مبارک سفر کا احوال۔۔۔(اگلی قسط)
آس پاس Thursday، 19 June 2008اگلی صبح یعنی منگل 10 جون کو ہم مدینہ کے سفر پے روانہ ہوئے۔۔۔۔مکہ سے 506 کلومیٹر۔۔۔۔میں نے کتابوں میں تو 570 پڑھا تھا پر وہاں جو پورڈ لگا تھا اس پے 506 کلو میٹر لکھا تھا۔۔۔۔بہت ویران سا راستہ ہے اب بھی یہ۔۔۔بس دور دور صرف اونٹوں کے ڈیرے نظر اتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔بتھریلے بہاڑ ہیں کہیں چٹیل میدان۔۔۔۔۔۔ہم ظہر سے پہلے پہنچ چکے تھے اسی لیے سامان ہوٹل میں رکھنے کے بعد ہم ظہر کی نماز میں شامل ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔۔ نبی کریم کے روضہ مبارک کی زیارت کا اب ٹائم مخصوص کر دیا گیا ہے۔۔۔۔پہلے اپ جب مسجد نبوی جاتے تھے زیارت کر سکتے تھے اب مردوں کی طرف تو ویسا ہی ہے جبکہ عورتوںکی طرف عشاء کے بعد اور فجر کے بعد کا ٹائم رکھا گیا ہے۔۔۔۔۔اسیلیے ہم نے یہ زیارت عشاء کے بعد کی۔۔۔ایک اہم بات جو میں نہیں جانتی تھی پہلے ہو سکتا ہے بہت سے لوگ جانتے ہوں وہ یہ کہ۔۔۔۔۔۔۔نبی کریم کے روضہ مبارک میں جہاں حضرت عمر اور حضرت ابوبکر بھی نبی کریم کے ساتھ ارام فرما ہیں۔۔وہاں اسی اھاطے میں ایک اور قبر کی بھی جگہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ سلام کو دفن کیا جائے گا۔۔۔۔
زیرات کی اگلی صبح ہم نے مدنیہ منورہ میں زیارات کے لیے جانا تھا۔۔۔۔۔بہت زیادہ گرمی تھی پر ہمارے پاس آج کا ہی دن تھا اگلی صبح ہماری واپسی تھی۔۔۔۔سو ہمزیارات کے لیےع نکلے سب سے پہلے ہم جبل حد گئے وہاں ہی غزوہ احد کے شہراء کی قبریں ہیں جن میں حضرت حمزہ بھی ہیں۔اس کے بعد ہم مسجد قبلاتین گئے یہ وہی جگہ ہے جہاں ہمرا قبلہ مسجد اقصیٰ سے بدل کے مکہ کیا گیا۔۔۔اس کے بعد ہم مسجد قبا گئے یہاں اس مسجد میں 2 رکعت نماز سنت پڑھنے کا ثواب ایک عمرے کے ثواب کے برابر ہے۔۔۔۔اس کے بعد ہم سات مسجدیں دیکھنے بھ گئے جو حضرت ابوبکر،حضرت فاطمہ حضرت علی کے دور کی بنی ہوئی ہیں۔۔۔۔۔حضرت سلمان فارسی کی مسجد بھی دیکھی جو اتنا لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود جوں کی توں ہے۔۔۔۔حضرت عمر کی مسجد کی جگھ اب ایک بڑی مسجد بنا دی گئی ہے کیوں کہ وہ مسجد شہید ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔ساری زیارتیں کرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔ہم ظہر کی نما زمیں شامل ہوئے اگلی صبح آخری نامز مسجد نبوی میں پڑھ کے ہم واپسے کے لیے نکلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راستے میں ایک بار رکنے کے بعد ہم شام 6 بجے ریاض پہنے۔جہاںہم ایک یمنی دوست کے گھر ٹھہرے۔جو 3 سال سے اپنی فیملی کے ساتھ سعودیہ میں مقیم ہیں۔۔۔۔اگلی صبح ہم فجر کے وقت نکلے اور راستے میں تھوڑا تھوڑا رکتے ہوئے شام 5 بجے ابوظہبی پہنچے وہاں سے ہم کچھ دیر بعد نکلے اور رات کو 9 بجے واپس گھر پہنچے۔یوں اس مبارک سفر کا انجام بخیرو خوبی ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ ہمارے ساتھ سب کی حاضری قبول فرمائے۔۔۔
Thursday، 19 June 2008 بوقت 11:14 pm
مبارک، ھو اپ کو بوھت سی، :smile:
Friday، 20 June 2008 بوقت 4:28 pm
شکریہ بوچھی آپی اور میرے بلاگ پے خوش آمدید ۔۔۔۔۔
Sunday، 22 June 2008 بوقت 9:36 pm
. بہت مبارک ہو زینب آپ کو
Tuesday، 24 June 2008 بوقت 11:29 pm
:smile:
thanks,
Monday، 30 June 2008 بوقت 9:51 am
زینب! بہت بہت مبارک ہو عمرہ کی۔۔۔ ویسے مجھے تھوڑی دیر ہوگئی ہے۔۔۔ اور ہاں! مجھے تمہارے تحائف بھی مل گئے ہیں۔ ہفتہ کو موصول ہوئے۔ بہت بہت شکریہ۔
Thursday، 03 July 2008 بوقت 8:01 am
شکریہ راہبر۔۔۔
کریہ امید اور میرے بلاگ پے خوش آمدید