سیاسی جوڑ توڑ۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Saturday، 23 February 2008

انتخابات کے بعد اسلام آباد میں سیاسی پنڈتوں کا میلہ سا لگا ہوا ہے سیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر ہے۔۔کوئی آرہا ہے کوئی جا رہا ہے کہیں فون پے مفاحمت کی کوشیشیں کی جا رہی ہیں۔۔۔۔ایوان صدر کی حتیٰ الامکان کوشیش ہے کہ کسی طرح نواز شریف کو حکومت سازی کے عمل سے باہر رکھا جائے۔۔۔انکل مشرف جی بھر کے یہاں‌کی وہاں‌ملانے میں‌مصروف ہیں۔۔۔۔۔کیوں کہ اسے پتا ہے زارداری کے ساتھ مشرف کی پھر بھی کچھ سال چال جائے گی جب کہ نواز شریف کے ساتھ ناممکن ہے۔۔۔اب مشرف چاچو کے پاس دو تیں آپشن ہیں۔۔۔پہلا۔۔۔پی پی ،ق لیگ۔اے این پی اور ایم کیو ایم کو ملا کے مرکز میں حکومت بنائی جائے۔۔۔ ایوان صدر کا خیال ہے کہ۔۔۔۔موکز اور چاروں صوبوں میں ایم کیو ایم،ق لیگ، اے این پی،ازاد امیدوار اور پی پی کو ملا کے مسحکم حکومتیں بنائی جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔مشرف کے پاس ایک اور آپشن بھی زیر غور ہے وہ ہے کہ نواز لیگ کو توڑ کے میاں نواز شریف کو تنہا کر دیا جائے۔۔۔۔۔پھر نواز لیگ کے ارکان کو ملا کے حکومت بنائی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔صدر کا یہ بھی خیلا ہے کہ پینجاب میں ق لیگ پی پی اور آزاد سیٹوں کو ملا کر حکومت بنائی جائے اگر ایسا ہوتا ہے توپنجاب میں اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی حکومت سازی سے محروم رہ جائے گی۔۔ اس کے علاوہ نواز اور زرداری پر امریکہ بہادر کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے تاکہ دونوں مشرف کو قبول کر لیں جو کہ اب تک کے میاں جی کے بیانات سے لگتا نہیں۔ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نواز شریف کو ایک اور آپشن بھی دیےو جانے کا امکان ہے کہ۔۔وہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے علاوہ باقی ججز کی بحالی پر آمادہ جایئں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں‌تک میرا خیال ہے میاں جی کو ووٹ ہی چیف جسٹس کی بحالی کے لیے دیے گئے اب اگر ججز والے معاملے سے ایک انچ بھی ادھر ادھر ہوتے ہیں تو اگلے الیکشن میں عین ممکن ہے نواز لیگ کا حال بھی ق لیگ جیسا ہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وقت سب سے زیادہ عوامی دباؤ نواز لیگ پر ہے۔۔۔جہاں تک میرا خیال ہے میاں کی زرداری کے ساتھ بھی مشکل ہے چلنا۔۔۔۔۔ میرے آپشن کے مطابق۔نواز شریف کو مرکز میں کمزور وزارتیں لے کر پی پی سے پاور شیئرنگ نہیں کرنی چاہیے۔۔۔۔تعاون کرے پر بنا وزارتوں کے۔۔۔۔۔۔اور اسی طرح پنجاب میں اکیلی نواز لیگ کی حکومت ہو یہاں وہ پی پی سے تعاون لے حکومت سازی کے لیے مگر وزارتیں شیئر نا کرے تو ہو سکتا ہے ن لیگ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کمیاب ہو جائے ورنہ تو ججز والے معاملے میں ناکامی کی صورت میں ن لیگ کا مستبل بھی تاریک نظر اتا ہے۔۔۔۔۔ایسی شیئرنگ کرنے سے زرداری کے گھپلوں کی شیئرنگ سے بھی ن لیگ کی جان چھوٹے گی۔
جو اب کی بار ن لیگ ٹوٹنے سے بچ جاتی ہے جسیے کہ ٹوٹنے کی کوئی خاص وجہ نظر بھی نہیں اتی اور ججز والا معاملہ حل ہو جاتا ہے تو ن لیگ پھر کبھی الیکشن میں مار نہیں کھائے گی۔۔۔۔۔۔بہر حال جو ہتا ہے اچھے کے لیے ہی ہوتا ہے اور میری دعا ہے کہ جو ہو پاکستان کے لیے اچھا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ایک اور غصے والے تبصرے کا انتظار ہے جو کہ راہبر کرے گا اور کہے گا۔۔۔”"”۔۔تم نے پھر سے سیاست پے لکھا” ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک “ٹھپے “کا کمال

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Wednesday، 20 February 2008

18 فروری کا تاریخی دن جس دن پاکستانی قوم بہت بڑے بڑے مغرورں کا غرور خاک میں ملا دیا اور یہ ثابت کیا کہ اب وہ وقتی جذباتی تقریروں سے بہلنے والے نہیں ہیں۔۔۔ مسلم لیگ ق کی ساری کابینہ کو ان کے آبائی حلقوں میں وہ شکست ملی کہ سالوں تک یاد رکھیں گے۔۔۔۔۔یہ ہارنے والے سارے وہ لوگ ہیں جو یہ سمجھتے تھے کہ پاکستانی قوم تو ان پڑھ جاہل ہے، چند جذباتی باتیں اور چند روپے ان کے آگے پھینکے تو نعرے ہمارے ہی نام کے لگایئں گے۔۔۔ شاید یہ بھول گئے تھے کہ اب عوام باشعور ہو گئی ہے۔۔۔ اب وہ حقائق دیکھتی ہے، نہ کہ چکنی چپڑی باتوں میں ‌آئے گی۔۔۔۔۔۔۔۔
جب شیخ رشید کے مقابلے میں جاوید ہاشمی آیا تو شیخ رشید نے بڑے غرور سے کہا ۔۔ “دیکھیں جی پنڈی کی عوام بڑی غیرت مند ہے یہ کسی باہر والے کو گھر کے اندر نہیں انے دے گی۔۔۔۔۔” اسی عوام نے وہ مار دی اسے کہ ضمانت بھی ضبط کروا دی۔۔۔

کتنا عوام کو ذلیل کیا انہوں نے۔۔۔ وقت کے فرعون تھے یہ لوگ۔۔۔ پاکستانی کی غریب عوم کسی نا کسی مصیبت کا ہی شکار رہی۔۔۔ کبھی چینی کا بحران کبھی گھی کا، کبھی آٹے کا کبھی گیس، بجلی کا۔۔۔ آسان لفظوں میں کہا جائے تو ان کے دور حکومت میں پاکستانی قوم رل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ لوگ بھول گئے تھے کہ واپس اسی قوم کے قدموں میں گریں گے جا کر۔۔۔

دھاندلی ہوئی یا نہیں الگ بات ہے اگر ہم حالات و اقعات پے غور کریں تو یہ الیکشن کم، قدرت کا انتقام زیادہ لگے گا۔۔۔

کیسے نواز شریف کے ساتھ ہونے کے باوجود وقت پڑنے پر چوہدریویں نے اسے اکیلا چھوڑا تھا۔ کیسے جی ایچ کیو میں ق لیگ کا قیام عمل میں آیا۔۔۔۔۔۔۔ جب نواز شریف اٹک قلعے میں قید تھا تب یہی چوہدری وزارتوں کی بندر بانٹ میں مصروف تھے۔۔۔۔

یہ قدرت کا انتقام ہی ہے کہ وہی مشرف پھر سے نواز شریف کے رحم وکرم پر ہے جسے اس نے اسی کے ملک سے نکال باہر کیا تھا۔۔۔۔۔آج وہی مشرف اسی نواز شریف کے ساتھ اپنی صدارت بچانے کے لیے مل کر بیٹھنے کو بھی تیار ہے۔۔۔۔۔ ہر موقعے پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے والا مشرف، عوام کو اپنے فوجی جوتے کی نوک پے رکھنے والا اسی نواز شریف کے ساتھ چلنے کی بات کر رہا ہے۔۔۔۔

مشرف نے تو بغاوت کی تھی حکومت پر قبضہ کرنے کے لیے پر نواز شریف کو ایسا کچھ نہیں کرنا پڑا۔۔۔۔۔عوام کی ایک مہر نے اس کے سارے راستے آسان کیے ہیں۔۔۔۔۔عوام کی ایک شیر پر مہر نے مشرف کو بتادیا کہ عوام کتنی بھی پسی ہوئی کیوں نہ ہو جب کچھ کرنے کا ٹھان لے تو کر گزرتی ہے۔ اب کی بار چوہدریوں کو کچھ کر دکھانے کا وقت تھا جو آیا اور سب کو حیران کرتا ہوا گزر گیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مشرف عوام کے اس فیصلے کو سممجھ پاتا ہے یا نہیں۔ اگر اور بھی دھاندلی سے پاک الیکشن ہوتے تو مسلم لیگ ق کو وہ چند سیٹیں بھی نا ملتیں جو کہ نئے چہروں کو سامنے لا کے لی گئی ہیں۔۔۔ مشرف کی اب بھی کوشش ہے کہ کسی طرح نواز شریف کو اپوزیشن میں بٹھایا جائے ۔۔۔۔۔ پر ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آتا۔۔۔

میری ذاتی رائے میں سب سے زیادہ خوشی شیخ رشید اور شیرافگن کی ہار کی ہوئی۔ بڑا گھمنڈ تھا انہیں ہر بار جائز ناجائز جیت کا تو اس بار منہ کی کھانی پڑی ہے تو اب سالوں یاد رکھیں گے۔۔۔

یہ لوگ طاقت کے نشے میں شاید بھول گئے تھے کہ اصل طاقت تو عوام کے پاس ہے مہر کی طاقت۔۔۔ووٹ کی طاقت۔۔۔۔۔۔۔کیا کمال کیا عوام کی ایک مہر نے کیسے کیسے سیاست کے میدان کے شہسواروں کو مات دی کہ مزہ آگیا الیکشن کا۔۔۔۔۔۔۔۔

تم میری آنکھ کے تیور نا بھلا پاؤ گے۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 14 February 2008

وصی شاہ کی یہ غزل میری پسندیدہ ترین غزل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

تم مری آنکھ کے تیور نا بھلا پاؤ گے

ان کہی بات کو سمجھو گے تو یاد آؤں گا

ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے

صفحہء زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا

اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے

خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آوں گا

میرے خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح

تم اگر خود سے نا بولو گے تو یاد آؤں گا

آج تو محفل یاراں پے ہو مغرور بہت

جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آوں گا

شال پہنائے گا کوں دسمبر میں تمہیں

بارشوں میں‌کبھی بھیگو گے تو یاد آوں گا

حادثے آیئں گے جیون میں تو تم ہو کے نڈھال

کسی دیوار کو تھامو گے تو یاد آؤں گا

اس میں شامل ہے میرے بخت کی سیاہی بھی

تم سیاہ رنگ جو پہنو گے تو یاد آؤں گا

ہی ہی ہی ہی یعنی پچھا نہیں چھوڑنا کبھی بھی ۔۔۔۔!!!

ایک لڑکی۔۔۔!

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 14 February 2008

اپنے سرد کمرے میں

میں اداس بیٹھی ہوں

نیم وا دریچوں سے

نم ہوائیں آتی ہیں

میرے جسم کو چھو کر

آگ سی لگاتی ہیں

تیرا نام لے لے کر

مجھ کو گد گداتی ہیں

کاش میرے پر ہوتے

تیرے پاس اڑ آتی

تجھ کو چھو کر لوٹ آتی

میں نہیں مگر کچھ بھی

سنگ دل رواجوں کے

آہنی حصاروں میں

عمر و زید کی ملزم

صرف ایک لڑکی ہوں۔۔۔۔۔۔۔!

دبئی شاپنگ فیسٹیول

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 11 February 2008

میں نے سوچا بہت ہو گئی سیاست اب کچھ اپنے آس پاس نظر دڑائی جائے اور کچھ نیا لکھا جائے۔۔۔۔پھر مجھے دبئی شاپنگ فیسٹیول کا خیال آیا۔جو کہ آج کل ذوروشور سے جاری ہے۔۔۔۔

دبئی شاپنگ فیسٹیول پچھلے دس سال سے دبیئ میں منقعد کیا جاتا ہے۔۔۔شروع کے ایک دو سال تو متحدہ عرب ریاستوں کے لوگ ہی لطف اندوز ہوئے مگر بعد میں آہستہ آہستہ پوری دینا سے لوگ انے لگے۔یہ ایک خریدوفرخت کا اچھا موقعہ ہے۔۔۔۔شروع کے سال بر دبیئ میں اس کے لیے ایک جگہ مخصوص کی گئی پھر اگلے ہی سال اس کی جگہ بدل کر غرود برج کے ساتھ اس کا اہتمام کیا گیا۔۔۔پعر فئسٹیول کی بڑھتی ہوئی مقبلیت نے شہر میں ٹریفک اور پارکنگ جیسے مسائل پیدا کر دیے۔۔۔۔اب اس کی جگہ پھر سے بدل کر ایمریٹس روڈ پعر بہت کھلی جگہ پعر مستقل بنا دی گئی ہے۔۔جس کو “گلوبل ویلج”کا نام دیا گیا ہے۔۔۔۔ایک ًخصوص جگہ پر پوری دنیا کے ملکوں کو چھوٹے چھوٹے سے ویلج دیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے ملک سے لائی ہوئی مصنوعات فروخت کر سکیں۔۔۔۔اب یہ گلوبل ویلج مستقل ہے وہاں جو سارا سال رہتا ہے۔پارکنگ کا بہترین انظام ہے۔اور راستے مٰن ٹریفک بھی کہیں بلاک نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔

25 جنوری سے اس کا اغاز ہوا تو ہم بھی جا نکلے۔۔۔سب سے پہلے پاکستان پیارا پاکستان کی محبت کینچھ لے گئی۔پچھلی بار بادشاہی مسجد کا ٹایئٹل تھا اب کی بار درہ خیبر کی لک دی گئی تھی اور جو باب خیبر بنا ہوا تھا اس کے لیے پتھر بھی خیبر سے ہی لایا گیا تھا اور بلکل اصلی کا گمان ہوتا تھا۔۔۔۔پہلے مجھے شکواہ ہی رہتا تھا کہ پاکستانی بزنس کمیونٹی سارا لیدر اور چینوٹ کا فرنیچر ہی اٹھا لاتے ہیں۔۔۔۔اس بار میری شکایت دور ہو گئی تھی ۔۔دل باغ بہار ہو گیا اپنے ملک کی نت نئی مصنوعات دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرنیچر اور لیدر کی چیزین تو تھیں ہی ساتھ میں رنگ برنگی لان،سلک کے کپڑے۔جہتے چوڑیاں جیولری۔۔۔۔۔۔بیڈ شیٹس اور بھی بہت سی اشاء کھانے کا زکر نا ہو کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔جی ہاں ساری پاکستانی ڈشیز تھیں حلیم،نان۔بریانی،دہی بڑے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔کچھ خریداری کرنے کے بعد آگلے پویلین کا رخ کیا۔۔۔۔سوڈان سے تو بہت سی مہندی اور شہد آتا ہے۔پھر ہم افریقی ممالک کے ویلجز میں گئے جہاں لکڑی کے بنے شو پیسز تھے اور ہان چھابے بھی تھے اور سانپ والی پٹاری بھی ۔۔۔جو تنکوں سے بنی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔میری امی کہتی ہیں یہ سانپ والی پٹاری اج کل کی نسل کہتی ہے اسے۔۔۔۔۔سارا ٹیطی کا کمال ہے جب کہ پہلے زمانے میں جب ہاٹ پارٹ نہیں تھے تو اس کو دیسی ہارٹ پارٹ کے طور پے استعمال کیا جاتا تھا روٹی رکھنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔پھر سعودیہ کے پولین کا رخ کیا کہ ہمیں تو نام سے ہی بڑی عقیدت ہے قدم رکھتے ہی طرح طرح کی خوشبووں سے دماغ چکرا گیا پورا پولین گھوم پھر کے دیکا تو ہر طتف اوود کے دھویں اور کھجور کی مختلف چیزوں کے سوا کچھ نظر نہیں آیا۔۔۔کھجور کا پیسٹ،کھجور کا جیم،کھجور کے بسکٹ،کھجور کا یہ وہ۔۔۔۔۔۔پھر ہم نے انڈیا،جاپان۔یو اے ائ،مصر،ایران،اور بھی بہت سے پویلینز کا وزٹ کیاسب سے زیادہ رش چایئنا کے ویلج میں تھا کہ چین سے انے والی چیزین اچھی اور قیمت میں کم ہوتی ہیں۔۔۔اس لیے چین کے ویلج میں بہت رش تھا وہان سے نکلے ہی تھے کہ انڈین اداکار وویک ابرائے کے درشن ہو گئے کسی ڈرا کے سلسلے میں ایا ہوا تھا کچھ دعر وہاں رک کے پھر ہم نے واپس پاکستان ویلج کا رخ کیا کہ سلیم جاوید کا میوزک کنسرٹ شروع ہونے والا تھا۔۔۔۔۔چند ایک نامعلوم سنگرز بھی تھے۔۔پاکستان کے موجودہ حالات سے اداسی جاتی رہی جب سلیم جاوید کے ڈھول کی تھاپ پے ملی نغمے پے ساری پاکستانیوں کو محو رقص دیکھا تو۔۔۔11 بجنے والے تھے جب ہم نے کنسرٹ سے نکلنے کا ارادہ کیا۔۔۔۔۔۔۔کہ اب بھوک ستا رہی تھی پاکستان پویلین میں چٹے پٹے پاکستانی کھانے سے لطف اندوز ہوئے اور 12 بجے گھر کی راہ لی۔۔۔۔گھر پہنچتے پہنچتے 2 بج چکے تھے اور تھکن سے برا حال تھا۔۔مگر پھر بھی مستی اور انجوائے منٹ سے بھرپور دن گزرا۔۔۔اگلے قصے اگلے وزٹ پے تب تک فی امان اللہ

اک ایسا روز بھی آئے گا!

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Sunday، 10 February 2008

اک ایسا روز بھی آئے گا

جب یاد میری دہراؤ گے

تب کچھ بھول نا پاؤ گے

تم لاکھ بھلانا چاہو گے

اک ایسا روز بھی آئے گا

جب راہ ہماری دیکھو گے

پھر گزرا وقت نا آئے گا

تم لاکھ بھلانا چاہو‌گے

اک ایسا روز بھی آئے گا

تمہیں نئے ساتھی مل جایئں گے

پر ہم تو مل نا پایئں گے

تم جب بھی آیئنہ دیکھو گے

تو عکس میرا ہی پاؤ گے

اک روز پھر ایسا آئے گا

تم صحرا صحرا بھٹکو گے

وہ گلشن ہو یا ویرانہ

پر ہم کو ڈھونڈ نا پاؤ گے

اک روز پھر ایسا آئے گا

فرض کرو!

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Saturday، 9 February 2008

فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں،فرض کرودیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں

فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی ،آدھی ہم نے چھپائی ہو

فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں

فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا،جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پے بھاری ہو

فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت ،باقی سب کچھ مایا ہو

ڈر۔۔۔!

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Saturday، 9 February 2008

محبت کی زنجیر سے ڈر لگتا ہے

کچھ اپنی تقدیر سے ڈر لگتا ہے

جو مجھے آپ سے جدا کرتی ہے

ہاتھ کی آس لکیر سے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

دکھ بولتے ہیں

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Saturday، 9 February 2008

جب سینے اندر سانس کے دریا ڈولتے ہیں

جب موسم سرد ہوا میں

چپ سی گھولتےہیں۔۔۔۔۔

جب آنسو

پلکیں رولتے ہیں

جب سب آوازیں اپنے اپنے بستر پے سو جاتی ہیں۔۔۔

تب آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتے ہیں

دکھ بولتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

میرے نام سے پہلے

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Thursday، 7 February 2008

اب کے اس کی آنکھوں میں

بے سبب اداسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھی

اب کے اس کے چہرے پر

دکھ تھا۔۔۔۔۔۔۔بےحواسی تھی!

اب کے یوں ملا۔۔۔۔مجھ سے

یوں غزل سنی ۔۔۔۔۔جیسے

میں بھی ناشناسا۔۔۔۔ہوں

وہ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اجنبی جیسے

زرد خال وخد اس کے

سوگوار دامن۔۔۔۔۔۔۔۔تھا

اب کے اس کے لہجے میں

کتنا کھردرا پن تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

وہ کہ عمر بھر جس نے

شہر بھر کے لوگوں میں

مجھ کو ہم سخن ۔۔۔۔۔جانا

دل سے آشنا ۔۔۔لکھا

خود سے مہرباں سمجھا

مجھ کو دلربا لکھا

سرخ روشنائی سے

اس نے تلخ لہجے میں

میرے نام سے پہلے

صرف بےوفا لکھا


جملہ حقوق بحق منفرد محفوظ ہيں.