السلام علیکم۔۔۔۔۔میںنے سوچا آج بہت دن کی غیر حاضری کی وجہ لکھ ہی دوں۔۔۔تو ہوا کچھ یوں کہ۔۔۔۔۔۔

ارادہ تو ہر مسلمان کی طرح بہت عرصے سے تھا کہ اللہ کے گھر حاضری دی جائے پر بس اللہ کے بلاوے کی ہی دیر تھی۔۔۔۔۔۔اللہ کاکرم ہوا کہ اس سال اللہ کے گھر سے دعوت نامہ مل ہی گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ویزہ لگنے اور تمام انتظامات خود بخود ہی اللہ کے کرم سے ہوتے چلے گئے ہمارا ارادہ 5 جوں جمعرات کو نکلنے کا تھا۔۔۔
پہلے ہم نے شارجہ سے شام 4 بجے ابو ظہبی کے لیے نکلنا تھا پر پھر ابوظہبی سے بڑے بھائی کا فون ملا کہ نہیں عشاء کے بعد نکلیں گے ۔ہم یہاں سے شام ساڑھے 6 بجے نکلے۔مغرب کی نماز راستے میں ہم نے ایپکو کے پیٹرول اسٹیشن پے پڑھی اور 8 بجے ہم ابوظہبی پہنچے بڑے بھائی کے گھر ۔۔۔۔۔۔۔وہاں ہم نے کھانا کھایا اور عشاء بھی پڑھی پھر گاڑی میں سامان لوڈ ہوا اورہم رات ساڑھے 10 بجے اللہ کا نام لے کے سعودیہ کے سفر پے روانہ ہوئے۔۔۔۔جو کہ ابو ظہبی سے2ہزار کلو میٹر بنتا ہے۔۔۔۔۔

کبھی باتیں کبھی کچھ تسبیحات پڑھتے ہوئے ہم رات کو 2 بجے امارات کے شہر “رویس” پہنچے جو کہ پاکستانی کمیونٹی کی وجہ سے کافی مشہور ہے رویس میں بہت سے پاکستان بھائی کام کرتے ہیں وہاں رک کے ہم نے نیند بھگانے کے لیے چائے پی کچھ دیر باہر نکلے اور پھر سے تازہ دم ہو کے اگے کا سفر شروع کیا۔۔۔رویس ابوظہبی سے کم وبیش 380 کلو میٹر ہے اس کے بعد مدینہ زید اور پھر سلہ جو کے بارڈر سے 18 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔۔۔۔اگے جا کے بارڈر پر کاغذی کاروائی پوری کی اور ساڑھے 3 بجے کے قریب ہم “بطحاء” بارڈر کراسکر کے سعودیہ میں داخل ہو گئے۔۔۔۔۔امارات کے بارڈر سے لے کر سعودی شہر الحرض تک کا فاصلہ 500 کلو میٹر ہے اور مشکل یہ ہے کہ یہ بوتھ وے سڑک ہے۔۔ابھی کیوں‌کہ صبح کی روشنی میں ابھی ٹائم تھا اس لیے اس سڑک پے سٹریٹ لائٹس نا ہونے کی وجہ سے اندھیرا تھا اس پے بھی زبردست ریت کا طوفان تھا اس علاقے میں اسی لیے گاڑی چلانے میں کافی دوشواری ہو رہی تھی۔۔۔۔ریت کا طوفان اتنا شدید تھا کے سپیڈ زیادہ کرنے کی وجہ سے بڑی گاڑی ہونے کو باوجود بلینس نہیں رہتی تھی خیر آہستہ آہستۃ صبح کی روشنی نمودار ہونے لگی اور ہم نے ایک پیٹرول اسٹیشن پے صبح کی نماز پڑھیا ور تھرموس میں چائے لے کے آگے کو نکلے ۔۔۔۔۔۔سفر کے دوران ہی ہم نے چائے پی اب صبح کی روشنی ہو چکی تھی اس لیے سفر آسان ہو گیا تھا الحرض سے الخرض200 کلو میٹر ہے جو ہم نے8بجے تک طے کر لیا تھا۔۔۔۔وہاں رک کے ہم نے ناشتہ کیا اور کچھ دیر کو ایک مسجد می لیٹ‌گئے ریسٹ کے لیے یہ کیوں کہ بہت ویران علاقہ ہے سعودیہ کے ان بارڈر کے ساتھ و الے شہروں میں آبادی بہت دور دور ہے سڑک سے اس لیے ڈھنگ کا رسیٹ ہاؤس ملنا یا پھر اچھا کھانا ملنا کافی مشکل ہے جو کچھ ملے اسی پے صبر شکر کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔وہاں نیند تو نہیں آئی کسی کو بھی پر گاڑی کو بھی ریسٹ دینی تھی اسی لیے ہم وہاں ایک گھنٹہ رکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر سے سفر کا آغاز ہوا اور ہمرا اگلا پڑاو سعودیہ کا شہر ریاض تھا جو کہ اب بھی 300کلو میٹر تھا۔۔۔۔راستے میں چھوٹے چھوٹے دور دراز قصبے پڑتے ہیں کچی پکی آبادیاں ہیں۔اگلے دن چونکہ جمعہ تھا ہم 1 بجے ریاض شہر میں داخل ہوئے۔کل ملا کے اپنے پنڈی جیسا ہی ہے۔۔۔وہاں ہمارا رکنے کا ارادہ تھا اسی لیے پہلے ایک ریسٹ ہاؤس کا ڈھونڈا۔۔۔۔۔۔وہاں چیک ان کرنے کے بعد نماز پڑھی کھانا کھایا اور پھر لیٹتے ہی نیند کی وادی میں جانے میں زرہ بھی دیر نہیں لگی کہ ہم پچھلی رات سے نہیں سوئے تھے زرہ بھی۔۔۔۔شام 6 بجے اٹھے فریش ہو کے چائے پی اور مغرب پڑھ کے ریاض سے مکہ مکرمہ کا سفر شورع کیا جو کہ 1000 کلو میٹرتھا۔۔۔۔۔۔۔ریاض سے مکہ کے راستے میں شروع میں بہت گہری گہری کھایئاں آتی ہیں۔۔۔بہت اونچے اونچے پہاڑوں کو کاٹ کے سڑک بنائی گئی ہےکچھ کھایئاں تو بہت گہری تھیں ۔۔۔۔راستے میں بہت سے کاروان ملتے ہیں جو فلسطین۔ایران اور عراق سے براستہ سڑک عمرہ کرنے جاتے ہیں۔۔۔۔۔خیر ریاض جیسے مشہور شہر سے مکہ کے راستے میں بھی سٹریٹ لائٹس نا ہونے کے برابر ہیں کہیں کہیں ایک آدھ کلو میٹر میں اتی ہیں لایئٹس پھر سے غائب کل ملا کے بتاؤں تو سعودیہ اتنا امیر ملک ہونے کے باوجود پاکستان سے بھی کوسوں پیچھے ہے ۔۔۔خیر۔رات 12 بجے تک گاڑی چلانے کے بعد ہم نے کچھ دیر گاڑی کو ارام دلانے کا سوچا۔۔۔اور ایک پیٹرول اسٹیشن پے کچھ دیر کے لیے رکے۔۔۔۔اگلا سفر ہم نے 3 بجے شروع کیا۔۔۔۔اگلے سٹاپ تک ہم نے صبح کی نماز پڑھی اور ناشتہ کیا۔۔۔اس عرصے میں ریاض سے مکہ تک دور دور کہیں چھوٹی چھوٹی ہی آبادیاں ہیں ۔کوئی قابل ذکر شہر نہیں اتا راستے میں۔۔۔ کھانے پینے کی اشیا کی بہت تنگی محسوس ہوتی ہے پورے راستے میں کہیں بھی اپ کو اچھا کھانا نہیں ملے گا۔۔۔۔۔ جو ملے اسی پے گزارا کرنا پڑتا ہے۔مکہ سے 90 کلو میٹر باہر مشہور شہر طائف ہے وہاں ہی میقات ہے جہاں سے احرام باندھنا ہوتا ہے۔۔۔ہم کیوں کہ گھر سے احرام نہیں لے کے گئے تھے بڑے بھائی نے کہا تھا راستے میں لے لیں گے تو ہم نے میقات سے ہی سب کے احرام خریدے۔۔۔۔۔وہان‌کی مسجد میں ہی احرام پہن کے عمرہ کی نیت سے 2 نفل پڑھے اور اگے کا سفر شروع کیا۔۔۔۔۔۔جیسے جیسے مکہ مکرمہ نزدیک آرہا تھا دل کی دھڑکن تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی سب بہت دل لگا کے تسبیحات پڑھ رہے تھے۔۔۔۔۔لبیک الھم لبیک۔۔۔۔پڑھتے ہوئے ہم سب مکہ کی طرف گامزن تھے۔ہماری گاڑی میں باہر کا درجہ حرارت 47 نظر آرہا تھا۔۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ باہر دور دور تک نظر انےو الی دھند شدید گرمی سے تھی۔۔۔۔

12 بجے ہم مکہ میں‌داخل ہوئے۔۔۔اس عظیم شہر جہاں کبھی ہمارے نبی کریم (ص) کا گزر ہوا تھا انکھیں محبت سے دیکھ دیکھ کر بھیگ رہیں تھیئں۔۔۔۔۔ہمارے ساتھ بچے بھی تھے اس لیے پہلے رہائش کا بندوبست کرنے کا ارادہ تھا ورنہ تو دل چاہتا تھا کہ سیدھا اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوا جائے۔ ہم نے حرم شریف کے قریب ہی رہائش ڈھونڈی کہ انے جانے میں اسانی رہے۔۔۔۔۔۔۔۔حرم شریف کے پاس ہی 3/4 ہوٹلز چھوڑ کے ہمیں‌ایک ہوٹال میں‌کمرا مل گیا۔۔۔۔گاڑی سے سامان اوپر شیفٹ کرنےکے بعد ظہر کی با جماعت نماز کا ٹائم نکل چکا تھا اس لیے ہم نے کمرے میں ہی پڑھی۔۔۔۔۔کھانا کھایا اور کچھ دیر کو لیٹ گئے عصر کے بعد عمرہ کا ارادہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ریسٹ کے بعد ۔۔۔۔۔ احرام تو پہلے ہی پہنا ہوا تھا اسی لیےسیدھا حرم شریف کا رخ کیا۔۔۔۔۔حرم شریف میں داخل ہوتے ہی انسان پے ایک لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے روح تک اللہ کے خوف سے کانپ اٹھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔میں نے اکثر وہاں مطاف کے سامنے بیٹھ کے سوچا کہ ہے تو یہ ایک مکان ہی پتھر سے بنا ہوا پر اس کی کتنی دہشت ہے ہمارے دلوں پے کیسے یہ خدا کے ہونے کا احساس دلاتا ہے لوگ دیوانہ وار طواف کے لیے چکر کاٹ رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔خیر حرم شریف پے پہلی نظر پڑتے ہی‌جو بھی دعا کی جائے انشاللہ پوری ہوتی ہے سو ہم نے بھی بنا پلک جھپکے اللہ سے بہت سی دعایئں کر لیں۔۔۔۔۔عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد ہم نے عمرہ کی نیت سے طواف کیا حجرہ اسود کو بوسا دینا ایک ناممکن سی بات ہے اب اسی لیے دور سے سلام کر دینا کافی ہے۔۔۔۔۔طواف کے بعد۔۔۔زم زم کا پانی پیا مقام ابراہیم کے سامنے 2 نفل پڑھے جو کہ عمرہ کا حصہ ہی ہیں پھر سعی کے لیے صفا مروہ کی طرف چلے گئے۔۔۔۔سعی کے پورے سات چکر ملا کے ساڑھے چار کلو میٹر بنتا ہےپھر رش کی وجہ سے بندہ جلدی قدم اٹھا کے نہیں چل سکتا اسی لیے کافی دیر لگتی ہے۔۔۔۔۔خیر عمرہ پورا ہوا تو مرد حضرات بال کٹوانے کے لیے نکل گئے خواتیں کو انتظار تھاکہ کوئی محرم مرد جو اپنے بال کٹوا کے احرام کی شرائط سے نکل چکا ہو وہی بال کاٹ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔احرام کی شرط سے نکلنے کے بعد ہم نے مغرب کی نماز حرم شریف میں ادا کی ۔۔۔۔عشاء کی نماز کے بعد ہی ہم ہوٹل واپس ائے۔۔۔۔ا۔حرام اتار کے کھنا کھایا اور پھر لیٹتے ہی تھکاوٹ سے یوں نیند آئی جیسے کبھی زندگی میں سوئے ہی نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگلے دن ہم فجر کی نماز پڑھ کے لوٹے ناشتہ کیا اور پھر سے احرام باندھنے مسجد عائشہ جانے کا ارادہ کیا۔۔۔یہ مسجد حرم شریف کی حدود سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے یہاں سے حج وداع کے موقعہ پر حضرت عاشئہ نے نبی کریم(ص) کے حکم سے احرام باندھا تھا۔۔۔۔اب یہ مکہ میں رہنے والوں کے لیے سہولت ہے کہ یہاں سے احرام باندھ کے عمرہ کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں کیوں کہ اپنے گزرے ہوئے بزرگوں کا عمرہ کرنا تھا اسی لی ہم ناشتے کے بعد مسجد عاشئہ چلے گئے سب نے پہلے طے کر لیا تھا کہ کون کس کا عمرہ کرے گا میں نے اپنے ابو کے لیے عمرہ کرنے کی نیت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت گرمی تھی پر اللہ کا شکر ہے اس نے ہمت دی اور دن 12 بجے تک ہم عمرہ ادا کر کے ظہر کی نماز ادا کر کے ہوٹل لوٹ آئے۔۔۔۔۔۔اگلے دن ہمارا زیارتوں کا ارادہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی سلسلے میں ہم عرفات۔۔وہاں ہی جبل رحمت اور منی مزدلفہ وغیرہ کی زیارت کر کے ائے۔۔۔۔۔سب کافی تھکے ہوئے تھے۔۔۔۔پر مجھے ابھی ایک اور عمرہ کرنا تھا ایک سے تسکین نہیں ہوئی تھی سو میں سب کی کو بتا کے پھر سے مسجد عاشیہ گئی اور اپنے لیےپھر سے عمرہ کرنے کی نیت باندھی۔۔۔۔یہ ہماری اخری رات تھی مکہ میں اسی لیے رات دیر تک وہاں رہے بہت سی دعایئں کی اپنے لیے سب کے لیے جنہوں نے دعا کے لیے پیغمات دیے تھے ان سب کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگلے دن فجر پڑھی طواف وداع کیا اللہ سے اجازت چاہی اور مدینہ منورہ کا سفر کر نے کے لیے سامان گاڑی میں لوڈ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔مدینہ کے سفر کی روداد اگلی قسط میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔