اس ہفتے یونہی خیال آیا کہ گرمی کی آمد آمد ہے تو کیوں نا گرمی شروع ہونے سے پہلے ایک چکر باہر کا لگا لیا جائے کہ پھر تو کسی گارڈن میں جانا اور جا کر دن گزارنا تو دور کی بات گھر سے قدم باہر نکالنے کو جی نہیں چاہتا۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعہ کی شام کو ہی کزن کی فیملی کی تشریف آوری ہو چکی تھی۔اور رات کو ہی طے پا چکا تھا کہ کھانے میں‌کیا بنایا جائے ۔۔۔۔۔سو صبح ہی ہم نے اٹھ کر کھانے کی تیاری شروع کی کہ 10 بجے تک نکلنے کا ارادہ تھا۔۔۔۔۔۔رات کا طے کیا ہوا کھنا بنانے میں ڈیڑھ گھنٹا لگا اور ہم نے مصالحے دار بریانی۔۔۔ چنے چاٹ سویاں۔رائتہ بنا لیا۔۔۔۔باسکٹ سیٹ کی تو کچھ پھل بھی رکھ لیے کہ باہر جا کے معمول سے زیادہ بھوک لگتی ہے۔۔۔۔۔ ہلکا پھلکا ناشتہ کر کے نکل پڑے۔ طے ہوا کہ سیدھا گارڈن نہیں جایا جائے گا، اس سے پہلے کچھ مٹر گشت کی جائے گی۔ہم جو 2 گاڑیوں میں سوار تھے شیخ زید روڈ پر جا نکلے کہ ہمارا ارادہ لانگ ڈرائیونگ کے ساتھ ساتھ نیو دبئی بھی دیکھنے کا تھا۔۔۔گھومتے گھومتے ہم بج العرب بھی جا نکلے وہاں کچھ فوٹو گرافی بھی کی پھر کسی نے آئیڈیا دیا کہ ایمریٹس ہلز جایا جائے۔۔۔۔۔۔تو ہم وہاں بھی گئے۔۔۔۔ دیکھ کے حیرانی بھی ہوئی اور افسوس بھی۔۔۔ حیرانی اس لیے کہ عام انسان کی سوچ سے بھی پرے کی جگہ تھی رہنے کے لیے اور افسوس اس لیے کہ بے نظیر کا گھر بھی وہاں ‌ایمریٹس ہلز میں ہے کہ کس طرح پاکستانی کی لوٹی ہوئی دولت سے عیاشیاں کی جاتی ہیں، خیر اس پر بعد میں‌بات ہو گی۔۔۔۔ہمیں 2 گھنٹے گزر چکے تھے گھومتے ہوئے تو واپسی کی راہ لی۔۔۔۔۔۔ واپسی پر ہم ایل فلنگ اسٹیشن پر رکے کچھ پیٹ پوجا کے لیے۔۔۔تو ایسے میں بزرگوں والی گاڑی کہیں آگے نکل گئی اور ہم نے انہیں کافی دیر کے بعد بتایا کہ ہم تو یہاں رکے ہوئے ہیں ۔۔۔خیر ہمیں‌ممظار پارک کا پتا تھا کہ وہاں جانا ہے تو ہم بھی کچھ ہی دیر بعد پہنچ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ بزرگوں کے پاس بس چٹائی ہی تھی باقی سامان ہمارے پاس تھا۔۔۔۔۔۔۔۔وہاں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں بہت مزہ آیا۔۔۔۔۔۔چاٹ کھا کے ہم نے کرکٹ‌کھیلی ۔۔۔۔۔۔سایئکلنگ کی۔۔اور بیڈ منٹن بھی کھیلی۔۔۔ ۔پاکستان سے چھٹیوں‌کے لیے آیا ہوا میرا بھتیجا انتہائی چیٹر ثابت ہوا۔ کتنی بار صاف درخت کو بال لگی پر اس نے آؤٹ نہیں‌منا تو ہم واک اؤٹ کرتے ہوئے سمندر کے پانی میں چلے گئے۔ وہ بھی پیچھے بھگا بھاگا آ پہنچا پھر جو ادھم مچایا گیا پانی میں‌کہ سمندر بھی ہمارے وہاں سے جانے کی راہ دیکھتا ہوگا۔۔۔ہاہاہا

ممظار پارک بہت خوبصورت صاف ستھرا سمندر کے کنارے بنا ہوا ہے جس میں سائکلز بھی لی جا سکتی ہیں کرائے پر اور ٹرین میں‌بیٹھ کے بھی پارک کا چکر لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بار بی۔کیو کے لیے بھی جگہ جگہ پوائنٹ بنے ہوئے ہیں۔ ہر لحاظ سے پکنک کے لیے بہترین ہے۔

3 بجے کھانا کھایا۔۔۔۔ بیٹھ کے پرچیوں والی گیم کھیلی۔۔۔۔ چائے پی، بہت سی اوٹ پٹانگ باتیں کیں۔۔ ٹرین پر بیٹھ کے پورے پارک کا چکر لگایا کہ پیدل اتنا نہیں چلا جاتا تھا۔۔۔ شام 6 بجے گھر کی راہ لی۔۔۔۔۔۔ سب بہت تھکے ہارے تھے ہم سمیت۔۔۔ اور مجھے یاد نہیں کہ کتنے لمبے عرصے بعد تھکاوٹ سے مجھے رات 10 بجے ہی نیند آگئی۔ یوں انجوائے منٹ سے بھر پور دن پوری تھکاوٹ کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ اب یہ دن بہت مہینوں بعد آئے گا یہاں گرمی شروع ہوا ہی چاہتی ہے۔ پھر کس کی ہمت کہ باہر نکلے۔
001

002

003

004