا تھا۔۔۔۔بہت ویران سا راستہ ہے اب بھی یہ۔۔۔بس دور دور صرف اونٹوں کے ڈیرے نظر اتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔بتھریلے بہاڑ ہیں کہیں چٹیل میدان۔۔۔۔۔۔ہم ظہر سے پہلے پہنچ چکے تھے اسی لیے سامان ہوٹل میں رکھنے کے بعد ہم ظہر کی نماز میں شامل ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔۔ نبی کریم کے روضہ مبارک کی زیارت کا اب ٹائم مخصوص کر دیا گیا ہے۔۔۔۔پہلے اپ جب مسجد نبوی جاتے تھے زیارت کر سکتے تھے اب مردوں کی طرف تو ویسا ہی ہے جبکہ عورتوں‌کی طرف عشاء کے بعد اور فجر کے بعد کا ٹائم رکھا گیا ہے۔۔۔۔۔اسیلیے ہم نے یہ زیارت عشاء کے بعد کی۔۔۔ایک اہم بات جو میں نہیں جانتی تھی پہلے ہو سکتا ہے بہت سے لوگ جانتے ہوں وہ یہ کہ۔۔۔۔۔۔۔نبی کریم کے روضہ مبارک میں جہاں حضرت عمر اور حضرت ابوبکر بھی نبی کریم کے ساتھ ارام فرما ہیں۔۔وہاں اسی اھاطے میں ایک اور قبر کی بھی جگہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ سلام کو دفن کیا جائے گا۔۔۔۔
زیرات کی اگلی صبح ہم نے مدنیہ منورہ میں زیارات کے لیے جانا تھا۔۔۔۔۔بہت زیادہ گرمی تھی پر ہمارے پاس آج کا ہی دن تھا اگلی صبح ہماری واپسی تھی۔۔۔۔سو ہمزیارات کے لیےع نکلے سب سے پہلے ہم جبل حد گئے وہاں ہی غزوہ احد کے شہراء کی قبریں ہیں جن میں حضرت حمزہ بھی ہیں۔اس کے بعد ہم مسجد قبلاتین گئے یہ وہی جگہ ہے جہاں ہمرا قبلہ مسجد اقصیٰ سے بدل کے مکہ کیا گیا۔۔۔اس کے بعد ہم مسجد قبا گئے یہاں اس مسجد میں 2 رکعت نماز سنت پڑھنے کا ثواب ایک عمرے کے ثواب کے برابر ہے۔۔۔۔اس کے بعد ہم سات مسجدیں دیکھنے بھ گئے جو حضرت ابوبکر،حضرت فاطمہ حضرت علی کے دور کی بنی ہوئی ہیں۔۔۔۔۔حضرت سلمان فارسی کی مسجد بھی دیکھی جو اتنا لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود جوں کی توں ہے۔۔۔۔حضرت عمر کی مسجد کی جگھ اب ایک بڑی مسجد بنا دی گئی ہے کیوں کہ وہ مسجد شہید ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔ساری زیارتیں کرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔ہم ظہر کی نما زمیں شامل ہوئے اگلی صبح آخری نامز مسجد نبوی میں‌ پڑھ کے ہم واپسے کے لیے نکلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راستے میں ایک بار رکنے کے بعد ہم شام 6 بجے ریاض پہنے۔جہاں‌ہم ایک یمنی دوست کے گھر ٹھہرے۔جو 3 سال سے اپنی فیملی کے ساتھ سعودیہ میں مقیم ہیں۔۔۔۔اگلی صبح ہم فجر کے وقت نکلے اور راستے میں تھوڑا تھوڑا رکتے ہوئے شام 5 بجے ابوظہبی پہنچے وہاں سے ہم کچھ دیر بعد نکلے اور رات کو 9 بجے واپس گھر پہنچے۔یوں اس مبارک سفر کا انجام بخیرو خوبی ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ ہمارے ساتھ سب کی حاضری قبول فرمائے۔۔۔

ایک مبارک سفر کا احوال۔۔۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Wednesday، 18 June 2008

السلام علیکم۔۔۔۔۔میںنے سوچا آج بہت دن کی غیر حاضری کی وجہ لکھ ہی دوں۔۔۔تو ہوا کچھ یوں کہ۔۔۔۔۔۔

ارادہ تو ہر مسلمان کی طرح بہت عرصے سے تھا کہ اللہ کے گھر حاضری دی جائے پر بس اللہ کے بلاوے کی ہی دیر تھی۔۔۔۔۔۔اللہ کاکرم ہوا کہ اس سال اللہ کے گھر سے دعوت نامہ مل ہی گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ویزہ لگنے اور تمام انتظامات خود بخود ہی اللہ کے کرم سے ہوتے چلے گئے ہمارا ارادہ 5 جوں جمعرات کو نکلنے کا تھا۔۔۔
پہلے ہم نے شارجہ سے شام 4 بجے ابو ظہبی کے لیے نکلنا تھا پر پھر ابوظہبی سے بڑے بھائی کا فون ملا کہ نہیں عشاء کے بعد نکلیں گے ۔ہم یہاں سے شام ساڑھے 6 بجے نکلے۔مغرب کی نماز راستے میں ہم نے ایپکو کے پیٹرول اسٹیشن پے پڑھی اور 8 بجے ہم ابوظہبی پہنچے بڑے بھائی کے گھر ۔۔۔۔۔۔۔وہاں ہم نے کھانا کھایا اور عشاء بھی پڑھی پھر گاڑی میں سامان لوڈ ہوا اورہم رات ساڑھے 10 بجے اللہ کا نام لے کے سعودیہ کے سفر پے روانہ ہوئے۔۔۔۔جو کہ ابو ظہبی سے2ہزار کلو میٹر بنتا ہے۔۔۔۔۔

کبھی باتیں کبھی کچھ تسبیحات پڑھتے ہوئے ہم رات کو 2 بجے امارات کے شہر “رویس” پہنچے جو کہ پاکستانی کمیونٹی کی وجہ سے کافی مشہور ہے رویس میں بہت سے پاکستان بھائی کام کرتے ہیں وہاں رک کے ہم نے نیند بھگانے کے لیے چائے پی کچھ دیر باہر نکلے اور پھر سے تازہ دم ہو کے اگے کا سفر شروع کیا۔۔۔رویس ابوظہبی سے کم وبیش 380 کلو میٹر ہے اس کے بعد مدینہ زید اور پھر سلہ جو کے بارڈر سے 18 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔۔۔۔اگے جا کے بارڈر پر کاغذی کاروائی پوری کی اور ساڑھے 3 بجے کے قریب ہم “بطحاء” بارڈر کراسکر کے سعودیہ میں داخل ہو گئے۔۔۔۔۔امارات کے بارڈر سے لے کر سعودی شہر الحرض تک کا فاصلہ 500 کلو میٹر ہے اور مشکل یہ ہے کہ یہ بوتھ وے سڑک ہے۔۔ابھی کیوں‌کہ صبح کی روشنی میں ابھی ٹائم تھا اس لیے اس سڑک پے سٹریٹ لائٹس نا ہونے کی وجہ سے اندھیرا تھا اس پے بھی زبردست ریت کا طوفان تھا اس علاقے میں اسی لیے گاڑی چلانے میں کافی دوشواری ہو رہی تھی۔۔۔۔ریت کا طوفان اتنا شدید تھا کے سپیڈ زیادہ کرنے کی وجہ سے بڑی گاڑی ہونے کو باوجود بلینس نہیں رہتی تھی خیر آہستہ آہستۃ صبح کی روشنی نمودار ہونے لگی اور ہم نے ایک پیٹرول اسٹیشن پے صبح کی نماز پڑھیا ور تھرموس میں چائے لے کے آگے کو نکلے ۔۔۔۔۔۔سفر کے دوران ہی ہم نے چائے پی اب صبح کی روشنی ہو چکی تھی اس لیے سفر آسان ہو گیا تھا الحرض سے الخرض200 کلو میٹر ہے جو ہم نے8بجے تک طے کر لیا تھا۔۔۔۔وہاں رک کے ہم نے ناشتہ کیا اور کچھ دیر کو ایک مسجد می لیٹ‌گئے ریسٹ کے لیے یہ کیوں کہ بہت ویران علاقہ ہے سعودیہ کے ان بارڈر کے ساتھ و الے شہروں میں آبادی بہت دور دور ہے سڑک سے اس لیے ڈھنگ کا رسیٹ ہاؤس ملنا یا پھر اچھا کھانا ملنا کافی مشکل ہے جو کچھ ملے اسی پے صبر شکر کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔وہاں نیند تو نہیں آئی کسی کو بھی پر گاڑی کو بھی ریسٹ دینی تھی اسی لیے ہم وہاں ایک گھنٹہ رکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر سے سفر کا آغاز ہوا اور ہمرا اگلا پڑاو سعودیہ کا شہر ریاض تھا جو کہ اب بھی 300کلو میٹر تھا۔۔۔۔راستے میں چھوٹے چھوٹے دور دراز قصبے پڑتے ہیں کچی پکی آبادیاں ہیں۔اگلے دن چونکہ جمعہ تھا ہم 1 بجے ریاض شہر میں داخل ہوئے۔کل ملا کے اپنے پنڈی جیسا ہی ہے۔۔۔وہاں ہمارا رکنے کا ارادہ تھا اسی لیے پہلے ایک ریسٹ ہاؤس کا ڈھونڈا۔۔۔۔۔۔وہاں چیک ان کرنے کے بعد نماز پڑھی کھانا کھایا اور پھر لیٹتے ہی نیند کی وادی میں جانے میں زرہ بھی دیر نہیں لگی کہ ہم پچھلی رات سے نہیں سوئے تھے زرہ بھی۔۔۔۔شام 6 بجے اٹھے فریش ہو کے چائے پی اور مغرب پڑھ کے ریاض سے مکہ مکرمہ کا سفر شورع کیا جو کہ 1000 کلو میٹرتھا۔۔۔۔۔۔۔ریاض سے مکہ کے راستے میں شروع میں بہت گہری گہری کھایئاں آتی ہیں۔۔۔بہت اونچے اونچے پہاڑوں کو کاٹ کے سڑک بنائی گئی ہےکچھ کھایئاں تو بہت گہری تھیں ۔۔۔۔راستے میں بہت سے کاروان ملتے ہیں جو فلسطین۔ایران اور عراق سے براستہ سڑک عمرہ کرنے جاتے ہیں۔۔۔۔۔خیر ریاض جیسے مشہور شہر سے مکہ کے راستے میں بھی سٹریٹ لائٹس نا ہونے کے برابر ہیں کہیں کہیں ایک آدھ کلو میٹر میں اتی ہیں لایئٹس پھر سے غائب کل ملا کے بتاؤں تو سعودیہ اتنا امیر ملک ہونے کے باوجود پاکستان سے بھی کوسوں پیچھے ہے ۔۔۔خیر۔رات 12 بجے تک گاڑی چلانے کے بعد ہم نے کچھ دیر گاڑی کو ارام دلانے کا سوچا۔۔۔اور ایک پیٹرول اسٹیشن پے کچھ دیر کے لیے رکے۔۔۔۔اگلا سفر ہم نے 3 بجے شروع کیا۔۔۔۔اگلے سٹاپ تک ہم نے صبح کی نماز پڑھی اور ناشتہ کیا۔۔۔اس عرصے میں ریاض سے مکہ تک دور دور کہیں چھوٹی چھوٹی ہی آبادیاں ہیں ۔کوئی قابل ذکر شہر نہیں اتا راستے میں۔۔۔ کھانے پینے کی اشیا کی بہت تنگی محسوس ہوتی ہے پورے راستے میں کہیں بھی اپ کو اچھا کھانا نہیں ملے گا۔۔۔۔۔ جو ملے اسی پے گزارا کرنا پڑتا ہے۔مکہ سے 90 کلو میٹر باہر مشہور شہر طائف ہے وہاں ہی میقات ہے جہاں سے احرام باندھنا ہوتا ہے۔۔۔ہم کیوں کہ گھر سے احرام نہیں لے کے گئے تھے بڑے بھائی نے کہا تھا راستے میں لے لیں گے تو ہم نے میقات سے ہی سب کے احرام خریدے۔۔۔۔۔وہان‌کی مسجد میں ہی احرام پہن کے عمرہ کی نیت سے 2 نفل پڑھے اور اگے کا سفر شروع کیا۔۔۔۔۔۔جیسے جیسے مکہ مکرمہ نزدیک آرہا تھا دل کی دھڑکن تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی سب بہت دل لگا کے تسبیحات پڑھ رہے تھے۔۔۔۔۔لبیک الھم لبیک۔۔۔۔پڑھتے ہوئے ہم سب مکہ کی طرف گامزن تھے۔ہماری گاڑی میں باہر کا درجہ حرارت 47 نظر آرہا تھا۔۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ باہر دور دور تک نظر انےو الی دھند شدید گرمی سے تھی۔۔۔۔

12 بجے ہم مکہ میں‌داخل ہوئے۔۔۔اس عظیم شہر جہاں کبھی ہمارے نبی کریم (ص) کا گزر ہوا تھا انکھیں محبت سے دیکھ دیکھ کر بھیگ رہیں تھیئں۔۔۔۔۔ہمارے ساتھ بچے بھی تھے اس لیے پہلے رہائش کا بندوبست کرنے کا ارادہ تھا ورنہ تو دل چاہتا تھا کہ سیدھا اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوا جائے۔ ہم نے حرم شریف کے قریب ہی رہائش ڈھونڈی کہ انے جانے میں اسانی رہے۔۔۔۔۔۔۔۔حرم شریف کے پاس ہی 3/4 ہوٹلز چھوڑ کے ہمیں‌ایک ہوٹال میں‌کمرا مل گیا۔۔۔۔گاڑی سے سامان اوپر شیفٹ کرنےکے بعد ظہر کی با جماعت نماز کا ٹائم نکل چکا تھا اس لیے ہم نے کمرے میں ہی پڑھی۔۔۔۔۔کھانا کھایا اور کچھ دیر کو لیٹ گئے عصر کے بعد عمرہ کا ارادہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ریسٹ کے بعد ۔۔۔۔۔ احرام تو پہلے ہی پہنا ہوا تھا اسی لیےسیدھا حرم شریف کا رخ کیا۔۔۔۔۔حرم شریف میں داخل ہوتے ہی انسان پے ایک لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے روح تک اللہ کے خوف سے کانپ اٹھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔میں نے اکثر وہاں مطاف کے سامنے بیٹھ کے سوچا کہ ہے تو یہ ایک مکان ہی پتھر سے بنا ہوا پر اس کی کتنی دہشت ہے ہمارے دلوں پے کیسے یہ خدا کے ہونے کا احساس دلاتا ہے لوگ دیوانہ وار طواف کے لیے چکر کاٹ رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔خیر حرم شریف پے پہلی نظر پڑتے ہی‌جو بھی دعا کی جائے انشاللہ پوری ہوتی ہے سو ہم نے بھی بنا پلک جھپکے اللہ سے بہت سی دعایئں کر لیں۔۔۔۔۔عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد ہم نے عمرہ کی نیت سے طواف کیا حجرہ اسود کو بوسا دینا ایک ناممکن سی بات ہے اب اسی لیے دور سے سلام کر دینا کافی ہے۔۔۔۔۔طواف کے بعد۔۔۔زم زم کا پانی پیا مقام ابراہیم کے سامنے 2 نفل پڑھے جو کہ عمرہ کا حصہ ہی ہیں پھر سعی کے لیے صفا مروہ کی طرف چلے گئے۔۔۔۔سعی کے پورے سات چکر ملا کے ساڑھے چار کلو میٹر بنتا ہےپھر رش کی وجہ سے بندہ جلدی قدم اٹھا کے نہیں چل سکتا اسی لیے کافی دیر لگتی ہے۔۔۔۔۔خیر عمرہ پورا ہوا تو مرد حضرات بال کٹوانے کے لیے نکل گئے خواتیں کو انتظار تھاکہ کوئی محرم مرد جو اپنے بال کٹوا کے احرام کی شرائط سے نکل چکا ہو وہی بال کاٹ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔احرام کی شرط سے نکلنے کے بعد ہم نے مغرب کی نماز حرم شریف میں ادا کی ۔۔۔۔عشاء کی نماز کے بعد ہی ہم ہوٹل واپس ائے۔۔۔۔ا۔حرام اتار کے کھنا کھایا اور پھر لیٹتے ہی تھکاوٹ سے یوں نیند آئی جیسے کبھی زندگی میں سوئے ہی نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگلے دن ہم فجر کی نماز پڑھ کے لوٹے ناشتہ کیا اور پھر سے احرام باندھنے مسجد عائشہ جانے کا ارادہ کیا۔۔۔یہ مسجد حرم شریف کی حدود سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے یہاں سے حج وداع کے موقعہ پر حضرت عاشئہ نے نبی کریم(ص) کے حکم سے احرام باندھا تھا۔۔۔۔اب یہ مکہ میں رہنے والوں کے لیے سہولت ہے کہ یہاں سے احرام باندھ کے عمرہ کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں کیوں کہ اپنے گزرے ہوئے بزرگوں کا عمرہ کرنا تھا اسی لی ہم ناشتے کے بعد مسجد عاشئہ چلے گئے سب نے پہلے طے کر لیا تھا کہ کون کس کا عمرہ کرے گا میں نے اپنے ابو کے لیے عمرہ کرنے کی نیت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت گرمی تھی پر اللہ کا شکر ہے اس نے ہمت دی اور دن 12 بجے تک ہم عمرہ ادا کر کے ظہر کی نماز ادا کر کے ہوٹل لوٹ آئے۔۔۔۔۔۔اگلے دن ہمارا زیارتوں کا ارادہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی سلسلے میں ہم عرفات۔۔وہاں ہی جبل رحمت اور منی مزدلفہ وغیرہ کی زیارت کر کے ائے۔۔۔۔۔سب کافی تھکے ہوئے تھے۔۔۔۔پر مجھے ابھی ایک اور عمرہ کرنا تھا ایک سے تسکین نہیں ہوئی تھی سو میں سب کی کو بتا کے پھر سے مسجد عاشیہ گئی اور اپنے لیےپھر سے عمرہ کرنے کی نیت باندھی۔۔۔۔یہ ہماری اخری رات تھی مکہ میں اسی لیے رات دیر تک وہاں رہے بہت سی دعایئں کی اپنے لیے سب کے لیے جنہوں نے دعا کے لیے پیغمات دیے تھے ان سب کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگلے دن فجر پڑھی طواف وداع کیا اللہ سے اجازت چاہی اور مدینہ منورہ کا سفر کر نے کے لیے سامان گاڑی میں لوڈ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔مدینہ کے سفر کی روداد اگلی قسط میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انڈین گانے اور ہم۔۔۔۔۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Wednesday، 5 March 2008

بہت دن سے سوچ رہی تھی اس موضوع پر کچھ لکھنے کے لیے لیکن پھر کسی نا کسی وجہ سے رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔

میں بلاگ کے سارے ممبران کی توجہ اس اس بہت اہم مسئلے کی طرف دلانا چاتی ہوں۔۔جیسے کہ اج کل گانے آرہے ہیں ہم نا صرف سنتے ہیں بلکے بعض اوقات گنگناتے بھی ہیں۔۔۔۔ہم انجانے میں ایک بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔۔۔۔

اب جیسے کہ ایک بہت بڑی ہٹ فلم “ام شانتی “کی بات کی جائے یا پھراس کا یہ ٹایٹل گانا۔پھر بھول بھلیاں کا۔ہرے رام۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہمیں صرف اسلام کی ہی نہین دوسرے مزاہب کے بارے میں بھی ضروری معلومات ہونی چاہیں۔ہرے رام کی اہمیت ہندو مذہب میں ایسی ہی ہے جیسی اہمیت ہمارے مذہب میں ہمارے نزدیک کلمہ ہے۔۔۔۔۔۔۔جب کہی ہرے رام گنگناتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہو گا کہ وہ رام یعنی بھگوان کو ماننے کا اس پے یقین رکھنے کی بات کہ رہا ہے۔استغفراللہ۔۔

اس کے علاوہ بھی اگر ہم دوسرے گانوں کی بات کریں۔تو بہت سے الفاظ ،گانوں کے بول ایسے آرہے ہیں کہ سن کر ہی ہم کفار کے ساتھ اس گناہ کبیرہ میں برابر کے شریک ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔ان اینڈین گانوں کے بول ہمارے اعتقاد کے مطابق ہتک آمیز ہیں جب ہم ڈنمارک کے ملعونون کی بات کرتے ہیں تو ایسے گانے لکھنے اور گانےو الوں‌کے بارے میں بھی ہمیں کم از کم اپنا طرز عمل بدلنا چاہیے۔۔۔۔۔۔ جیسے کہ یہ گانا “سانوریا “فلم کا اکثر و بیشتر سنائی دیتا ہے۔۔۔
جب سے تیرے نینا
میرے نینوں سے
لگے رے
تب سے دیوانہ ہوا
سب سے بے گانہ ہوا
رب بھی دیوانہ لگے رے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب اس گانے کو سن کے کیا ہم گناہ نہیں کر رہے۔۔۔۔۔۔نعوزباللہ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی اب ایک لڑکی سے انکھیں ملا کے اللہ بھی دیوانہ ہونے لگا۔۔۔استغفراللہ۔۔

ایسے گانوں کے لکھنے والے گانے والے غیر مسلم ہیں لیکن ہمیں ایسے گانے سننا تو دور اپنے آس پاس بجنے سے بھی حد درجہ اخیتاط کرنی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور بھی بہت سے ایسے گانے مختلف وقتوں میں اتے رہے لیکن ہم میں سے کسی نے اس بارے میں‌بات نہیں کی نا ہی کسی قسم کی ناگواری کا اظہار کیا۔۔۔۔۔بہت پہلے یہ گانا آیا تھا۔۔۔۔

۔حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے
خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانے (نعوذ باللہ)۔۔۔۔۔۔۔بعض اوقات ہم ایسی باتوں‌پے ہنگاما کھڑا کر دیتے ہیں جو بظاہر ہنگامہ کرنے لائق ہوتی نیں اور ہم اپنے آس پاس نظر ڈالنے کی فرصت نہیں‌رکھتے۔۔۔کسی گیت میں خدا کے نام واہیات باتیں منسوب کی جاتی ہیں اور کہیں عام انسانوں کو خدا کا رتبہ دیا جاتا ہے۔۔۔۔ایسے بہت سے گیت ہمیں کفر سے قریب تر کرتے جاتے ہیں۔۔۔۔۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں شرک جیسے ظلم سے بچائے اور گناہ کبیرہ کرنے سے اپنی پناہ میں‌رکھے۔آمیں۔۔

دبئی شاپنگ فیسٹیول

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 11 February 2008

میں نے سوچا بہت ہو گئی سیاست اب کچھ اپنے آس پاس نظر دڑائی جائے اور کچھ نیا لکھا جائے۔۔۔۔پھر مجھے دبئی شاپنگ فیسٹیول کا خیال آیا۔جو کہ آج کل ذوروشور سے جاری ہے۔۔۔۔

دبئی شاپنگ فیسٹیول پچھلے دس سال سے دبیئ میں منقعد کیا جاتا ہے۔۔۔شروع کے ایک دو سال تو متحدہ عرب ریاستوں کے لوگ ہی لطف اندوز ہوئے مگر بعد میں آہستہ آہستہ پوری دینا سے لوگ انے لگے۔یہ ایک خریدوفرخت کا اچھا موقعہ ہے۔۔۔۔شروع کے سال بر دبیئ میں اس کے لیے ایک جگہ مخصوص کی گئی پھر اگلے ہی سال اس کی جگہ بدل کر غرود برج کے ساتھ اس کا اہتمام کیا گیا۔۔۔پعر فئسٹیول کی بڑھتی ہوئی مقبلیت نے شہر میں ٹریفک اور پارکنگ جیسے مسائل پیدا کر دیے۔۔۔۔اب اس کی جگہ پھر سے بدل کر ایمریٹس روڈ پعر بہت کھلی جگہ پعر مستقل بنا دی گئی ہے۔۔جس کو “گلوبل ویلج”کا نام دیا گیا ہے۔۔۔۔ایک ًخصوص جگہ پر پوری دنیا کے ملکوں کو چھوٹے چھوٹے سے ویلج دیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے ملک سے لائی ہوئی مصنوعات فروخت کر سکیں۔۔۔۔اب یہ گلوبل ویلج مستقل ہے وہاں جو سارا سال رہتا ہے۔پارکنگ کا بہترین انظام ہے۔اور راستے مٰن ٹریفک بھی کہیں بلاک نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔

25 جنوری سے اس کا اغاز ہوا تو ہم بھی جا نکلے۔۔۔سب سے پہلے پاکستان پیارا پاکستان کی محبت کینچھ لے گئی۔پچھلی بار بادشاہی مسجد کا ٹایئٹل تھا اب کی بار درہ خیبر کی لک دی گئی تھی اور جو باب خیبر بنا ہوا تھا اس کے لیے پتھر بھی خیبر سے ہی لایا گیا تھا اور بلکل اصلی کا گمان ہوتا تھا۔۔۔۔پہلے مجھے شکواہ ہی رہتا تھا کہ پاکستانی بزنس کمیونٹی سارا لیدر اور چینوٹ کا فرنیچر ہی اٹھا لاتے ہیں۔۔۔۔اس بار میری شکایت دور ہو گئی تھی ۔۔دل باغ بہار ہو گیا اپنے ملک کی نت نئی مصنوعات دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرنیچر اور لیدر کی چیزین تو تھیں ہی ساتھ میں رنگ برنگی لان،سلک کے کپڑے۔جہتے چوڑیاں جیولری۔۔۔۔۔۔بیڈ شیٹس اور بھی بہت سی اشاء کھانے کا زکر نا ہو کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔جی ہاں ساری پاکستانی ڈشیز تھیں حلیم،نان۔بریانی،دہی بڑے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔کچھ خریداری کرنے کے بعد آگلے پویلین کا رخ کیا۔۔۔۔سوڈان سے تو بہت سی مہندی اور شہد آتا ہے۔پھر ہم افریقی ممالک کے ویلجز میں گئے جہاں لکڑی کے بنے شو پیسز تھے اور ہان چھابے بھی تھے اور سانپ والی پٹاری بھی ۔۔۔جو تنکوں سے بنی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔میری امی کہتی ہیں یہ سانپ والی پٹاری اج کل کی نسل کہتی ہے اسے۔۔۔۔۔سارا ٹیطی کا کمال ہے جب کہ پہلے زمانے میں جب ہاٹ پارٹ نہیں تھے تو اس کو دیسی ہارٹ پارٹ کے طور پے استعمال کیا جاتا تھا روٹی رکھنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔پھر سعودیہ کے پولین کا رخ کیا کہ ہمیں تو نام سے ہی بڑی عقیدت ہے قدم رکھتے ہی طرح طرح کی خوشبووں سے دماغ چکرا گیا پورا پولین گھوم پھر کے دیکا تو ہر طتف اوود کے دھویں اور کھجور کی مختلف چیزوں کے سوا کچھ نظر نہیں آیا۔۔۔کھجور کا پیسٹ،کھجور کا جیم،کھجور کے بسکٹ،کھجور کا یہ وہ۔۔۔۔۔۔پھر ہم نے انڈیا،جاپان۔یو اے ائ،مصر،ایران،اور بھی بہت سے پویلینز کا وزٹ کیاسب سے زیادہ رش چایئنا کے ویلج میں تھا کہ چین سے انے والی چیزین اچھی اور قیمت میں کم ہوتی ہیں۔۔۔اس لیے چین کے ویلج میں بہت رش تھا وہان سے نکلے ہی تھے کہ انڈین اداکار وویک ابرائے کے درشن ہو گئے کسی ڈرا کے سلسلے میں ایا ہوا تھا کچھ دعر وہاں رک کے پھر ہم نے واپس پاکستان ویلج کا رخ کیا کہ سلیم جاوید کا میوزک کنسرٹ شروع ہونے والا تھا۔۔۔۔۔چند ایک نامعلوم سنگرز بھی تھے۔۔پاکستان کے موجودہ حالات سے اداسی جاتی رہی جب سلیم جاوید کے ڈھول کی تھاپ پے ملی نغمے پے ساری پاکستانیوں کو محو رقص دیکھا تو۔۔۔11 بجنے والے تھے جب ہم نے کنسرٹ سے نکلنے کا ارادہ کیا۔۔۔۔۔۔۔کہ اب بھوک ستا رہی تھی پاکستان پویلین میں چٹے پٹے پاکستانی کھانے سے لطف اندوز ہوئے اور 12 بجے گھر کی راہ لی۔۔۔۔گھر پہنچتے پہنچتے 2 بج چکے تھے اور تھکن سے برا حال تھا۔۔مگر پھر بھی مستی اور انجوائے منٹ سے بھرپور دن گزرا۔۔۔اگلے قصے اگلے وزٹ پے تب تک فی امان اللہ

بارش کی کہانی

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 14 January 2008

ہم صحرا میں رہنے والے ہمیشہ سے بارش کو ترسے ہوئے لوگ ہیں۔۔۔۔۔۔اس بار تو کمال ہی ہو گیا۔۔۔پچھلے ایک ہفتے سے سورج نہیں نکلا۔۔۔وقفے وقفے سے بارش جاری ہے۔۔۔۔۔کل سارا دن بارش تو نہیں ہوئی مگر بادل چھاے رہے اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوایئں چلتی رہیئں۔۔۔۔۔ہم نے بھی موقعے سے فائدہ اٹھایا اور سرما کے پکوانوں سے لطف اندوز ہوئے

کل سارے دن کے چھائے بادلوں نے رات میں ایک بار پھر جی بھر کے پورے سال کی کسر نکالی۔۔۔۔۔ساری رات خوب بارش ہوئی۔۔۔۔۔صبح ہر طرف جل تھل تھی تھوڑی ہی دیر بعد دوستوں کے میسج آنا شروع ہو گئے ہر کوئی ایک دوسرے کہ رات میں ہونے والی بہت سی بارش کی اطلاع دیتا نطر آیا،،،،،سب کو یہی کہتے سنا”ارے دیکھا تئم نے باہر۔۔۔۔شارجہ ڈوب گیا”۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا واقعی آج شارجہ ڈوبا ہوا ہے فٹ پاتھ تک پانی ہے گاڑی تک جانا محال ہے۔مجھ جیسے پھر بھی پانی میں چھپا چھپ کرنے سے باز نہیں آتے۔۔۔سردی ہو گی نازک مزاج عربیوں کے لیے ہم ٹھہرے سخت جان پاکستانی ۔۔۔۔اتنی سی سردی بھی بھلا کوئی سردی ہوئی کہ بندا پانی سے بچ بچ کے چلے اور پاؤں بھی گیلے نا کرے ۔۔۔

اب گاڑی کا ہم بینڈ بجا چکے ہیں کہ پرسوں بارش میں پھسلن کی وجہ سے ایک عقل کے اندھے نے پیچھے سے دے ماری مزے کی بات یہ کہ میں نے اسے کچھ کہا بھی نہیں۔۔۔مجھے بھی بارش میں شرطے کا انتظار اچھا لگ رہا تھا۔۔۔ہاہاہاہا گھر سےکچھ دیر اور باہر رہنے کا بہانہ جو مل گیا تھا ہم بھی چلے تھے بارش میں چھپا چھپ کرنے ابھی تک نیچے کھڑی ہے ایک دو دن میں گیراج میں دینی ہو گی تبھی پھر سے بارش میں ڈرایئو کے مزے لوٹیں گے۔

بس اللہ کرے کچھ دن اور بارش ہوتی رہے۔۔۔تاکے میری گاڑی ٹھیک ہو جائے اور میں پھر سے پانی کے چھینٹے اڑا کے خوش ہو لوں۔۔۔آج تو ویسے ہی فون پے فون بج رہا ہے سب خوشی سے ایک دوسرے کو اطلاع دے رہے ہیں۔۔سچ میں اتنی بارش اتنا پانی افففففففف گزرنے کی جگہ نہیں ویسے بھی بچ کے گزرنے کی ضرورت کسے ہے۔۔۔۔۔۔ہاہاہا

آج میں سوچ رہی ہوں کسی دوست کی طرف جاؤں اور کہیں باہر جایئں کہ یہاں بارش میں لوگ کم ہی گھروں میں دبک کے بیٹھتے ہیں سڑکوں پے جتنا رش بارش میں ہوتا ہے اتنا کبھی بھی نہیں ہوتا ہر کوئی باہر نکلا ہوا ہوتا ہے۔۔۔۔میں بے چاری تو ویسے ہی 2 دن سے پیدل ہو گئی ہوں اب مجھے بھی کسی دوست ہمدرد کی خدمات حاصل کرنی ہوں گی انجوائے کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فلحال بارش کی کہانی اتنی کافی ہے باقی کی پھر کبھی۔۔۔۔

2007 کے اہم ملکی واقعات

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Tuesday، 1 January 2008

ویسے تو 2007 ہمارے ملک کے لیے بہت بھاری رہا۔۔سارا سال ہی کچھ نہ کچھ برا ہوتا رہا ہمارے پیارے ملک میں بہت خون بہا، بہت لاشیں گریں۔۔جاتے جاتے بھی یہ سال راوالپنڈی میں دھماکے میں بہت سے گھر اجاڑ گیا۔۔۔۔2007 میں ہونے والے کچھ اہم ملکی واقعات جو یاد تھے اور کچھ یہاں، وہاں سے سرچ کیے درج ذیل ہیں۔۔۔۔
یکم جنوری۔ پاکستان میں عید الضٰی منائی گئی۔
4 جنوری۔ افغان مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی شروع ہوئی۔
6 جنوری۔ لاہور میں شدید سردی کا 71 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔
7 جنوری۔ پاکستان میں شدید سردی سے 22 افراد ہلاک ہوئے۔
9 جنوری۔ نوشہرہ میں جماعت اسلامی کے جلسے میں 3 بم دھماکے ہوئے 1 فرد ہلاک ہوا۔
27 جنوری پشاور میں خود کش بم دھماکہ ہوا۔ سٹی پولیس چیف سمیت 16 افراد ہلاک۔
4 فروری صدر مشرف نے 3 ترمیمی آرڈیننس جاری کی۔
6فروری اسلام اباد ایئر پورٹ پر خود کش حملہ 3 اہل کار زخمی۔
10 فروری جامعہ حفصہ کی طالبات کا لائبریری کا قبضہ ختم کرنے سے انکار۔
15 فروری سپریم کورٹ نے 10 لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے حکومت کو 3 ہفتوں کی مہلت دی۔
17 فروری کوئٹہ ضلعی عدالت میں خودکش دھماکہ جج سمیت 16 افراد ہلاک۔
19فروری نئی دہلی سے لاہور آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے سے جل کر راکھ ہو گئی 100 پاکستانی ہلاک۔
20 فروری سپریم کورٹ نے حسبہ بل پر صدارتی ریفرنس منظور کر لیا۔
20 فروری گوجرانوالہ میں صبائی وزیر ظل ہما عثمان کو قتل کر دیا گیا۔
21 فروری پاکستان اور بھارت میں حاثاتی ایٹمی جنگ سے بچنے کا معاہدہ۔
23 فروری 2ہزار کلو میٹر تک مار کرنے والے ایٹمی میزائل حتف شاہین کا کامیاب تجربہ۔
25 فروری اسلام اباد میں 7 مسلم ممالک کے وزراے خارجہ کا مطالبہ کہ ایران کے خلاف طاقت استعمال ناکی جائے۔
26 فروری کویئٹہ میں ریلوے لائن آڑا دی گئی۔
2 مارچ برطانیہ نے بوئنگ 777 کے سوا تمام پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگا دی۔
9 مارچ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو سپریم کورٹ میں کام سے روک دیا گیا۔
12 مارچ ملک بھر میں وکلاء کی ہڑتال۔
13 مارچ چیف جسٹس نے جوڈیشل کونسل کی آئینی حیثیت چیلنج کر دی۔
15 مارچ حکومت نے جیو نیوز کے پروگرام” آج کامران خان کے ساتھ” پر پابندی لگا دی۔
15 مارچ اسلام اباد میں جیو نیوز کے آفس پر پولیس کا حملہ۔
17 مارچ پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار پولیس نے لاہور ہائی کورٹ کے اند بدترین آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔
18 مارچ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ با ب وولمر ویسٹ انڈیز میں پر اسرار طور پر مردہ پائے گئے۔
22 مارچ جسٹس بھگوان داس قائم مقام چیف جسٹس مقرر۔
24 مارچ ملک بھر میں وکلاء کی ہڑتال اور عدالتوں کا بایئکاٹ
28 مارچ جامعی حفسہ کی طالبات نے اسلام اباد میں 3 خواتین کو بدکاری کے الزام میں اغوا کر لیا۔
29مارچ کھاریاں میں پولیس کے تربیتی کیمپ پر خود کش حملہ 2 اہلکار ہلاک۔
2 اپریل قاضی حسین احمد اپنی رہائش گاہ پر 2 دن کے لیے نظر بند۔
8 اپریل چوہدری شجاعت کے لال مسجد انتظامیہ سے مذکرات۔
10 اپریل چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھجوانے کا صدارتی حکم سپریم کورٹ‌میں چیلنج۔
20 اپریل الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کی نااہلی کی درخواست مسترد کر دی۔
22 اپریل جامعہ حفصہ کو متبادل جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ۔
28 اپریل آفتاب شیرپاؤ کے جلسے میں خود کش دھماکہ 32 لوگ ہلاک۔
5 مئی اسلام اباد سے لاہور تک چیف جسٹس کا شاندار استقبال۔
5 میہ ملک بھر میں نجی ٹی وی چینلز کی نشریات روک دی گیئں۔
8 میہ جستس رمدے کی سربرہی میں فل کورٹ کی تشکیل۔
12 مئی کراچی میں چیف جسٹس کی آمد اور ایم کیو ایم کی ریلی پرتشدد واقعات میں 40 لوگ ہلاک۔
13 مئی پاک افغان سرحد پر مورچوں کی تعمیر پر جھڑپ 7 افغان فوجی ہلاک 3 پاکستانی اہلکار زخمی۔
13 مئی کراچی میں شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم۔
14 مئی اسلام اباد میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار حماد رضا کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
15 مئی پشاور ہوٹل میں بم دھماکہ 25 افراد جاں بحق۔
18 مئی لال مسجد طلبہ نے 4 پولیس اہلکار اغوا کر لیے گرفتار طلبہ کو رہا کرنے کا مطالبہ۔
19 مئی۔ 12 مئی کے پر تشدد واقعات کے حولے سے ایم کیو ایم کی قیادت کے‌خلاف مقدمہ۔
20مئی لال مسجد انے ولاے 200 طلبہ گرفتار۔
26 مئی سندھ ہائی کورٹ کے ججز نے متفقہ فیصلہ کیا کہ آیندہ کوئی جج قائم مقام گورنر نہیں بنے گا۔
27 مئی عمران خان پر لاہور سے باہر نکلنے پر پابندی۔
27 مئی جنوبی وزیرستان میں مستقل فوجی چھاؤنیاں قائم کرنے کا فیصلہ۔
29 مئی کوئٹہ میں بم دھماکے۔
29 مئی لاہور میں امام کعبہ کا شاندار استقبال۔
30 مئی قومی احتساب بیورو سوئیس کورٹ سے بے نظیر کے کرپشن کیس سے دستبردار۔
9 جون۔ قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانی عمر ایوب نے بجٹ پیش کیا
11 جون عمران خان نے سکاٹ لینڈ یارڈ کو الطاف حسین کے خلاف ثبوت دیے
11 جون اسلام اباد پولیس نے پاکستانی نژاد کینڈین کفیلہ صدیقی کے قتل کے الزام میں وفاقی وزیر شاہد جمیل کے خلاف مقدمہ
12 جون ایم کیو ایم نے عمران خان کی نا اہلی کے خلاف اسمبلی میں ریفرنس جمع کروایا
18 جون چاند اور سیارہ زہرا قریب آگئے۔ لاکھوں پاکستانیوں نے خوبصورت منظر دیکھا
19 جون شمالی وزیرستان کے مدرسے میں دھماکے 32 افراد ہلاک
19 جون برطانوی ہائی کمشنر کی دفتر خاجہ طلبی رشدی کو “سر” کا خطاب دینے پر احتجاج
22 جون جامعہ حفصہ کی طلبات نے چینی خواتین کو اغوا کر لیا
23 جون کراچی میں آندھی، طوفان، بارش۔ 45 افراد ہلاک
23 جون جنوبی وزیرستان میں اتحادی طیاروں کی بمباری۔ 33 افراد ہلاک
23 جون لال مسجد انتظامیہ نے اغوا کیے گے 9 افراد کو رہا کر دیا
24 جون کراچی میں بارش سے ہلاکتیں 200 ہو گیئں
26 جوں سمندری طوفان بلوچستان کے ساحل سے ٹکرا گیا 15 افراد ہلاک
3جولائی لال مسجد کے اطراف کرفیو، فوج کا آپریشن 12 افراد جان بحق
4 جولائی لال مسجد کے خطیب عبدلعزیز گرفتار 200 طلبہ نے خود کو حکام کے حوالے کیا
4 جولائی۔ عمار لیاقت، قومی اسمبلی اور وزارت سے مستعفیٰ
6 جولائی صدر کے طیارے پر حملہ کی کوشش ناکام
10 جولائی لال مسجد کے نائب خطیب عبدالریشید غازی سمیت 70 دہشت گرد ہلاک
12 جولائی خطیب عبدالریشید غازی کو ڈیرہ غازی خان میں سپرد خاک کیا گیا۔

۔14 جولائی میران شاہ سیکیورٹی فورسز پر خودکش حملہ 24 شہید 29 زخمی

16جولائی چیف جسٹس کے خلاف عدالتی بدعملی کا الزام واپس لے لیا گیا

17 جولائی چیف جسٹس کے استقبالی کیمپ میں دھماکہ 18 ہلاک
19 جولئی 3 شہروں میں بم دھماکے۔۔۔حب 30 ،ہنگو8 اور کوہاٹ 19 ہلاک

20 جولائی ملک کی پہلی سپر فٹبال لیگ کراچی میں شروع ہوئی

20 جلائی صدارت ریفرنس کے خلاف فیصلہ چیف جسٹس عہدے پر بحال

20 جولائی دیر بالا کے ایک گاؤں پے آسمانی بجلی گرنے سے 70 افراد زندہ جل کر ہلاک

23 جولائی وزیرستان میں جھڑپ میں 35 جنگجو اور 3 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق

24 جولائی جحڑپ مٰں طلبان کمانڈر عبداللہ محسود نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا

24 جولائی بنوں شہر پر راکٹوں سے حملہ 13 ہلاک

25 جولائی لال مسجد کے خلاف آپریشن سپریم کوڑت میں چیلنج

27 جولائی لال مسجد کے قریب خود کش دھماکہ 13 ہلاک

27 جولائی رزاق بگٹی فائرنگ سے جاں بحق

28 جولائی بلوچستان میں امریکی جاسوسی طیارہ گر کر تباہ

1 اگست شریف برادران جلاوطنی کے بعد واپسی کے لیے سرگرم

اگست سرگودھا پولیس ٹرینگ سنٹر پر خود کش حملہ ناکام

2 اگست شریف برادران کی واپسی اور الیکشن مین حصہ لینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر3 اگست جاید ہاشمی کی سزا معطل رہائی کا حکم۔

7 اگست سنگھ ہایئکورٹ نے وزارت داخلہ کو حکم دیا کہ بے نظیر کے ریڈ نوٹس واپس لیے جایئں۔۔

10 اگست کراچی میں بارش سے تباہی 33 افراد جان بحق

13 اگست چیف جسٹس کے بحالی کے بعد صدر نے پہلے بار بلواسطہ رابطہ کیا۔۔
13 اگست کوہستان مین سیلابی ریلے میں 10 گاؤں بہ گئے۔۔

15 اگست 5 لڑکیوں کو ونی کرنے کے جرم میں سپریم کورٹ نے پی پی پی کے رکن اسمبلی ہزار خان بجرانی کی گرفتاری کا حکم دیا

16 اگست وزیرستان میں فورسز پر حملے میں 16 اہلکار شہید۔

20 اگست ہنگو میں چوکی پر حملہ 16 اہلکار شہید۔۔18 زخمی

21 اگست سپریم کورٹ نے کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا۔۔

23 اگست عدالت کا فیصلہ شریف برادران واپس آسکتے ہیں حکومت رکاوٹ نا ڈالے۔

28 اگست بے نظیر بھٹو سے صرد مشرف کی اعلیٰ ٹیم کے مزکرات کامیاب۔
29 اگست 100 پاکستانی فوجی وانا میں طلبان کے ہاتھوں اغوا
30 اگست شریف برادران نے اسلام اباد اترنے کا علان کیا۔۔

1 ستمبر کراچی ناردرن بائی پاس کا ایک حصہ گر گیا 6 افراد ہلاک۔۔
3 ستمبر ونی کیس میں ضمانت مسترد ہونے پر ہزار بجرانی عدالت سے فرار۔۔۔
4 ستمبر راولپنڈی چھاونی میں دھماکے 27 افراد ہلاک۔۔
7 ستمبر شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری۔۔۔۔

10 ستمبر نواز شریف اسلام اباد ایئر پورٹ پر گرفتار پھر سے جلا وطن۔۔
10 ستمبر وکلاء تحریک میں فعال ریاض ایڈوکیٹ قتل۔۔

ڈیر اسماعیل خان خود کش حملے میں 18 افراد ہلاک۔۔

11 ستمبر وزیر اعظم کا پروٹکول افسر اغوا کے بعد قتل۔۔

13 ستمبر تربیلا غازی ایس ایس جی کے مرکز پر دھماکہ 20 کمانڈوز شہید۔۔

14 ستمبر ٹریکٹر ٹرالی ستلج میں جا گری 40 ہلاک۔۔

20 ستمبر صدارتی انتخابات 6 اکتوبر کو کروانے کا علان۔۔

27 ستمبر اے پی ڈی ایم کی طرف سے استعفیٰ دینے اور سرحد اسمبلی توڑنے کا اعلان۔۔۔

28 ستمبر سپریم کورٹ کا صرد کے 2 عہدوں کے خلاف درخواستین مسترد۔۔
29 ستمبر اسلام اباد وکلاء صحافیوں پر بد ترین تشدد۔۔۔۔۔۔

1 اکتوبر 5 صدارتی امیدواروں کی فہرست جاری۔۔۔

1 اکتوبر پاک بھارت میں 60 سال میں پہلی بار سڑت سروس شروع۔۔۔

2 اکتوبر صوبائی اسمبلیوں سے اپوزیشن کے 164 استعفے

4 اکتوبر حکومت اور پی پی پی میں مصالحتی آرڈیننس پے اتفاق۔۔
6 اکتوبر صدارتی انتخابات مشرف بھاری اکثریت سے کامیاب۔۔۔

8 اکتوبر بے نظیر کے خلاف کرپشن کے تمام مقدمات واپس۔۔

10 اکتوبر سرحد اسمبلی توڑ دی گئی۔۔

11 اکتوبر شہباز شریف نے مصالحتی آرڈیننس سپریم کورت مٰن چیلنج کر دیا

12 اکتوبر لاہور ہائی کورٹ نے بےنظیر کی 3 سال کی سزا ختم کر دی۔۔

12 اکتوبر مہمند ایجنسی مقامی طلبان نے 6 افراد کو سر عام زبح کر دیا۔۔

18 اکتوبر بے نظیر جلا وطنی ختم کر کے کراچی پہنچی۔۔۔

18 اکتوبر بے نظیر کے جلوس مین دھماکہ 140 افراد جاں بحق۔۔

26 اکتوبر سوات مٰن 14 افراد اغوا۔5کے سر قلم کر دیے گئے۔۔

30 اکتوبر راولپنڈی دھماکہ 7 ہلاک 33 زخمی۔۔۔۔

1 نومبر فضایئہ کی بس پر خود کش حملی 9 افراد شہید۔۔

3 نومبر ملک می ایمرجنسی کا نفاز تمام ٹی وی چینلز بند۔۔

3 نومبر ابلحمید ڈوگر نے چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا۔۔۔

9 نومبر پشاور وفاقی وزیر کے گھر پر حملہ 3 ہلاک۔۔۔
15 نومبر قوم اسمبلی اپنی آیئنی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہو گئی۔۔

16 نومبر میاں محمد سومرو نگراں وزیراعظم ۔۔۔
18 نومبر سندھ پنجاب بلوچستان کی اسمبلیاں تحلیل۔۔۔۔

21 نومبر بلاچ مری ہلاک۔۔
22 نومبر ایم کیو ایم کے شریف خان کراچی میں قتل۔۔
24 نومبر راولپنڈیمیں 2 خود کش دھماکے 33 ہلاک۔۔۔

25 نومبر میاں شریف کی لاہور آمد۔۔
25 نومبر سوات مٰن فوجی آپریشن۔۔۔۔۔
28 نومب صدر مشرف ارمی چیف کے عہدے سے سبکدوش۔۔

29 نومبر صدر نے سولین صدر کا حلف آٹھایا۔۔۔

1 دسمبر شہباز شریف کے کاغزات نامزدگی مسترد۔۔
3دسمبر نواز شریف کے بھی کاغزات مسترد۔۔
4 دسمبر پی سی او کے تحت حلف نا لینے والے 37 ججز کے برطر فی کا ںوٹس جاری۔۔
9 دسمبر سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ۔۔
10 دسمبر کامرہ فضایئہ کی سکول بس پے کود کش حملہ 21 بچے شہید۔۔

11 دسمبر کروز مزایئل حتف سیون کا کامیاب تجربہ۔۔
15 دسمر 45 دن بعد ملک سے ایمرجنسی کا خاتمہ۔۔

17 دسمبر کوہاٹ مین دھماکہ 12 اہلکار شہید۔

18 دسمبر کراچی ایکسپریس کو حادثہ 65 افراد جاں بحق۔۔

21 دسمبر چارسدہ مین نماز عید میں کود کش دھماکہ 60 افراد شہید۔۔

24 دسمبر اداکار اظہار قاضی کا انتقال۔۔
26 دسمبر الیکشن کے لیے 200 غیر ملکی مبصرین کو ویزے جاری کیے گئے۔۔۔27 دسمبر راوالپنڈی مٰیں دھماکہ بےنظیر گولی لگنے سے جابحق۔۔۔30 افراد ہلاک۔۔۔۔۔۔۔

28 دسمبر بےنظیر کی وفات کے بعر جلاؤ گھیراؤ ،مٰ کھربوں کا قومی نقصان۔۔۔53 افراد ہلاک۔۔۔

یوں 2007 اپنے خونی پنجے سمیٹے ہم سے رخصت ہوا

زینب آن لائن ہیں  

جملہ حقوق بحق منفرد محفوظ ہيں.