تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Tuesday، 27 November 2007

محسن نقوئ کی یہ نطم مجھے سالون پہلے کسی نے بھیجی تھی تب یہ میری سمجھ میں نہیں ائی تھی اور جب اس کی سمجھ ائی تو وقت بہت اگے بڑھ چکا تھا۔۔۔۔۔۔
پاگل آنکھوں والی لڑکی

اتنے مہنگے خواب نا دیکھو

تھک جاو گی

کانچ سے نازک خواب تمہارے

ٹوٹ گئے تو پچھتاؤ گی

تم کیا جانو    !!!!!!

خواب ۔۔۔۔۔۔سفر کی دھوپ کے تیشے
خواب۔۔۔۔۔۔۔۔ادھوری رات کا دوزخ

خواب۔۔۔۔۔ خیالوں کا پچھتاوا

خوابوں کا حاصل تنہائی

مہنگے خواب خریدنا ہوں تو

آنکھیں بیچنا پڑتی ہیں

رشتے بھولنا پڑتے ہیں
اندیشوں کی ریت نا پھانکو

خوابوں کی اوٹ سراب نا دیکھو

پیاس نا دیکھو

اتنے مہنگے خواب نا دیکھو
تھک جاؤ گی

میرے “اکلوتے”ووٹ کا حقدار کون؟

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Tuesday، 27 November 2007

الیکشن کی امد آمد ہے اور ہر طرف گہما گہمی شروع ہونے ہی والی ہے کہ تمام امیدواران اپنے اپنے کاغذات جمع کروا کے بھولی بھالی عوام سے نئے وعدے کرنے کے لیے کمر کس چکے ہیں۔۔۔ایسے میں میں سوچ رہی ہوں کہ ووٹ کسے دوں۔۔۔۔۔؟
پاکستان میں اول تو عوام کی اکثریت ووٹ کی اہمیت سے ہی ناواقف ہے پارٹی منشور کس بلا کا نام ہے کسی کو پتا ہی نہیں۔۔۔۔ہمارے ہاں اکثر ووٹ زات برادری اور رشتہ داری کے تحت دیے جاتے ہیں۔ اپنے محلے کی کسی ملک۔۔مرزا صاحب یا نمبردار صاحب جہاں کہیں گے مہر لگا کے اپنا فرض پورا کر آیئں گے۔۔ ۔جہاں ووٹ ڈالنے میں ہمارے برادری سسٹم ک ہاتھ ہے وہاں ہی پیسے لے کے بھی لوگ ووٹ ڈالتے ہیں ۔۔۔۔باقی سب کی چھوڑیں میں خود اس بات کی گواہ ہوں چشم دید۔۔بلدیاتی الیکشن میں باقائدہ محلے کے ملک صاحب شام کو سب کے شناختی کارڈ لے جاتے تھے صبح پولنگ اسٹیشن جا کے کون ووٹ ڈالتا اور کیسے یہ میری چھوٹی عقل سمجھنے سے قا صر ہی رہی۔۔۔بلکل ویسے ہی جیسے شناختی کارڈ کے” مالکوں” کو نہیں پروا ہوتی کہ کس کو ووٹ ڈالا گیا۔۔۔۔۔۔پروا ہو بھی کیوں ملک صاحب ہر ووٹ کے بدلے “رقم”جو تھما دیتے تھے لوگ سمجھتے ہیں الیکشن جیت کے انہوںنے بھی اگے جا کے کڑوڑون کمانے ہیں تو 5 دس ہزار ان کے ووٹ کا حق بنتا ہے۔۔۔۔۔۔۔باقی سب کو چھوڑیں۔۔
ہمارے گھر میں بھی عجیب حال رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔والد صاحب(اللہ بخشے) میرے پکے مسلم لیگی تھے جب تک زندا رہے مسلم لیگ پے ہی مہریں ثبت کر کے پاکستان سے اپنی محبت کا ثبوٹ دیتے رہے کہ مسلم لیگ نے ہی پاکستان بنایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب اگر زیندہ ہوتے تو خود بڑے پریشان ہوتے کہ کس مسلم لیگ کو ووٹ دیں کس کو نا دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔امی میری ہر سیاسی پارٹی کی مخالف رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے نظیر کا تو نام سنتے ہی اللہ کی پناہ جو پینجابی سٹائل میں تعریف کریں گی کہ سننے والا قصہ چھیڑ کے پچھتائے۔۔۔قصہ مختصربی بی تو امی کو ایک انکھ نہیں بہاتی۔۔
بھائی میرے نواز شریف کے حامی کیوں یہ تو مجھے بھی نہیں پتا۔باقائدہ نواز شریف کی فوٹو بھی فریم کروا کے اپنے کمرے میں لگا رکھی ہے۔۔بھلا کوئی گستاکی کرے تو سہی میاں جی کی شان میں۔۔۔۔۔۔۔۔

باقی سب کو چھوڑیں میں تو کافی کنفیوژ ن کا شکار ہوں کہ اخر میرے قیمتی اکلوتے ووٹ کا حقدار ہے کون اور مجھے کہاں ملے گا۔۔۔۔؟
اگر پہلے بات کروں بے نظیر کی تو کیسے 2 بار حکومت کر کے عوام کو بےوقوف بنایاکیسے لوٹ کھسوٹ کی کہ اس کے دور حکومت کو اتنے سال گزر گے پھر بھی لوگ ہیں کہ ہوئی باتیں بھولنے کو تیار ہی نہیں۔۔۔ اس پے بھی کوئی کمی رہ گئی تھی جو محترمہ قومی مفاہمتی آرڈینس( جس کا نام میرے خیال میں قوم پے مٹی پاؤ آرڈینس ہونا چاہیے۔) کر کے سارے گناہ ایک ہی جھٹکے میں بخشوا کے چلی آیئں ایک بار پھر سے نئے وعدے لے کر۔ ۔کم از کم میرا ضمیر تو امادہ نہیں کہ میں تیر پے مہر لگا کے ملک لوٹنے والوں کے ہاتھ مضبوط کروں۔۔۔نواز شریف کہ اس لیے ووٹ نہیں دینا کہ وہ بھی نام کی طرح شریف ہر گز نہیں مانا کہ اس کے سینے پے ایٹم بم کے ساتھ ساتھ موٹر وے(چاہے اپنی زات کے لیے بنائی پر استعمال میں تو عوام کے ہی ائی نا۔۔) جیسے بڑے کاموں کے تمغے سجے ہیں میرا دل امادہ نہیں کہ اس نے بھی 2 بار کی حکمرانی میں غریبوں کو غریب تر اور امیروں کو امیر ترین ہی کیا ہے۔۔۔۔اب باری ائی حکمرانوں کی ۔۔۔جی ہانن‌میرا مطلب “ق”لیگ سے ہے۔۔۔۔چوھدریوں نے ڈٹ کے پانچ سال حکومت کی عوام کے ہاتھ پاؤں منہ باندھ کے کی اصل میں تو یہ جماعت ہی لوٹون کی ہے سارے یہاں وہاں کے بھگوڑے اسی پارٹی کے پناہ گزین ہیں۔۔۔۔۔ویسے بھی میرے خیال میں مسلم لیگ ق کو ووٹ دینا نا دینا ایک ہی برابر ہے ووٹ نا ڈالیں پھر بھی جیت تو جانا ہے اس نے نا بھی جیتی تو ادھر ادھر سے لوٹے نہیں تو آزاد حیثت سے کامیاب امیدوار یہاں اکے ہی بکیں گے اور جتنی امریکہ کی مداخلت ان کے دور میں ہوئی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی اس لیے یہ بھی آوٹ۔۔۔
باقی رہی ایم ایم اے۔۔۔تو ان کا تو اپنا کوئی ایک فیصلہ ہی نہیں ہے۔جس بات پے قاضی صاحب مانتے ہیں مولانا فضل الرحمان اکڑ جاتے ہیں ۔مشرف کی در پردہ حمایت کر کے۔۔اندر ہی اندر پیسے کھاتے ہیں دینا اور آخرت راضی رکھتے ہیں۔۔۔مولانا صاحب تو مشرف کے ایک اشارے پے تن من دھن لوٹانے کو تیار نظر اتے ہیں اسی لیے انہیں بھی میں اپنا ووٹ ڈال کے ضائع نہیں کروں گی۔۔۔

اب باری ائی الطاف بھائی کی۔۔۔۔۔۔۔تو اس چون چوں کے مربے کوووٹ ڈالنے سے اچھا ہےمیں ڈالوں ہی نا۔۔ویسے بھی ان کی غنڈا گردی کے قصے میں کافی سن چکی ہوں اور الطاف بھائی جیسے خود بیرون ملک چھپے بیٹھے ہیں ویسے ہی اس کی پارٹی بھی سندھ تک ہی محدود ہے کہ پنجاب میں ان ا نام لیوا ویسے ہی کوئی نہیں۔۔اس لیے ان پے بھی مٹی پاؤ۔۔۔۔
اب اتے ہیں عمران کی طرف۔۔۔۔اب ایک ہی تو پارٹی بچی ہے تحریک انصاف جس سے مجھے انصاف کی پوری پوری امید بھی ہے۔۔ویسے عمران میں ایک اچھے ایمان دار لیڈرز والے سارے ہی گن موجود ہین پھر بھی پتہ نہیں کیوں عمران کی پارٹی عوام میں جڑ نہیں پکڑ سکی۔میں نے خود ابھی تک عمران کے علاوہ تحریک انصاف کا کوئی اور ممبر دیکھا ہی نہیں۔۔میں سوچ رہی تھی۔۔۔نہیں بلکے فیصلہ کر چکی تھی کہ میں تحریک انصاف کو ہی ووٹ دے کر اپنے ملک اور قوم سے انصاف کروں گی مگر کیا کریں کہ عمران نے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا ہے یہی نہیں عمران خان نے تو کاغذات نامزدگی پھاڑ کے میرے ووٹ پے بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔۔۔۔۔؟اب سب نے ہی پاکستان کا ستیاناس مار دیا ہے لوٹ کھسوٹ کی سب کی ایک سے ایک اپنی ہی اعلیٰ مثالیں بھر ی پڑی ہیں تو ایسے میں میں ووٹ کسے دوں۔۔۔۔۔۔کوئی ایسا جو ملک سے اس بھولی اللہ میاں کی گائے قوم سے مخلص ہو۔۔۔جو پاکستان کی تقدیر بدلنے کا وعدہ ہی نا کرے بلکے سچ میں تقدیر بدل بھی دے۔۔۔۔۔ایسا کوئی ہے اپ کی نظر میں تو مجھے ضرور آگاہ کریں کہ واقعی میں اپنا ووٹ ضائع نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔امید ہے اپ سب میرے ووٹ کو ضائع ہونے سے بچایئں گے۔۔۔۔۔۔

میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں۔۔۔۔

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Sunday، 18 November 2007

ملک میں ایمرجنسی کا شور،جلسے جلوس اور احتجاج ابھی کم بھی نہیں ہوا کہ عزت ماب جناب جنرل پرویز مشرف صاحب نےآرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے ایک نئا قانون عوام کے ہاتھ تھما دیا۔۔آرمی ایکٹ میں صدر نے جو ترمیم کی اس کے مطابق اب عام شہریوں پے بھی مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے۔۔یہ ترمیم صدر نے لاپتہ افراد کے قصے کو ختم کرنے کے لیے کی تاکہ کوئی نا کہ سکے کہ ایجنسیوں نے عام شہریوں کو آٹھا کے غایب کر دیا ہے  بہت سے پاکستانی ایسے ہیں جن کا سالوں گزر جانے کے باوجود علم نہیں ان کے گھر والوں کو کہ وہ کہاں ہیں اور انہیں کس جرم کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔۔۔۔۔گرفتار نہیں غائب کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔۔۔۔۔۔یہ تو ایک طرح سے کالا قانون ہوا اب ارمی کسی بھی شہری کو ارمی ایکٹ کے تحت پکڑ سکتی ہے۔۔۔۔۔سارے لیڈرز بمعہ قوم کے ایمرجنسی میں اتنے گوڈے گوڈے غرق ہیں کہ اس طرف کسی نے کوئی دھیان ہی نہیں دیا کہ کس طرح مشرف نے اپنے ہاتھ اور مضبوط کر لیےہیں۔اور کیسے عام شہریوں کا استحسال کیا جائے گا اس قانون کے زریعے۔۔۔ اب کسی عدالت سے اپ رجوع نہیں کر سکتے کسی بھی لاپتہ انسان کے بارے میں سیدھا سیدھا  سا جواب ہو گا ارمی ایکٹ کے تحت گرفتار ہے۔۔۔مشرف نے بھی بہت مناسب وقت پے یہ بل پاس کروایا کہ کسی بھی لیڈر کا اس طرف دھیان ہی نہیں ہونے دیا۔۔۔
چلیں یہ بھی چھوڑیں۔۔۔۔۔۔
صدر نے تب ایک اور کمال کر دیا جب ایمرجنسی آٹھانے کا اختیار چیف آف ارمی سٹاف سے لے کر صدر کو منتقل کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ایمرجنسی  جو ایک چیف آف ارمی سٹاف  نے لگائی تھی وہ اب صدر صاحب اٹھئیں گے۔۔۔۔۔۔۔بھلا کس قانون کے تحت۔۔؟پاکیستان کا آیئن تو3 نومبر سے معطل ہے۔۔۔۔۔پھر صدر کس قانونی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ایمرجنسی آٹھاے گا۔۔۔۔۔۔ آیئن معطل ہے تو کس ایئن کے تحت ارمی چیف نے   یہ اخیتار صدر کو دیا۔۔۔۔۔؟کیا پاکستانی آیئن کو صرف عوام کے لیے معطل کیا گیا۔۔۔۔اسی غریب عوام کے لیے جو 60 سالوں سے پستے چلے آرہے ہیں۔۔۔۔۔جو 60 سالوں سے ترقی کے نام پے بےوقوف بنتے آرہے ہیں۔۔۔۔۔جنہیں وڈیرے اور،جاگیردار،اپنی ترقی کے لیے سیڑھی کی طرح استعمال کرتے ائے ہیں اور نا جانے کب تک پاکستانی عوام غریب سے غریب تر اور امیر امیر سے امیر تر ہوتے چلے جاہیں گے۔پاکستانی قوم صرف جان کے نظرانے دینے کے لیے ہے اور وڈیرے عیش کرنے کے لیے۔۔۔۔

مشرف جس طرح پاکستانی آیئن کو اپنی وردی اور کرسی بچانے کے لیے پچھلے 8 سالوں سے استعمال کر رہا  ہے اس سے تو لگتا ہے پاکستانی پاکستانی نہیں مشرفستان ہو گیا ہے۔۔۔۔۔صدر کی حرکتیں دیکھ کے مجھے ایک گانا یاد آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیا رکھاں۔۔۔۔۔اب اللہ ہی مشرف سے دو دو ہاتھ کرے۔۔۔۔۔۔۔

غزل

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Tuesday، 13 November 2007

شاعری سے سبھی کو لگاو ہوتا ہے کچھ نا کچھ مجھے بھی ہے۔۔۔۔۔۔بچپن سے ہر گز نہین کہ بچپن میں تو قومی ترانہ بھی پلے نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلی غزل “ساغر صدیقی کی۔۔۔

آج روٹھے ہوئے ساجن کو بہت یاد کیا
اپنے آجڑے ہوئے گلشن کو بہت یاد کیا

جب کبھی گردش تقدیر نے گھیرا ہے ہمیں
گیسو یار کی ایجھن کو بہت یاد کیا

شمع کی جوت پہ جلتے ہوئے پروانوں نے
اک تیرے شعلہ دامن کو بہت یاد کیا

جس کے ماتھے پے  نئی صبح کا جھومر ہو گا
ہم نے اس وقت کی دلہن کو بہت یاد کیا

آج ٹوٹے ہوئے سپنوں کی بہت یاد ائی
آج بیتے ہوئے ساون کو بہت یاد کیا

ہم سر طور بھی مایوس تجلی ہی رہے
اس در یار کی چلمن کو بہت یاد کیا

مطمئن ہو ہی گئے دام و قفس میں ساغر
ہم اسیروں نے نشیمن کو بہت یاد کیا۔۔۔۔۔۔۔

ایمرجنسی

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Monday، 12 November 2007

2007 کا سورج نکلتے ہی پاکستان اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور میں چلا گیا۔۔۔جہاں مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے گئے۔جو بات لال مسجد اور چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی معطلی سے ہوتی ہوئی ایمرجنسی جیسے انتہائی مقام پے ارکی۔۔۔3 نومبر کی شام چیف آف آرمی سٹاف نے اپنے قانونی وغیر قانونی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا علان کر دیا۔اور 16 کروڑ پاکستانیوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا ۔جنرل مشرف کی قلم کی ایک جنبش سے پاکستانیوں کے وہ حقوق معطل ہو گئے جو ہمیں خیرات میں نہیں ملے تھے بلکہ ہمارے آباواجداد نے ہزاروں قربانیاں دے کے حاصل کیے تھے۔۔ملکی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفاد کی جنگ لڑنے والوں کو تو ایک موقعہ میسر آگیا کہ وہ اپنی رہی سہی کسر بھی پوری کر لیں۔۔۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جو کچھ بھی کیا جا رہا ہے ذاتی مفاد کے لیے ہی کیا جا رہا ہے اور اس بات سے کسی کو کوئی غرض نہیں کہ چند لوگوں کے مفاد کے لیے پاکستان اور پاکستانیوں کو کیا قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔۔

سوال یہ ہے کہ ایمرجنسی لگانے کی ضرورت پیش ہی کیوں آئی ؟ہر ذی شعور اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کے ایمرجنسی کے پیچھے کیا محرکات تھے۔۔

عدلیہ کی آزادی کرپٹ حکمرانوں کی انکھوں میں کچھ زیادہ ہی کھٹکنے لگی تھی۔۔۔۔۔دہشت گردی کا جو جواز پیش کیا گیا وہ کچھ ہضم نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔کیا دھشت گردی ابھی شروع ہوئی ۔۔۔ویسے بھی ایمرجنسی میں ایسا کون سا جادو ہے جو دہشت گردی پر قابو پا یا جا سکتا ۔۔۔۔نئے قانون کے تحت جن ججز نے حلف لیے وہ انصاف کے علمردار کم حکمرانوں‌ کے ذاتی ملازم زیادہ ہیں۔۔۔اس سلسلے میں ایک واقعہ ذہن میں آرہا ہے۔کسی فوج کا سپہ سالار تھا دشمن سے جنگ میں اس کی فوج دوست احباب سب ختم ہو گئے تو ماں کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہاِ۔۔۔اگر میں ہتھیار ڈال دوں تو زندہ بچ جاوں گا اگر لڑوں تو مارا جاوں گا۔۔۔۔۔ماں نے جواب دیا بیٹا”اگر تو آج مارا گیا تو تاریخ میں زندہ رہے گا جو آج بچ گیا تو تاریخ میں مارا جائے گا”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ججز جنہوں نے کرپٹ حکمرانوں کے اگے سر نہیں جھکایا تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔۔۔۔۔۔ اب یہی کھٹ پتلی عدالتیں مشرف کے وردی مٰن انتخاب کو قانونی قرار دیں گی ،ایمرجنسی کو تو پہلے ہی مان چکی ہیں۔۔۔یہی عدالتیں صدر کے قومی مفاہمتی آردینیس کو درست کہیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔مشرف کی خیر ہو پاکستان کے بارے میں بعد میں سوچیں گے۔۔۔۔۔۔

ہزاروں سیاسی ورکرز،وکیل اور عام شہری گرفتار کیے جا چکے ہیں انتہائی بے دردی سے پاکستا نیوں کو فوجی بوٹوں تلے روندہ جا رہا ہے۔۔۔ مشرف تو قوم کے ہاتھ پاوں باندھ کے بھی اقتدار میں آکے رہے گا۔۔۔۔جہاں۔پاکستان کے لیے لابنگ کرنے والی سب سے بڑی کمپنی پاکستان سے معاہدہ ختم کر چکی ہے ،وہاں ہی دولت مشترکہ سے 22 جون تک پاکیستان کی رکنیت بھی ختم کر دی جائے گی اتنے بڑے بڑے نقصانات کے باوجود ایمرجنسی کو پاکستان کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔اور مشرف کہتے ہیں کہ پاکستان کو نقصان ہو تو ان کا دل روتا ہے۔

بلا آخر امریکہ بہادر کے دباو میں آکے مشرف نے 9 جنوری سے پہلے انتخابات کا علان تو کر دیا ہے مگر کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ وہ اس پر قائم بھی رہے گا۔کیوں کہ اس سے پہلے بھی 15 فروری اور 15 جنوری کی تاریخین بدلی جا چکی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ نہ ہو صدرکی وردی کی طرح الیکشن میں بھی بار بار توسیع پاکستانی عوام کا مقدر بن جائے، ابھی تک کسی سیاسی پارٹی نے معطل ججز کی واپسی کے لیے کوئی خاص سخت بیان نہیں دیا نا ہی اقتدار میں آکے 3نومبر سے پہلے والی عدلیہ کو بحال کرنے کے وعدے کیے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔ججز کو نطر بند کر کے تمام ٹی وی چینلز کو بند کر کے مشرف پتہ نہیں کس قانون کی پاسداری کی بات کرتے ہیں۔۔ جب مشرف نے 3 نومبر کو 1973 کا آیئن معطل کر دیا تو کس آیئن کے تحت پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا۔۔۔۔۔۔۔۔؟اسمبلیاں کسی آیئن کے تحت کام کر رہی ہیں۔۔۔۔؟ایمرجنسی میں کس قانون کے تحت الیکشن کروائے جایئں گے یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب مشرف کے پاس بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمران کا چیلنج

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Saturday، 10 November 2007

10501.jpgعمران خان نے مشرف کو الیکشن میں مقابلے کا چینلج کر دیا ہے۔۔۔۔۔

خوش آمدید

تحرير کردہ: زینب بتاريخ: Wednesday، 7 November 2007

آب سب کو میرے بلاگ پر خوش آمدید۔۔۔مجھے لکھنا نہیں آتا بس ایک دوست کی دوستی کے تقاضے پورے کرنے کو بنا لیا۔۔۔۔اپنے بارے میں کیا لکھوں۔۔۔۔۔؟بس اتنا ہی کہ میں زینب ہوں اپنے نام کی ایک ہی ۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا


جملہ حقوق بحق منفرد محفوظ ہيں.