پاکستان میں جمہوریت بہت زوروں پر ہے آجکل۔۔۔۔۔۔۔۔خاص کر پچھلے ایک ہفتے سے تو کیا شاندار مہذب نظارے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔۔۔۔سندھ اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں جو طوفان بدتمیزی اٹھا اس کی روک تھام کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔جیلے اقتدار کے نشے میں دھت لوگوں کی عزتوں کو یوں اچھالتے پھر رہے ہیں جیسے ہمیشہ ان کا اقتدار رہنے والا ہے۔۔۔

اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ارباب رحیم پر جس طرح کھڑکیوں‌کے شیشے توڑ کر حملہ کرنے کی کوشیش کی گئی اگلے دن نا تو ایکسٹرا پاسز کینسل کیے گئے نا ہی پہلے دن والے مجرموں کو پکڑا گیا ایک بندا اپ کے سامنے ہی پھر اپ کو کن زمہ داروں کی تلاش ہے۔۔؟اگلے دن پھر جیسے ارباب رحیم کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔مانا ان کے دور میں بہت کچھ غلط ہوا لیکن ایسا تو ان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔۔۔۔جو پی پی کے دور میں شروع کیا گیا ہے۔۔پھر لاہور میں شیر افغن کے ساتھ بھی ایسے ہی وکیلوں‌کے نام پے تشدد کیا گیا حالنکہ فوٹیجز میں‌نشاندہی کی گئی ہے کہ جو لوگ ڈاکٹر صاحب پے تشدد کر رہے تھے وہ نا تو وکیل تھے نا پولیس والے۔۔۔ان واقعات کی زمہ داری کوئی بھ قبول کرنے کو تیار نہیں۔۔۔۔ہر کسی کی طرف سے مزمتی بیانات آئے پر کام کی بات کسی نے بھی نہیں کی۔۔کیا سندھ اسمبلی مین پہلے دن کے بعد دوسرے دن غیر مطلقہ لوگوں کا داخلہ بند نہیں کیا جا سکتا تھا۔کیا لاہور میں 5 گھنٹے تک ایک کمرے میں بند رکھا گیا شیر افغن کو تو پولیس کی بھاری نفری نہیں بلائی جا سکتی تھی ۔۔۔۔سب کچھ ہو سکتا تھا اگر کوئی کچھ کرنا چاہتا تو۔۔۔۔۔انتظامیہ نے سب ہونے دیا کیوں کہ آڈر ایسے ہی تھے۔۔وکیلوں کی منزل تک پہنچی ہوئی جدوجہد کو ناصرف بدنام کیا گیا بلکے ایک طرح سے ان کا کردار بھی مشکوک کر دیا گیا ہے رہی سہی کسر ایم کیو ایم نے کراچی میں ہنگامے کروا کر پوری کر دی ہے۔۔۔۔۔پاکستانی قوم جن میں میں بھی شامل ہوں۔۔۔لگتا ہے ڈنڈے کی مار سے ہی قابو اتی ہے۔۔۔۔فوجی جب باھری بوٹوں تلے رندتے ہوئے گزر جاتے ہیں تو یہ تشدد پسند لوگ ڈھونڈنےس ے بھی نظر نہیں اتے۔کیا ایسی ہی جمہوریت کے لیے اسی آذادی رائے کے لیے پچھلے 9 سالوں سے شور کیا جا رہا تھا۔۔۔۔۔کیا اسی آزادی کے لیے 2 سال سے پاکستان میدان جنگ بنا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔ان حالات کا زمہ دار کون ہے۔پی پی ،ن لیگ یا ایوان صدر؟؟؟میرے اپنے ذاتی خیال میں زرداری نے مشرف سے مل کے یہ سب کیا کیوں کہ ان دونوں کو ججز کی بحالی پے تحفطات ہیں۔۔۔۔۔ تکہ عوام کی توجہ ججز کے مسئلے سے ہٹائی جا سکے۔۔خیر۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی تو بڑے نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔۔۔۔۔۔کہ ہم پاکستانی قوم کو کبھی بھی جمہوریت ہضم نہیں ہوتی۔لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے۔جہ اج اپوزیشن میں ہیں وہ کل اقتدار میں تھے اور جو اج اقتدار کے نشے میں چور لوگوں پے جوتے برسا کر اپنی خوشی ۔قومی مفاہمت کا بھر پور مظاہرہ کر رہے ہین وہ لوگ کل اپوزیشن میں بھی بیٹھیں گے کسی کا اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو انصاف کرتے ہیں انہیں کا نام رہتا ہے۔ ابھی فل حال جمہوریت نیئ نیئ آئی ہے سو سر چہڑ کے بول بھی رہی ہے لیکن اس سے پاکستان کی بہت بہت بدنامی ہو رہی ہے۔۔۔کوئی اس پے سوچتا ہی نہیں۔۔۔۔ایسے واقعات مزید نا ہی ہوں تو اچھا ہے۔۔۔