ٹیگنگ۔۔۔۔۔۔۔
مصنف زینب بتاریخ June 22, 2008 – 3:40 pm ۔ٹیگنگ کا جو سلسلہ جہانزیب نے شروع کیا بہت اچھا ہے۔۔۔مجھے ساجد اقبال نے ٹیگ کیا ہے اور میں اگے کچھ لوگوں کو دعوت دوں گی کو وہ بھی اس سلسلے میں شامل ہو کے جہانزیب کی ایک اچھی کاوش کو کامیاب کرنے میں مدد کریں۔۔۔۔
1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟
کسی بھی رنگ کی نہیں میں سخت سردی میں بھی جرابیں نہیں پہنتی
2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہنے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟
کچھ بھی نہیں سن رہی۔
3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟
ابھی صبح کے ناشتے میں ایگ سینڈوچ اور چائے پی۔۔۔
4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟
“جب وی میٹ” دیکھی تھی ٹی وی پے ہے لگی تھی
5) آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟
معاف کر دینا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے جو سزا دینے پر قادر ہو۔۔۔(حضرت علی)
6) کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟
کمپیوٹر پے تھی اخبار پڑھ رہی تھی
7) کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟
حضرت عمر فاروق سے مجھے ان سے انتہائی عقیدت ہے۔۔
غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟
ٹی وی دیکھتی ہوں
9) فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟
بھائی سے کچھ دیر پہلے۔۔۔10)
آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟
عید۔۔۔۔ عید پے بہت مزہ اتا ہے اور ہمارا مسلمانوں کا یہی بڑا تہوار ہے
اب میں فلحال دو لوگوں کو ٹیگ کر رہی ہوں پھر اپڈیت کر دوں گی۔ خرم شہزاد کو اور عمار کو
زمرہ بن موضوع کے کے تحت شائع ہوا |

June 22nd, 2008 at 9:00 pm
معاف کر دینا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے جو سزا دینے پر قادر ہو۔۔۔(حضرت علی)
بہت اعلی
June 26th, 2008 at 11:45 am
اعلی تو ہے بدتمیز۔۔۔۔۔اگر اس پر عمل کیا جائے تو۔ویسے ہماری عادت ہے کوئی ہمیں ٹیڑھی آنکھ سے ایک بار دیکھے تو ہم 10 بار دیکھنا فرض سمجھتے ہیں
June 27th, 2008 at 1:50 am
زينب
السلامُ عليکُم
زبر دست لگی آپ کی باتيں اور ياديں اور مُجھے بھی آپ کا پسنديدہ قول سب سے اچھا لگا
June 27th, 2008 at 1:55 am
کہ واقعی مُعاف کر دينا سب سے بہترين عمل ہے ليکن اُتنا ہی مُشکل بھی کہ دس بار کيُوں ديکھيں گے ٹیڑھی آنکھ سے سيدھے سبھاؤ آنکھ نکال کر ہاتھ پر نا رکھ ديں گے يہ حال ہے
June 27th, 2008 at 1:59 am
ٹيڑھی کی ٹ نا جانے کہاں رہ گئ اُس کے بدلے شد آگئ نا جانے کيسے ہو سکے تو ٹھيک کردو غلطی املا کی برداشت نہيں ہوتی کسی کی بھی تواپنی تو بالکُل بھی نہيں
June 27th, 2008 at 10:18 am
معذرت کے ساتھ اس قول کی مجھے ایسے نہیںسمجھ ؔئی جیسے ؔپکو
میرے خیال سے اس کا مطلب ہے کہ کمزور معاف کرتے اچھے نہیں لگتے کیونکہ ظلم پر چپ رہنا بزڈلی اور ظلم کو مظبوط کرتی ہے۔ لہذا ظلم کے خلاف ؔواز اٹھانی چاہٕے نہ کہ کہنا کہ میںنے معاف کر دیا کیونکہ جب سزا دینے پر قادر ہی نہیں تو معافی کیس؟
July 1st, 2008 at 2:56 pm
زینو! میں نے تمہیں یہاں ٹیگ کیا ہے۔ :razz:
July 3rd, 2008 at 7:59 am
بہت شکریہ شاہدہ جی اور راہبر۔۔۔
بدتمیز میرا مطلب بھی یہی تھا پر میں یہ کہہ رہی تھی کہ معاف کر دینا ایک بہت مشکل عمل ہے ہم لوگ کسی کی زیادتی کو سالوں نہیں بھولتے۔۔جب بھی موقعہ ملتا ہے پرانی باتوں کا بدلہ بھی ضرور لینے کی کوشیش کرتے ہیں۔۔۔۔کسی کی ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنا معاف نہیں کرتے تو کہاں بڑی بڑی غلطیاں معاف کریں گیں