مٹر گشت
سیر و سیاحت Tuesday، 8 April 2008اس ہفتے یونہی خیال آیا کہ گرمی کی آمد آمد ہے تو کیوں نا گرمی شروع ہونے سے پہلے ایک چکر باہر کا لگا لیا جائے کہ پھر تو کسی گارڈن میں جانا اور جا کر دن گزارنا تو دور کی بات گھر سے قدم باہر نکالنے کو جی نہیں چاہتا۔۔۔۔۔۔۔۔
جمعہ کی شام کو ہی کزن کی فیملی کی تشریف آوری ہو چکی تھی۔اور رات کو ہی طے پا چکا تھا کہ کھانے میںکیا بنایا جائے ۔۔۔۔۔سو صبح ہی ہم نے اٹھ کر کھانے کی تیاری شروع کی کہ 10 بجے تک نکلنے کا ارادہ تھا۔۔۔۔۔۔رات کا طے کیا ہوا کھنا بنانے میں ڈیڑھ گھنٹا لگا اور ہم نے مصالحے دار بریانی۔۔۔ چنے چاٹ سویاں۔رائتہ بنا لیا۔۔۔۔باسکٹ سیٹ کی تو کچھ پھل بھی رکھ لیے کہ باہر جا کے معمول سے زیادہ بھوک لگتی ہے۔۔۔۔۔ ہلکا پھلکا ناشتہ کر کے نکل پڑے۔ طے ہوا کہ سیدھا گارڈن نہیں جایا جائے گا، اس سے پہلے کچھ مٹر گشت کی جائے گی۔ہم جو 2 گاڑیوں میں سوار تھے شیخ زید روڈ پر جا نکلے کہ ہمارا ارادہ لانگ ڈرائیونگ کے ساتھ ساتھ نیو دبئی بھی دیکھنے کا تھا۔۔۔گھومتے گھومتے ہم بج العرب بھی جا نکلے وہاں کچھ فوٹو گرافی بھی کی پھر کسی نے آئیڈیا دیا کہ ایمریٹس ہلز جایا جائے۔۔۔۔۔۔تو ہم وہاں بھی گئے۔۔۔۔ دیکھ کے حیرانی بھی ہوئی اور افسوس بھی۔۔۔ حیرانی اس لیے کہ عام انسان کی سوچ سے بھی پرے کی جگہ تھی رہنے کے لیے اور افسوس اس لیے کہ بے نظیر کا گھر بھی وہاں ایمریٹس ہلز میں ہے کہ کس طرح پاکستانی کی لوٹی ہوئی دولت سے عیاشیاں کی جاتی ہیں، خیر اس پر بعد میںبات ہو گی۔۔۔۔ہمیں 2 گھنٹے گزر چکے تھے گھومتے ہوئے تو واپسی کی راہ لی۔۔۔۔۔۔ واپسی پر ہم ایل فلنگ اسٹیشن پر رکے کچھ پیٹ پوجا کے لیے۔۔۔تو ایسے میں بزرگوں والی گاڑی کہیں آگے نکل گئی اور ہم نے انہیں کافی دیر کے بعد بتایا کہ ہم تو یہاں رکے ہوئے ہیں ۔۔۔خیر ہمیںممظار پارک کا پتا تھا کہ وہاں جانا ہے تو ہم بھی کچھ ہی دیر بعد پہنچ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ بزرگوں کے پاس بس چٹائی ہی تھی باقی سامان ہمارے پاس تھا۔۔۔۔۔۔۔۔وہاں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں بہت مزہ آیا۔۔۔۔۔۔چاٹ کھا کے ہم نے کرکٹکھیلی ۔۔۔۔۔۔سایئکلنگ کی۔۔اور بیڈ منٹن بھی کھیلی۔۔۔ ۔پاکستان سے چھٹیوںکے لیے آیا ہوا میرا بھتیجا انتہائی چیٹر ثابت ہوا۔ کتنی بار صاف درخت کو بال لگی پر اس نے آؤٹ نہیںمنا تو ہم واک اؤٹ کرتے ہوئے سمندر کے پانی میں چلے گئے۔ وہ بھی پیچھے بھگا بھاگا آ پہنچا پھر جو ادھم مچایا گیا پانی میںکہ سمندر بھی ہمارے وہاں سے جانے کی راہ دیکھتا ہوگا۔۔۔ہاہاہا
ممظار پارک بہت خوبصورت صاف ستھرا سمندر کے کنارے بنا ہوا ہے جس میں سائکلز بھی لی جا سکتی ہیں کرائے پر اور ٹرین میںبیٹھ کے بھی پارک کا چکر لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بار بی۔کیو کے لیے بھی جگہ جگہ پوائنٹ بنے ہوئے ہیں۔ ہر لحاظ سے پکنک کے لیے بہترین ہے۔
3 بجے کھانا کھایا۔۔۔۔ بیٹھ کے پرچیوں والی گیم کھیلی۔۔۔۔ چائے پی، بہت سی اوٹ پٹانگ باتیں کیں۔۔ ٹرین پر بیٹھ کے پورے پارک کا چکر لگایا کہ پیدل اتنا نہیں چلا جاتا تھا۔۔۔ شام 6 بجے گھر کی راہ لی۔۔۔۔۔۔ سب بہت تھکے ہارے تھے ہم سمیت۔۔۔ اور مجھے یاد نہیں کہ کتنے لمبے عرصے بعد تھکاوٹ سے مجھے رات 10 بجے ہی نیند آگئی۔ یوں انجوائے منٹ سے بھر پور دن پوری تھکاوٹ کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ اب یہ دن بہت مہینوں بعد آئے گا یہاں گرمی شروع ہوا ہی چاہتی ہے۔ پھر کس کی ہمت کہ باہر نکلے۔




Tuesday، 08 April 2008 بوقت 2:09 pm
ہممم۔۔۔ اکیلے اکیلے عیش کرلیے۔۔۔ اب جہاں جہاں گھومی ہو، وہاں کی کچھ تصویریں بھی تو لگاؤ تاکہ ہم بھی اندازہ کرسکیں کہ مظامر پارک اور ایمرٹس ہلز کے علاقے کتنے خوبصورت ہیں۔۔۔۔! :smile:
Tuesday، 08 April 2008 بوقت 6:36 pm
زينب جی
السلامُ عليکُم
کيا حالات ہيں ؟ ويسے سارے حالات تو تفصيلی آپ نے خُود ہی بتا دۓ اچھا کيا گرمي ميں شدّت آنے سے پہلے ہی پروگرام بنا ليا ويسے اس دفعہ تو اللہ کا خاص کرم ہے ابھی تک بے حال کرنے والی گرمی نہيں آئ پھر بھی آپ کا پکنک نامہ مزے کا لگا ہمارا بھی پروگرام وائلڈ وادی وغيرہ کا بن رہا ہے شايد اسی ہفتے چکر لگے ہاں جب کبھی ابُوظہبی آؤ تو ميرے پاس آنا نا بُھولنا ايک بات اور بتؤں آج ہی سوچا تھا کہ آپ کو نيند سے جگانے کے لۓ کُچھ کروں اورآپ خُود ہی جاگ گئيں لگتا ہے کوئ فريکوئينسی سيٹ ہو گئ ہے کہ ادھر ارادہ کرتی ہُوں اُدھر وہ کام ہو جاتا ہے ہاں کيا ميں آپ کو addکر سکتي ہُوں بتا دينا جواب نا ميں بھي ہو توبُرا نہيں مانُوں گی اوکے پھر
اپنا خيال رکھنا
اللہ حافظ
شاہدہ اکرم
Wednesday، 09 April 2008 بوقت 1:01 pm
وعلیکم السلام شاہدہ جی۔۔۔ بہت حیرانی کی بات ہے کہ اپریل شروع ہو گیا ابھی تک ا گرمی نے اپنا اصلی ضور نہیں پکڑا۔۔۔۔وائلڈ وادی ہم عبایا والے لوگوں کا کیا کام وہاں ہم جیسے عبایا والوں کو انٹری بھی نہیں دیتے کہ سوئمنگ سوٹپہن کے آؤ۔۔۔ :mrgreen:
جی ضرور آؤں گی انشاللہ ……اپ مجھے بنا اجازت ایڈ کر سکتی ہیں اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے ویسے آگے اپ کی وسمت کہ اپ مجھے کب آن لائن پکڑ باتی ہیں بس دل کو دل سے راہ ہوتی ہے آپ یاد کرتی ہیں اور میں جن کی طرح حاضر ہو جاتی ہوں
۔
راہبر ۔میں نے کل فوٹو اپلوڈ کرنے کی کوشیش کی تھی تو نہیں ہویئں شاید سائز بڑا تھا اج پھر کوشیش کرتی ہوں۔۔۔۔
Thursday، 10 April 2008 بوقت 12:05 am
زينب جی
السلامُ عليکُم
مزاج بخير،بالکُل ٹھيک کہا زينب آپ نے وائلڈ وادی ميں ہم عبايا والوں کا کام تو کوئ خاص نہيں ہے ليکن صاحب کے آفس کی طرف سے ہر سال کا تفريحی ٹرپ ہوتا ہے واڈلڈ وادی اور بُرجُ العرب ميں قيام کا تو جانا تو ہو گا ميں تو بس ديکھي ديکھی کر لُوں گی رائڈز تو بس يہ ابا اور بيٹی ہی ليں گے اب ظاہر ہے فيلڈ کے لوگ ہيں جب جب جوجو سہُولت ديں گے لينا ہی ہوگی اور ہم بھی گھر بيٹھے اکيلے لوگ ،بہر حال جب دل سے دل کو راہ ہوتی ہے تو آپ مل ہی جاؤ گی ويسے تو ميرا کمپيوٹر سارا دن آن ہی ہو تا ہے ہاں عمار سے بھی پُوچھا تھا کہ کوئ تصوير اور وڈيو لوڈ کر نا ہو تو کيا طريقہ ہو گا بتاؤ گی کيا؟
اپنا خيال رکھنا
دُعاگو
شاہدہ اکرم
Thursday، 10 April 2008 بوقت 12:50 pm
جی میں نے آپ کو میل کی تھی ایک کچھ دن پہلے لگتا ہے اپ کو ملی نہیں میں بھی ہر بات کے لیے راہبر کا ہی سر کھاتی ہوں کہ بلاگ شروع کروانے مٰن اسی کا ہاتھ ہے میںنے پہلے دن ہی کہ دیا تھا کہ میں موڈ ہوا تو لکھوں گی باکی کام تمہارا۔۔۔ہاہاہا۔۔جی ضرور میلوں گی آپ فکر نا کریں۔۔۔۔اپ مجھے ایڈ کریں نا مسنجر پر۔۔۔مین تو صبح تھوڑی دیر آن کر کے سو جاتی ہوں پھر اٹھوں تو ہی آن کرتی ہوں۔۔۔۔انشاللہ اپ سے بات ملاقات ہو گی۔۔۔