بارش کی کہانی

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 14 January 2008

ہم صحرا میں رہنے والے ہمیشہ سے بارش کو ترسے ہوئے لوگ ہیں۔۔۔۔۔۔اس بار تو کمال ہی ہو گیا۔۔۔پچھلے ایک ہفتے سے سورج نہیں نکلا۔۔۔وقفے وقفے سے بارش جاری ہے۔۔۔۔۔کل سارا دن بارش تو نہیں ہوئی مگر بادل چھاے رہے اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوایئں چلتی رہیئں۔۔۔۔۔ہم نے بھی موقعے سے فائدہ اٹھایا اور سرما کے پکوانوں سے لطف اندوز ہوئے

کل سارے دن کے چھائے بادلوں نے رات میں ایک بار پھر جی بھر کے پورے سال کی کسر نکالی۔۔۔۔۔ساری رات خوب بارش ہوئی۔۔۔۔۔صبح ہر طرف جل تھل تھی تھوڑی ہی دیر بعد دوستوں کے میسج آنا شروع ہو گئے ہر کوئی ایک دوسرے کہ رات میں ہونے والی بہت سی بارش کی اطلاع دیتا نطر آیا،،،،،سب کو یہی کہتے سنا”ارے دیکھا تئم نے باہر۔۔۔۔شارجہ ڈوب گیا”۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا واقعی آج شارجہ ڈوبا ہوا ہے فٹ پاتھ تک پانی ہے گاڑی تک جانا محال ہے۔مجھ جیسے پھر بھی پانی میں چھپا چھپ کرنے سے باز نہیں آتے۔۔۔سردی ہو گی نازک مزاج عربیوں کے لیے ہم ٹھہرے سخت جان پاکستانی ۔۔۔۔اتنی سی سردی بھی بھلا کوئی سردی ہوئی کہ بندا پانی سے بچ بچ کے چلے اور پاؤں بھی گیلے نا کرے ۔۔۔

اب گاڑی کا ہم بینڈ بجا چکے ہیں کہ پرسوں بارش میں پھسلن کی وجہ سے ایک عقل کے اندھے نے پیچھے سے دے ماری مزے کی بات یہ کہ میں نے اسے کچھ کہا بھی نہیں۔۔۔مجھے بھی بارش میں شرطے کا انتظار اچھا لگ رہا تھا۔۔۔ہاہاہاہا گھر سےکچھ دیر اور باہر رہنے کا بہانہ جو مل گیا تھا ہم بھی چلے تھے بارش میں چھپا چھپ کرنے ابھی تک نیچے کھڑی ہے ایک دو دن میں گیراج میں دینی ہو گی تبھی پھر سے بارش میں ڈرایئو کے مزے لوٹیں گے۔

بس اللہ کرے کچھ دن اور بارش ہوتی رہے۔۔۔تاکے میری گاڑی ٹھیک ہو جائے اور میں پھر سے پانی کے چھینٹے اڑا کے خوش ہو لوں۔۔۔آج تو ویسے ہی فون پے فون بج رہا ہے سب خوشی سے ایک دوسرے کو اطلاع دے رہے ہیں۔۔سچ میں اتنی بارش اتنا پانی افففففففف گزرنے کی جگہ نہیں ویسے بھی بچ کے گزرنے کی ضرورت کسے ہے۔۔۔۔۔۔ہاہاہا

آج میں سوچ رہی ہوں کسی دوست کی طرف جاؤں اور کہیں باہر جایئں کہ یہاں بارش میں لوگ کم ہی گھروں میں دبک کے بیٹھتے ہیں سڑکوں پے جتنا رش بارش میں ہوتا ہے اتنا کبھی بھی نہیں ہوتا ہر کوئی باہر نکلا ہوا ہوتا ہے۔۔۔۔میں بے چاری تو ویسے ہی 2 دن سے پیدل ہو گئی ہوں اب مجھے بھی کسی دوست ہمدرد کی خدمات حاصل کرنی ہوں گی انجوائے کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فلحال بارش کی کہانی اتنی کافی ہے باقی کی پھر کبھی۔۔۔۔

رم جھم برسا پانی

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 7 January 2008

آہا آخر کو ہم نے بھی پورے ایک سال بعد بارش کے درشن کر ہی لیے۔۔۔گلف کے گرما گرم موسم کا کس نے نہیں سنا ہو گا۔جو کوئی مئی سے نومبر کے بیچ دبئی لینڈ کرتا ہے اسے تو یہی لگتا ہے دبئی والے تندور دھکا کے لوگوں کا استقبال کرتے ہیں مگر انہیں کیا پتا دبئی کے رہائشی خود گرمی کے ہاتھوں پریشان رہتے ہیں۔۔یہاں کی گرمی اف اللہ اچھا بھلا انسان ہر وقت تیوری چڑھاے رہتا ہے۔۔کبھی کبھی مجھے خود بھی لگتا ہے کہ وقت سے پہلے میرے ماتھے پر لکیریں پڑتی جا رہی ہیں ارے یہ لکیرین وہ سوچ والی لکیریں نہیں ہیں یہ تو گرمی سے ہر وقت اصاب تنے رہتے ہیں وہ لکیریں ہیں۔۔۔۔۔۔چلیں چھوڑین لکیروں کو کل کچھ ہوا یوں کہ۔۔۔۔۔۔صبح سے ہی دھوپ نہیں نکلی ٹھنڈی ٹھار ہوا چل رہی تھی آسمان بادلوں سے بھرا پڑا تھا۔۔اور جو 10 بجے کے قریب بادل اپنی موج میں آئے تو ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی۔۔ہم بھی سب کام چھوڑ چھاڑ بالکونی میں جا لٹکے۔کہ یہاں بارش بھی کسی عجوبے سے کم نہیں۔۔۔مگر ہماری خوشی زیادہ دیر کی نہیں تھی کیوں کہ بارش تو بس درشن دے کے ہی رخصت ہو گئی تھی ہم پھر سے اپنی ناکام حسرتوں پے آنسو بہائے بغیر واپس کمرے میں آکے کمپیوٹر کے سامنے آ بیٹھے۔۔۔۔۔

رات تک اچھی خاصی سردی ہو چکی تھی صبح نماز کے لیے آٹھے تو دیکھ کے خوشگوار حیرت ہوئی کہ چھما چھم بارش برس رہی تھی ۔اف اتنی تیز بارش۔ ہمارے گھر میں سبھی ایک دوسرے کو اطلاع دے رہے تھے ‘ارے دیکھو تو کتنی بارش ہو رہی ہے” وہ تو صبح صادق تھی ورنہ یہاں متحدہ عرب امارات میں لوگ جتنے فون بارش ہونے پر ایک دوسرے کو بارش کی اطلاع دینے کے لیے کرتے ہیں اتنے تو میرا خیال ہے عید پے بھی نہیں کرتے ہوں گے۔۔ ۔پورے ایک سال بعد دیکھی تھی۔ ویسے بھی ہمیں تو بارش بھی تب جا کے نصیب ہوتی ہے جب ہم اچھی طرح بارش کے لیے ترس چکے ہوتے ہیں۔موسم سرما کی پہلی پہلی بارش خوب جی لگا کے برسی ہر طرف پانی ہی پانی نظر آنے لگا۔۔۔۔نیچے سڑک پر سے گذرتی گاڑیاںاور ان سے اٹھتے پانی کے چھینٹے بہت دل فریب لگ رہے تھے ہم نے وہاں بالکونی میں ہی کھڑے کھڑے گرما گرم چائے کا لطف اٹھایا۔۔اور سردی کے مارے پہلی بار کمبل میں دبک جانے کو جی چاہا۔۔آج تو جی خوش ہو گیا ۔۔۔رم جھم رم جھم رُم جُھم رُم جُھم بھگی بھگی رت میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس اب دعا ہے اگلی بارش جلدی آئے

سانحہ کے بعد

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 7 January 2008

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ میں قتل کر دیا گیا۔۔ پورا پاکستان اور پاکستان سے باہر پاکستانی سوگ میں ڈوب گئے۔ جو کچھ ہوا جیسے بھی ہوا افسوس ناک تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے لیاقت باغ سانحہ کے علاوہ اگلے دو دنوں میں 58 افراد ہلاک ہوگئے اور اربوں کی املاک کو جلا دیا گیا۔ بےنظیر کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے بارے میں بہت سے سوالات ۔ بہت سی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام واقعے کے بارے میں اصل حقائق جان پایئں گے۔۔۔۔۔۔؟
اس واقعے میں بہت سے لوگوں کی کوتاہی شامل ہے۔۔۔ حکومت جہاں فول پروف سیکیورٹی کی دعویدار ہے وہاں پیپلز پارٹی کی اپنی بھی بہت سخت سیکیورٹی تھی۔۔۔ سینکڑوں جانثاروں کو تیار کیا گیا تھا۔۔۔ پھر سب کی سب سیکیورٹی دھری کی دھری رہ گئی اچانک۔۔۔۔۔۔۔اب بہت سے لوگ شک کے دائرے میں آرہے ہیں۔۔۔ زرداری کا پر اسرار رویہ بھی اس پر شک کرنے پر مجبور کرتا ہے۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا جب زرداری نے بی بی کی لاش دیکھی ہی نہیں تھی پھر اس نے پوسٹ مارٹم سے انکار کیوں کیا۔۔۔ فون ہی پر اس نے کہا کہ پوسٹ مارٹم نہیں کروانا چاہتے۔۔۔ پھر ابھی تک وصیت بھی سامنے نہیں لائی گئی۔۔۔ بس بتا دیا کہ بی بی مرحومہ نے کیا لکھا تھا۔ جو لوگ اس وقت گاڑی میں جائے حادثہ پر ساتھ تھے وہ لوگ کھل کے بات کیوں نہیں کر رہے۔۔۔۔۔۔ حکومت کے پل پل بدلتے بیانات۔۔۔۔۔۔۔لیور لگنے سے موت ہوئی جیسے بیانات کو مختلف چینلز پر آنے والی ویڈیوز جس میں حملہ آور کو گولی چلاتے دیکھا جا سکتا ہے نے حکومت کو اپنے بیان پر معافی مانگنے پر مجبور کیا۔۔۔۔ پھر اگلے 15 گھنٹوں میں ہی حکومت ایک بیان ریکارڈ کر کے یہ یقین دلانا چاہتی ہے کہ اس کے پیچھے القائدہ کا ہاتھ ہے۔ پھر جائے حادثہ کو فورا دھو کر تمام شواہد مٹا دینا حکومت کے کردار کو بھی مشکوک کرتا ہے۔۔۔

اس واقعے سے پہلے بھی پاکستانی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے مگر آج تک پاکستان قوم کسی بھی حادثے کے اصل حقائق سے آگاہ نہیں ہو سکی۔۔۔

اس سے پہلے لیاقت علی خان سے لے کر اب تک ہزاروں واقعات ہوئے۔۔۔ سیکڑوں کمیشن بنے۔۔۔ انکوائریاں ہوئیں مگر سب کچھ بے سود ہی رہا۔ سارے واقعات عوام کے لیے اب بھی ایک معمہ ہی بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔

تحقیقات کا شور تو ہمیشہ اٹھتا ہے۔ لیاقت علی خان کے قتل کی بھی تحقیات ہوئیں۔۔۔۔ ضیاء الحق کی بھی۔۔۔ سانحہ نشتر پارک کی بھی جہاں 50 علمائے دین کو ایک مبارک دن بم دھماکے میں شہید کیا گیا۔ کبھی کوئی مجرم نہیں پکڑا گیا۔ پھر آج کل تو حکومت کے لیے بہت آسان کام ہے۔ ہر دھماکے کو خودکش حملہ قرار دے کر فائل میں بند کر دینا۔۔۔۔
ضیاءالحق کے طیارے کے حادثے میں جان بحق ہونے کے بعد کئی بار ان کے بیٹے اعجازالحق حکومت میں بھی رہے۔ پھر بھی وہ اپنے والد کے قاتلوں کی نشاندہی نہیں کر سکے۔۔۔ بے نظیر خود حکومت میں تھیں جب مرتضٰی بھٹو کو کراچی میں قتل کیا گیا، بہن کے وزیر اعظم ہونے کے باوجود حقائق سے پردہ نا اٹھ سکا۔۔۔ پھر اب بھی ایسا ہی ہو گا۔۔۔۔ ہماری یہ روایت رہی ہے کہ ہم ہر اس ثبوت کو مٹانے کے ماہر ہیں جس سے اصل چہرے بے نقاب ہونے کا خدشہ ہو۔۔۔۔ بے نظیر کے جائے حادثہ کو دھو دینا ہو یا ضیاء الحق کے ثبوت لانے والے طیارے کو حادثہ ہو۔۔۔ مجھے یاد ہے بچپن میں سارے بچوں کی طرح ہمارے بھی عادت تھی جہاز کے آواز سنتے ہی آسمان کی طرف نظریں کیے جہاز کو دور تک دیکھنے کی۔۔۔۔جو طیارہ ضیاءالحق کے حادثے کے بارے میں ثبوت لا رہا تھا اسے میں نے اپنی آنکھوں سے پہاڑوں سے ٹکرا کر جلتے دیکھا۔۔۔ جہلم میں کھیوڑہ کے پہاڑوں سے ٹکرا کے گرا تھا۔ پیچھے سے ٹھیک آیا، پتا نہیں کیسے اچانک نیچی پرواز ہوئی اور کھیوڑہ کے پہاڑوں سے ٹکرا کر گرا اور اس میں آگ لگ گئی۔ بعد میں جب بڑے ہوئے، کتابوں وغیرہ میں پڑھا تو پتا چلا کہ اس جہاز میں کیا تھا۔۔۔ اس جہاز کا بھی آج تک پتہ نہیں چلا کیوں کیسے حادثہ ہوا۔

اب چاہے تو سکاٹ لینڈ یارڈ یا اقوام متحدہ تحقیق کرے حقائق کبھی سامنے نہیں آئیں‌گے۔۔۔ چاہے کمیشن بنے چاہے کچھ بھی کیا جائے، بس چند ہفتوں میں ہی کیس فائلوں میں بند ہو جائے گا، سکاٹ لینڈ والے واپس لینڈ ہو جاہیں گے۔۔۔ پھر تو اس واقعے کا ذکر جلسے جلوسوں میں مخالفین پر الزام لگانے کے لیے ہی کیا جائے گا۔۔۔ عوام کبھی جان نہیں پائیں گے، سب کیسے ہوا۔۔ کیوں ہوا۔۔۔ مگر میرے خیا ل میں یہ سب یونہی ہونا لکھا تھا۔ تقدیر سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔۔۔ بی بی کی موت کا وقت مقرر ہو چکا تھا، موت کا بہانہ چاہے کچھ بھی بنتا۔ کہتے ہیں جو رات بر میں لکھی ہے وہ دنیا پر آ ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔اللہ سب مر حومین کو جنت میں جگہ دے اور ان کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا کرے آمین

2007 کے اہم ملکی واقعات

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Tuesday، 1 January 2008

ویسے تو 2007 ہمارے ملک کے لیے بہت بھاری رہا۔۔سارا سال ہی کچھ نہ کچھ برا ہوتا رہا ہمارے پیارے ملک میں بہت خون بہا، بہت لاشیں گریں۔۔جاتے جاتے بھی یہ سال راوالپنڈی میں دھماکے میں بہت سے گھر اجاڑ گیا۔۔۔۔2007 میں ہونے والے کچھ اہم ملکی واقعات جو یاد تھے اور کچھ یہاں، وہاں سے سرچ کیے درج ذیل ہیں۔۔۔۔
یکم جنوری۔ پاکستان میں عید الضٰی منائی گئی۔
4 جنوری۔ افغان مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی شروع ہوئی۔
6 جنوری۔ لاہور میں شدید سردی کا 71 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔
7 جنوری۔ پاکستان میں شدید سردی سے 22 افراد ہلاک ہوئے۔
9 جنوری۔ نوشہرہ میں جماعت اسلامی کے جلسے میں 3 بم دھماکے ہوئے 1 فرد ہلاک ہوا۔
27 جنوری پشاور میں خود کش بم دھماکہ ہوا۔ سٹی پولیس چیف سمیت 16 افراد ہلاک۔
4 فروری صدر مشرف نے 3 ترمیمی آرڈیننس جاری کی۔
6فروری اسلام اباد ایئر پورٹ پر خود کش حملہ 3 اہل کار زخمی۔
10 فروری جامعہ حفصہ کی طالبات کا لائبریری کا قبضہ ختم کرنے سے انکار۔
15 فروری سپریم کورٹ نے 10 لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے حکومت کو 3 ہفتوں کی مہلت دی۔
17 فروری کوئٹہ ضلعی عدالت میں خودکش دھماکہ جج سمیت 16 افراد ہلاک۔
19فروری نئی دہلی سے لاہور آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے سے جل کر راکھ ہو گئی 100 پاکستانی ہلاک۔
20 فروری سپریم کورٹ نے حسبہ بل پر صدارتی ریفرنس منظور کر لیا۔
20 فروری گوجرانوالہ میں صبائی وزیر ظل ہما عثمان کو قتل کر دیا گیا۔
21 فروری پاکستان اور بھارت میں حاثاتی ایٹمی جنگ سے بچنے کا معاہدہ۔
23 فروری 2ہزار کلو میٹر تک مار کرنے والے ایٹمی میزائل حتف شاہین کا کامیاب تجربہ۔
25 فروری اسلام اباد میں 7 مسلم ممالک کے وزراے خارجہ کا مطالبہ کہ ایران کے خلاف طاقت استعمال ناکی جائے۔
26 فروری کویئٹہ میں ریلوے لائن آڑا دی گئی۔
2 مارچ برطانیہ نے بوئنگ 777 کے سوا تمام پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگا دی۔
9 مارچ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو سپریم کورٹ میں کام سے روک دیا گیا۔
12 مارچ ملک بھر میں وکلاء کی ہڑتال۔
13 مارچ چیف جسٹس نے جوڈیشل کونسل کی آئینی حیثیت چیلنج کر دی۔
15 مارچ حکومت نے جیو نیوز کے پروگرام” آج کامران خان کے ساتھ” پر پابندی لگا دی۔
15 مارچ اسلام اباد میں جیو نیوز کے آفس پر پولیس کا حملہ۔
17 مارچ پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار پولیس نے لاہور ہائی کورٹ کے اند بدترین آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔
18 مارچ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ با ب وولمر ویسٹ انڈیز میں پر اسرار طور پر مردہ پائے گئے۔
22 مارچ جسٹس بھگوان داس قائم مقام چیف جسٹس مقرر۔
24 مارچ ملک بھر میں وکلاء کی ہڑتال اور عدالتوں کا بایئکاٹ
28 مارچ جامعی حفسہ کی طالبات نے اسلام اباد میں 3 خواتین کو بدکاری کے الزام میں اغوا کر لیا۔
29مارچ کھاریاں میں پولیس کے تربیتی کیمپ پر خود کش حملہ 2 اہلکار ہلاک۔
2 اپریل قاضی حسین احمد اپنی رہائش گاہ پر 2 دن کے لیے نظر بند۔
8 اپریل چوہدری شجاعت کے لال مسجد انتظامیہ سے مذکرات۔
10 اپریل چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھجوانے کا صدارتی حکم سپریم کورٹ‌میں چیلنج۔
20 اپریل الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کی نااہلی کی درخواست مسترد کر دی۔
22 اپریل جامعہ حفصہ کو متبادل جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ۔
28 اپریل آفتاب شیرپاؤ کے جلسے میں خود کش دھماکہ 32 لوگ ہلاک۔
5 مئی اسلام اباد سے لاہور تک چیف جسٹس کا شاندار استقبال۔
5 میہ ملک بھر میں نجی ٹی وی چینلز کی نشریات روک دی گیئں۔
8 میہ جستس رمدے کی سربرہی میں فل کورٹ کی تشکیل۔
12 مئی کراچی میں چیف جسٹس کی آمد اور ایم کیو ایم کی ریلی پرتشدد واقعات میں 40 لوگ ہلاک۔
13 مئی پاک افغان سرحد پر مورچوں کی تعمیر پر جھڑپ 7 افغان فوجی ہلاک 3 پاکستانی اہلکار زخمی۔
13 مئی کراچی میں شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم۔
14 مئی اسلام اباد میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار حماد رضا کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
15 مئی پشاور ہوٹل میں بم دھماکہ 25 افراد جاں بحق۔
18 مئی لال مسجد طلبہ نے 4 پولیس اہلکار اغوا کر لیے گرفتار طلبہ کو رہا کرنے کا مطالبہ۔
19 مئی۔ 12 مئی کے پر تشدد واقعات کے حولے سے ایم کیو ایم کی قیادت کے‌خلاف مقدمہ۔
20مئی لال مسجد انے ولاے 200 طلبہ گرفتار۔
26 مئی سندھ ہائی کورٹ کے ججز نے متفقہ فیصلہ کیا کہ آیندہ کوئی جج قائم مقام گورنر نہیں بنے گا۔
27 مئی عمران خان پر لاہور سے باہر نکلنے پر پابندی۔
27 مئی جنوبی وزیرستان میں مستقل فوجی چھاؤنیاں قائم کرنے کا فیصلہ۔
29 مئی کوئٹہ میں بم دھماکے۔
29 مئی لاہور میں امام کعبہ کا شاندار استقبال۔
30 مئی قومی احتساب بیورو سوئیس کورٹ سے بے نظیر کے کرپشن کیس سے دستبردار۔
9 جون۔ قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانی عمر ایوب نے بجٹ پیش کیا
11 جون عمران خان نے سکاٹ لینڈ یارڈ کو الطاف حسین کے خلاف ثبوت دیے
11 جون اسلام اباد پولیس نے پاکستانی نژاد کینڈین کفیلہ صدیقی کے قتل کے الزام میں وفاقی وزیر شاہد جمیل کے خلاف مقدمہ
12 جون ایم کیو ایم نے عمران خان کی نا اہلی کے خلاف اسمبلی میں ریفرنس جمع کروایا
18 جون چاند اور سیارہ زہرا قریب آگئے۔ لاکھوں پاکستانیوں نے خوبصورت منظر دیکھا
19 جون شمالی وزیرستان کے مدرسے میں دھماکے 32 افراد ہلاک
19 جون برطانوی ہائی کمشنر کی دفتر خاجہ طلبی رشدی کو “سر” کا خطاب دینے پر احتجاج
22 جون جامعہ حفصہ کی طلبات نے چینی خواتین کو اغوا کر لیا
23 جون کراچی میں آندھی، طوفان، بارش۔ 45 افراد ہلاک
23 جون جنوبی وزیرستان میں اتحادی طیاروں کی بمباری۔ 33 افراد ہلاک
23 جون لال مسجد انتظامیہ نے اغوا کیے گے 9 افراد کو رہا کر دیا
24 جون کراچی میں بارش سے ہلاکتیں 200 ہو گیئں
26 جوں سمندری طوفان بلوچستان کے ساحل سے ٹکرا گیا 15 افراد ہلاک
3جولائی لال مسجد کے اطراف کرفیو، فوج کا آپریشن 12 افراد جان بحق
4 جولائی لال مسجد کے خطیب عبدلعزیز گرفتار 200 طلبہ نے خود کو حکام کے حوالے کیا
4 جولائی۔ عمار لیاقت، قومی اسمبلی اور وزارت سے مستعفیٰ
6 جولائی صدر کے طیارے پر حملہ کی کوشش ناکام
10 جولائی لال مسجد کے نائب خطیب عبدالریشید غازی سمیت 70 دہشت گرد ہلاک
12 جولائی خطیب عبدالریشید غازی کو ڈیرہ غازی خان میں سپرد خاک کیا گیا۔

۔14 جولائی میران شاہ سیکیورٹی فورسز پر خودکش حملہ 24 شہید 29 زخمی

16جولائی چیف جسٹس کے خلاف عدالتی بدعملی کا الزام واپس لے لیا گیا

17 جولائی چیف جسٹس کے استقبالی کیمپ میں دھماکہ 18 ہلاک
19 جولئی 3 شہروں میں بم دھماکے۔۔۔حب 30 ،ہنگو8 اور کوہاٹ 19 ہلاک

20 جولائی ملک کی پہلی سپر فٹبال لیگ کراچی میں شروع ہوئی

20 جلائی صدارت ریفرنس کے خلاف فیصلہ چیف جسٹس عہدے پر بحال

20 جولائی دیر بالا کے ایک گاؤں پے آسمانی بجلی گرنے سے 70 افراد زندہ جل کر ہلاک

23 جولائی وزیرستان میں جھڑپ میں 35 جنگجو اور 3 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق

24 جولائی جحڑپ مٰں طلبان کمانڈر عبداللہ محسود نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا

24 جولائی بنوں شہر پر راکٹوں سے حملہ 13 ہلاک

25 جولائی لال مسجد کے خلاف آپریشن سپریم کوڑت میں چیلنج

27 جولائی لال مسجد کے قریب خود کش دھماکہ 13 ہلاک

27 جولائی رزاق بگٹی فائرنگ سے جاں بحق

28 جولائی بلوچستان میں امریکی جاسوسی طیارہ گر کر تباہ

1 اگست شریف برادران جلاوطنی کے بعد واپسی کے لیے سرگرم

اگست سرگودھا پولیس ٹرینگ سنٹر پر خود کش حملہ ناکام

2 اگست شریف برادران کی واپسی اور الیکشن مین حصہ لینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر3 اگست جاید ہاشمی کی سزا معطل رہائی کا حکم۔

7 اگست سنگھ ہایئکورٹ نے وزارت داخلہ کو حکم دیا کہ بے نظیر کے ریڈ نوٹس واپس لیے جایئں۔۔

10 اگست کراچی میں بارش سے تباہی 33 افراد جان بحق

13 اگست چیف جسٹس کے بحالی کے بعد صدر نے پہلے بار بلواسطہ رابطہ کیا۔۔
13 اگست کوہستان مین سیلابی ریلے میں 10 گاؤں بہ گئے۔۔

15 اگست 5 لڑکیوں کو ونی کرنے کے جرم میں سپریم کورٹ نے پی پی پی کے رکن اسمبلی ہزار خان بجرانی کی گرفتاری کا حکم دیا

16 اگست وزیرستان میں فورسز پر حملے میں 16 اہلکار شہید۔

20 اگست ہنگو میں چوکی پر حملہ 16 اہلکار شہید۔۔18 زخمی

21 اگست سپریم کورٹ نے کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا۔۔

23 اگست عدالت کا فیصلہ شریف برادران واپس آسکتے ہیں حکومت رکاوٹ نا ڈالے۔

28 اگست بے نظیر بھٹو سے صرد مشرف کی اعلیٰ ٹیم کے مزکرات کامیاب۔
29 اگست 100 پاکستانی فوجی وانا میں طلبان کے ہاتھوں اغوا
30 اگست شریف برادران نے اسلام اباد اترنے کا علان کیا۔۔

1 ستمبر کراچی ناردرن بائی پاس کا ایک حصہ گر گیا 6 افراد ہلاک۔۔
3 ستمبر ونی کیس میں ضمانت مسترد ہونے پر ہزار بجرانی عدالت سے فرار۔۔۔
4 ستمبر راولپنڈی چھاونی میں دھماکے 27 افراد ہلاک۔۔
7 ستمبر شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری۔۔۔۔

10 ستمبر نواز شریف اسلام اباد ایئر پورٹ پر گرفتار پھر سے جلا وطن۔۔
10 ستمبر وکلاء تحریک میں فعال ریاض ایڈوکیٹ قتل۔۔

ڈیر اسماعیل خان خود کش حملے میں 18 افراد ہلاک۔۔

11 ستمبر وزیر اعظم کا پروٹکول افسر اغوا کے بعد قتل۔۔

13 ستمبر تربیلا غازی ایس ایس جی کے مرکز پر دھماکہ 20 کمانڈوز شہید۔۔

14 ستمبر ٹریکٹر ٹرالی ستلج میں جا گری 40 ہلاک۔۔

20 ستمبر صدارتی انتخابات 6 اکتوبر کو کروانے کا علان۔۔

27 ستمبر اے پی ڈی ایم کی طرف سے استعفیٰ دینے اور سرحد اسمبلی توڑنے کا اعلان۔۔۔

28 ستمبر سپریم کورٹ کا صرد کے 2 عہدوں کے خلاف درخواستین مسترد۔۔
29 ستمبر اسلام اباد وکلاء صحافیوں پر بد ترین تشدد۔۔۔۔۔۔

1 اکتوبر 5 صدارتی امیدواروں کی فہرست جاری۔۔۔

1 اکتوبر پاک بھارت میں 60 سال میں پہلی بار سڑت سروس شروع۔۔۔

2 اکتوبر صوبائی اسمبلیوں سے اپوزیشن کے 164 استعفے

4 اکتوبر حکومت اور پی پی پی میں مصالحتی آرڈیننس پے اتفاق۔۔
6 اکتوبر صدارتی انتخابات مشرف بھاری اکثریت سے کامیاب۔۔۔

8 اکتوبر بے نظیر کے خلاف کرپشن کے تمام مقدمات واپس۔۔

10 اکتوبر سرحد اسمبلی توڑ دی گئی۔۔

11 اکتوبر شہباز شریف نے مصالحتی آرڈیننس سپریم کورت مٰن چیلنج کر دیا

12 اکتوبر لاہور ہائی کورٹ نے بےنظیر کی 3 سال کی سزا ختم کر دی۔۔

12 اکتوبر مہمند ایجنسی مقامی طلبان نے 6 افراد کو سر عام زبح کر دیا۔۔

18 اکتوبر بے نظیر جلا وطنی ختم کر کے کراچی پہنچی۔۔۔

18 اکتوبر بے نظیر کے جلوس مین دھماکہ 140 افراد جاں بحق۔۔

26 اکتوبر سوات مٰن 14 افراد اغوا۔5کے سر قلم کر دیے گئے۔۔

30 اکتوبر راولپنڈی دھماکہ 7 ہلاک 33 زخمی۔۔۔۔

1 نومبر فضایئہ کی بس پر خود کش حملی 9 افراد شہید۔۔

3 نومبر ملک می ایمرجنسی کا نفاز تمام ٹی وی چینلز بند۔۔

3 نومبر ابلحمید ڈوگر نے چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا۔۔۔

9 نومبر پشاور وفاقی وزیر کے گھر پر حملہ 3 ہلاک۔۔۔
15 نومبر قوم اسمبلی اپنی آیئنی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہو گئی۔۔

16 نومبر میاں محمد سومرو نگراں وزیراعظم ۔۔۔
18 نومبر سندھ پنجاب بلوچستان کی اسمبلیاں تحلیل۔۔۔۔

21 نومبر بلاچ مری ہلاک۔۔
22 نومبر ایم کیو ایم کے شریف خان کراچی میں قتل۔۔
24 نومبر راولپنڈیمیں 2 خود کش دھماکے 33 ہلاک۔۔۔

25 نومبر میاں شریف کی لاہور آمد۔۔
25 نومبر سوات مٰن فوجی آپریشن۔۔۔۔۔
28 نومب صدر مشرف ارمی چیف کے عہدے سے سبکدوش۔۔

29 نومبر صدر نے سولین صدر کا حلف آٹھایا۔۔۔

1 دسمبر شہباز شریف کے کاغزات نامزدگی مسترد۔۔
3دسمبر نواز شریف کے بھی کاغزات مسترد۔۔
4 دسمبر پی سی او کے تحت حلف نا لینے والے 37 ججز کے برطر فی کا ںوٹس جاری۔۔
9 دسمبر سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ۔۔
10 دسمبر کامرہ فضایئہ کی سکول بس پے کود کش حملہ 21 بچے شہید۔۔

11 دسمبر کروز مزایئل حتف سیون کا کامیاب تجربہ۔۔
15 دسمر 45 دن بعد ملک سے ایمرجنسی کا خاتمہ۔۔

17 دسمبر کوہاٹ مین دھماکہ 12 اہلکار شہید۔

18 دسمبر کراچی ایکسپریس کو حادثہ 65 افراد جاں بحق۔۔

21 دسمبر چارسدہ مین نماز عید میں کود کش دھماکہ 60 افراد شہید۔۔

24 دسمبر اداکار اظہار قاضی کا انتقال۔۔
26 دسمبر الیکشن کے لیے 200 غیر ملکی مبصرین کو ویزے جاری کیے گئے۔۔۔27 دسمبر راوالپنڈی مٰیں دھماکہ بےنظیر گولی لگنے سے جابحق۔۔۔30 افراد ہلاک۔۔۔۔۔۔۔

28 دسمبر بےنظیر کی وفات کے بعر جلاؤ گھیراؤ ،مٰ کھربوں کا قومی نقصان۔۔۔53 افراد ہلاک۔۔۔

یوں 2007 اپنے خونی پنجے سمیٹے ہم سے رخصت ہوا

زینب آن لائن ہیں  

جملہ حقوق بحق منفرد محفوظ ہيں.