بارش کی کہانی
تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 14 January 2008ہم صحرا میں رہنے والے ہمیشہ سے بارش کو ترسے ہوئے لوگ ہیں۔۔۔۔۔۔اس بار تو کمال ہی ہو گیا۔۔۔پچھلے ایک ہفتے سے سورج نہیں نکلا۔۔۔وقفے وقفے سے بارش جاری ہے۔۔۔۔۔کل سارا دن بارش تو نہیں ہوئی مگر بادل چھاے رہے اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوایئں چلتی رہیئں۔۔۔۔۔ہم نے بھی موقعے سے فائدہ اٹھایا اور سرما کے پکوانوں سے لطف اندوز ہوئے
کل سارے دن کے چھائے بادلوں نے رات میں ایک بار پھر جی بھر کے پورے سال کی کسر نکالی۔۔۔۔۔ساری رات خوب بارش ہوئی۔۔۔۔۔صبح ہر طرف جل تھل تھی تھوڑی ہی دیر بعد دوستوں کے میسج آنا شروع ہو گئے ہر کوئی ایک دوسرے کہ رات میں ہونے والی بہت سی بارش کی اطلاع دیتا نطر آیا،،،،،سب کو یہی کہتے سنا”ارے دیکھا تئم نے باہر۔۔۔۔شارجہ ڈوب گیا”۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا واقعی آج شارجہ ڈوبا ہوا ہے فٹ پاتھ تک پانی ہے گاڑی تک جانا محال ہے۔مجھ جیسے پھر بھی پانی میں چھپا چھپ کرنے سے باز نہیں آتے۔۔۔سردی ہو گی نازک مزاج عربیوں کے لیے ہم ٹھہرے سخت جان پاکستانی ۔۔۔۔اتنی سی سردی بھی بھلا کوئی سردی ہوئی کہ بندا پانی سے بچ بچ کے چلے اور پاؤں بھی گیلے نا کرے ۔۔۔
اب گاڑی کا ہم بینڈ بجا چکے ہیں کہ پرسوں بارش میں پھسلن کی وجہ سے ایک عقل کے اندھے نے پیچھے سے دے ماری مزے کی بات یہ کہ میں نے اسے کچھ کہا بھی نہیں۔۔۔مجھے بھی بارش میں شرطے کا انتظار اچھا لگ رہا تھا۔۔۔ہاہاہاہا گھر سےکچھ دیر اور باہر رہنے کا بہانہ جو مل گیا تھا ہم بھی چلے تھے بارش میں چھپا چھپ کرنے ابھی تک نیچے کھڑی ہے ایک دو دن میں گیراج میں دینی ہو گی تبھی پھر سے بارش میں ڈرایئو کے مزے لوٹیں گے۔
بس اللہ کرے کچھ دن اور بارش ہوتی رہے۔۔۔تاکے میری گاڑی ٹھیک ہو جائے اور میں پھر سے پانی کے چھینٹے اڑا کے خوش ہو لوں۔۔۔آج تو ویسے ہی فون پے فون بج رہا ہے سب خوشی سے ایک دوسرے کو اطلاع دے رہے ہیں۔۔سچ میں اتنی بارش اتنا پانی افففففففف گزرنے کی جگہ نہیں ویسے بھی بچ کے گزرنے کی ضرورت کسے ہے۔۔۔۔۔۔ہاہاہا
آج میں سوچ رہی ہوں کسی دوست کی طرف جاؤں اور کہیں باہر جایئں کہ یہاں بارش میں لوگ کم ہی گھروں میں دبک کے بیٹھتے ہیں سڑکوں پے جتنا رش بارش میں ہوتا ہے اتنا کبھی بھی نہیں ہوتا ہر کوئی باہر نکلا ہوا ہوتا ہے۔۔۔۔میں بے چاری تو ویسے ہی 2 دن سے پیدل ہو گئی ہوں اب مجھے بھی کسی دوست ہمدرد کی خدمات حاصل کرنی ہوں گی انجوائے کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فلحال بارش کی کہانی اتنی کافی ہے باقی کی پھر کبھی۔۔۔۔
حاليہ آراء